گورنر بلوچستان کی جامعات کو اے آئی پر مبنی نصاب متعارف کرانے اور تحقیق کے فروغ کی ہدایت
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو مصنوعی ذہانت پر مبنی نصاب متعارف کرانے اور تعلیمی پروگراموں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی مراکز اور لیبارٹریوں کا قیام بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے جو نوجوانوں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنائے گا۔
کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے سرکاری جامعات کے تمام وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس/اے آئی) پر مبنی نصاب متعارف کروائیں اور تعلیمی پروگراموں کو روزگار کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ بنائیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب مستقبل کا تصور نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، مالیات اور طرزِ حکمرانی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی معیشتیں، بڑی کمپنیاں اور بین الاقوامی سرمایہ کار تیزی سے اے آئی اور آٹومیشن کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ کسی جامعہ کا وائس چانسلر مقرر ہونا صرف اعزاز نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری جامعات میں ایسی مضبوط بنیادیں رکھی جا رہی ہیں جو پالیسی سازوں اور منصوبہ سازوں کو فکری رہنمائی فراہم کریں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے نوجوان بیرونِ ملک ڈرائیور، مزدور یا سکیورٹی گارڈ کے بجائے اے آئی انجینئرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا سائنسدانوں اور محققین کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
گورنر بلوچستان نے خبردار کیا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی کو بروقت اختیار نہ کیا گیا تو قوم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غربت، محدود وسائل اور ماضی میں تعلیم پر کم سرمایہ کاری جیسے چیلنجز کے باوجود مؤثر منصوبہ بندی، دور اندیشی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اجتماعی کوششوں سے ان رکاوٹوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے جامعات کو ہدایت کی کہ تحقیقاتی مراکز کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے اور معاشی، زرعی اور سماجی مسائل کے پائیدار حل کے لیے عملی تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے سے وہ نہ صرف بہتر روزگار حاصل کر سکیں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی کاروباری مواقع پیدا کریں گے۔
گورنر جعفر خان مندوخیل نے بتایا کہ بلوچستان کی مختلف جامعات میں اے آئی مراکز اور جدید لیبارٹریوں کے قیام پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات محض علامتی نہیں بلکہ صوبے کے روشن، ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری ہیں، جو بلوچستان کو جدت، اختراع اور ڈیجیٹل مہارت کا مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

Keywords : Artificial Intelligence, Higher Education, Digital Skills, Research Innovation