بلوچستان ترقی، اصلاحات اور استحکام کی ناقابلِ واپسی راہ پر گامزن ہے، میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور گورننس کے شعبوں میں نمایاں اصلاحات لائی گئی ہیں اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ’’بلوچستان کا عہد‘‘ کے عنوان سے نظم پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور شہداء کی قربانیوں کے احترام کے عزم کا اعادہ کیا۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان اصلاحات، میرٹ، بہتر طرز حکمرانی اور استحکام کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے اور ترقی کا یہ سفر اب نہیں رکے گا۔
صوبائی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور گورننس کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق 15 ہزار سرکاری اسکول فعال ہو چکے ہیں، 14 ہزار اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ 7 لاکھ 20 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے، جس سے شرح خواندگی میں اضافہ اور اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صحت کے شعبے میں 2 ہزار 800 سے زائد طبی عملہ بھرتی کیا گیا، 164 بنیادی مراکز صحت فعال بنائے گئے جبکہ کوئٹہ میں جدید ٹراما سینٹر اور کینسر انسٹیٹیوٹ بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں حاضری کی شرح 45 فیصد سے بڑھ کر 82 فیصد ہو گئی ہے اور فیصلوں کے لیے درکار وقت 92 دن سے کم ہو کر 13 دن رہ گیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے آئندہ منصوبوں میں کوئٹہ پیپلز ٹرین، فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، نئے کلاس رومز کی تعمیر، دور دراز علاقوں میں سولر منصوبوں، صاف پانی کی فراہمی اور بلوچستان کی طالبات کے لیے خصوصی اسکالرشپ پروگرام کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین کو تسلیم کرنے والی سیاسی قوتوں سے مذاکرات ممکن ہیں، تاہم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر "بلوچستان کا عہد" کے عنوان سے نظم بھی پیش کی، جس میں دہشت گردی کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، شہداء کی قربانیوں کے احترام اور پاکستان کے وقار کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

Keywords : Balochistan, Sarfraz Bugti, Reforms, Provincial Budget 2026-27