: مجوزہ میڈیا پالیسی: حکومت بلوچستان کا سی پی این ای کو مشاورت کے لیے کوئٹہ آنے کی دعوت
سی پی این ای نے مجوزہ میڈیا پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف، میرٹ پر مبنی نظام اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا مطالبہ کیا حکومت بلوچستان نے تحفظات کا خیرمقدم کرتے ہوئے سی پی این ای کو کوئٹہ آکر تجاویز دینے کی دعوت دی اور پالیسی میں بہتری کے لیے ہر مثبت سفارش پر غور کی یقین دہانی کرائی۔
کوئٹہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے حکومت بلوچستان کی مجوزہ میڈیا پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی کے بعض نکات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے مطابق مجوزہ پالیسی میں پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے مساوی مواقع، سرکاری اشتہارات کی شفاف اور میرٹ پر مبنی تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔
سی پی این ای کے تحفظات پر ردعمل دیتے ہوئے معاونِ خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ور صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور مجوزہ میڈیا پالیسی کے حوالے سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت میڈیا کے نمائندہ اداروں سے تصادم نہیں بلکہ تعمیری مشاورت کی خواہاں ہے۔ اگر سی پی این ای کو مجوزہ میڈیا پالیسی پر کسی بھی نوعیت کے تحفظات یا تجاویز ہیں تو حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
شاہد رند نے سی پی این ای کی قیادت کو کوئٹہ آکر حکومت بلوچستان سے تفصیلی مشاورت کرنے اور اپنی سفارشات پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ نئی میڈیا پالیسی کو انہی تجاویز کی روشنی میں مزید بہتر، متوازن، شفاف اور قابلِ عمل بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا مقصد کسی بھی میڈیا ادارے یا شعبے کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا نہیں بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، شفاف اور میرٹ پر مبنی میڈیا فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت کے مطابق پالیسی میں بہتری کے لیے تمام مثبت تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا اور مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
Balochistan Media Policy, CPNE, Shahid Rind, Government of Balochistan