بلوچستان اسمبلی میں 119 ارب روپے سے زائد کے ضمنی بجٹ کی منظوری، ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات شامل
بلوچستان اسمبلی نے 119 ارب روپے سے زائد کے ضمنی بجٹ کی منظوری دے دی جس میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی دونوں اخراجات شامل ہیں۔ فنڈز مختلف محکموں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مالی سال کے اختتام سے قبل منصوبوں کو تیز کیا جا سکے۔
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے مالی سال کے ضمنی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے اربوں روپے کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی منظوری دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 61 ارب 29 کروڑ روپے سے زائد اور ترقیاتی مد میں 58 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کے ضمنی مطالبات زر منظور کیے گئے۔ اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 46 ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔
وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 21 مطالبات زر پیش کیے جن کا تعلق محکمہ صحت، توانائی، آبپاشی، ٹرانسپورٹ، صنعت و تجارت، ماہی گیری، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور بورڈ آف ریونیو سمیت مختلف محکموں سے تھا۔
توانائی کے شعبے کے لیے 28 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد، پی ڈی ایم اے کے لیے 12 ارب 67 کروڑ روپے اور محکمہ صحت کے لیے 5 ارب 40 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ کھیل، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت و سیاحت اور محتسب کے محکموں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے۔
ترقیاتی مد میں 25 مطالبات زر کے تحت 58 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی گئی۔ ان فنڈز میں مواصلات و تعمیرات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، کالجز و اعلیٰ تعلیم، صحت، جنگلات و جنگلی حیات، بلدیات، ٹرانسپورٹ، اسکول ایجوکیشن، خواتین ترقی اور شہری منصوبہ بندی کے منصوبے شامل ہیں۔
ترقیاتی مد میں بڑے منصوبوں کے لیے بھی خطیر رقوم منظور کی گئیں۔ ضمنی بجٹ کی منظوری کا مقصد مالی سال کے اختتام سے قبل ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنا اور فوری مالی ضروریات پوری کرنا ہے۔
اجلاس کے آخر میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

Keywords : Balochistan Assembly, Supplementary Budget, Development Spending, Provincial Finance