شبیر بلوچ کیس کا فیصلہ حکومتی مؤقف کی توثیق ہے: سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہید شبیر بلوچ قتل کیس میں عدالتی فیصلے سے حکومت کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کے نام پر تشدد اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دو سالہ قانونی جدوجہد کے بعد شہید شبیر بلوچ کے قتل کیس میں انصاف فراہم کر دیا گیا ہے اور عدالت کی جانب سے ملزمان کو سزا سنائے جانے سے حکومت بلوچستان کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر میں دورانِ ڈیوٹی شہید ہونے والے شبیر بلوچ کو بی وائے سی کے مشتعل مظاہرین نے ماہ رنگ لانگو کی قیادت میں پتھراؤ کرکے قتل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے ماہ رنگ لانگو اور ان کے ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پرامن احتجاج کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے، تشدد کو فروغ دینے اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دراصل دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے شہید شبیر بلوچ کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ شہید کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں، ان کے ہمدردوں، سہولت کاروں اور حمایتی عناصر کے خلاف ریاست کی کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

Keywords : Shabir Baloch Case, Sarfraz Bugti, Balochistan Government, Protest Violence