وزیراعلیٰ بلوچستان کا کوہلو کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کا اعلان

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کوہلو کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کا اعلان

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک روزہ دورے پر کوہلو پہنچے جہاں قبائلی عمائدین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ نے کوہلو کی ترقی، امن و امان کی بہتری اور قبائلی تنازعات کے خاتمے کے لیے اہم اعلانات کیے، جن میں اضافی گرانٹ، شہری سہولیات کی بہتری اور نئی تحصیلوں کا قیام شامل ہے۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک روزہ دورے پر کوہلو پہنچے جہاں سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری اور قبائلی عمائدین نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما علی مدد جتک بھی موجود تھے۔ کوہلو پہنچنے پر پیپلز پارٹی کے کارکنان نے سڑکوں پر کھڑے ہو کر وزیراعلیٰ کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا۔


اس موقع پر وزیراعلیٰ نے قبائلی عمائدین، پارٹی کارکنان اور عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے شہید میر گل خان مری اور جسٹس محمد نواز مری کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے کوہلو کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوہلو ان کا دوسرا گھر ہے اور یہاں کے عوام سے ان کا دیرینہ تعلق ہے۔ انہوں نے کوہلو کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ڈسٹرکٹ کونسل کے رواں سال کے بجٹ میں 50 کروڑ روپے اضافی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوہلو شہر میں ٹف ٹائلز اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سب تحصیل رحمان آباد، سب تحصیل گرسنی اور سب تحصیل تمبو کو تحصیل کا درجہ دینے جبکہ یونین کونسل کرم خان شہر کو سب تحصیل کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ قبائلی دشمنیوں کا حل باہمی افہام و تفہیم سے ممکن ہے اور ایسے مسائل انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر حل نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ ان پر ایک سرکاری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک قبائلی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے جسے وہ پوری دیانتداری سے نبھانا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ قبائلی تنازعات کا مکمل خاتمہ کر کے علاقے کو مجموعی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ انہوں نے مری قبائل کو باشعور قرار دیتے ہوئے کہا کہ برادر بلوچ اقوام کے مابین تنازعات کو بھی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔


Related News

بارکھان اور گردونواح میں دو زلزلے، تین افراد زخمی، متعدد مکانات کو نقصان
بارکھان اور گردونواح میں دو زلزلے، تین افراد زخمی، متعدد مکانات کو نقصان
بلوچستان کے ضلع بارکھان، موسیٰ خیل، کوہلو اور رکھنی میں 5.2 اور 4.3 شدت کے دو زلزلوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن...
لوامز اوتھل میں دو روزہ بین الاقوامی اونٹ کانفرنس اختتام پذیر، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر زور
لوامز اوتھل میں دو روزہ بین الاقوامی اونٹ کانفرنس اختتام پذیر، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر زور
لوامز اوتھل میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی اونٹ کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں، غذائ...
یومِ عاشور: وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر کا سی پی او کوئٹہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ
یومِ عاشور: وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر کا سی پی او کوئٹہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان نے سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ کا دورہ کرکے یومِ عاشور کے...
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان اور سیکیورٹی انتظام...
یومِ عاشورہ: بلوچستان بھر میں سخت سیکیورٹی انتظامات، 32 ہزار سے زائد اہلکار تعینات
یومِ عاشورہ: بلوچستان بھر میں سخت سیکیورٹی انتظامات، 32 ہزار سے زائد اہلکار تعینات
بلوچستان میں یومِ عاشورہ کے جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے 32 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ نگرانی سی...
کوئٹہ: یومِ عاشورہ کا مرکزی جلوس سخت سکیورٹی میں برآمد، فضائی و روبوٹک نگرانی
کوئٹہ: یومِ عاشورہ کا مرکزی جلوس سخت سکیورٹی میں برآمد، فضائی و روبوٹک نگرانی
کوئٹہ میں یومِ عاشورہ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 3 ہزار اہلکار، 30 خصوصی دستے، فضائی نگرانی اور روبوٹک م...