بلوچستان اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کا آغاز، بہتر طرز حکمرانی اور روزگار کے مواقع پر زور
بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگیا، جس میں حکومتی و اپوزیشن اراکین نے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صحافیوں کے روزگار کے تحفظ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگیا۔ اجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے فنانس بل 2026 ایوان میں پیش کیا۔
اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، وفاق کی جانب سے وسائل کی فراہمی، تعلیم، صحت، امن و امان اور روزگار کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ترقیاتی ثمرات کی منصفانہ تقسیم، بہتر طرز حکمرانی اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی اہمیت اجاگر کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا بیوروز کی بندش روزگار کے مواقع کو متاثر کرے گی اور اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور حکومت روزگار کے مواقع، ترقیاتی سرگرمیوں اور فلاحی منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے بجٹ کو موجودہ مالی حالات کے تناظر میں متوازن اور قابل عمل قرار دیتے ہوئے تعلیمی اصلاحات، اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور گرین و پنک بسوں جیسے فلاحی منصوبوں کا ذکر کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ امن و امان کی بہتری کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ صحت کے بجٹ میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور سی ٹی ڈی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے کہا کہ بلوچستان کو امن و امان کے چیلنجز درپیش ہیں اور پائیدار ترقی کے لیے امن کا قیام ناگزیر ہے۔ دیگر اراکین اسمبلی نے بھی ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار کے مواقع اور ضلعی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Keywords : Balochistan Budget, Budget Debate, Sarfraz Bugti, Employment Opportunities