نیند میں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟ ماہرین نے اصل وجوہات اور حل بتا دیے

نیند میں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟ ماہرین نے اصل وجوہات اور حل بتا دیے

اکثر افراد شکایت کرتے ہیں کہ وہ سوتے وقت برے یا ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں، جو نیند کو بے سکون اور ذہن کو پریشان کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خواب دراصل ہمارے لاشعور کی عکاسی ہوتے ہیں اور نیند میں آنے والے برے خواب ذہنی دباؤ، خوف اور روزمرہ کی پریشانیوں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جب انسان دن بھر تناؤ، غصے یا خوف میں مبتلا رہتا ہے تو یہی منفی احساسات نیند کے دوران خوابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ذہنی دباؤ دماغ کو مکمل طور پر پرسکون نہیں ہونے دیتا، جس کی وجہ سے نیند کے دوران ڈراؤنے مناظر دیکھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا غیر منظم معمول بھی برے خوابوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دیر رات تک جاگنا، موبائل فون یا سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال دماغ کو مسلسل متحرک رکھتا ہے، جس سے نیند گہری نہیں ہو پاتی اور خواب پریشان کن ہو جاتے ہیں۔ سونے سے پہلے بھاری یا مصالحے دار کھانا کھانے سے نظامِ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر نیند پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کو ایسی غذاؤں کے بعد بے چین نیند اور ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خوفناک فلمیں دیکھنا، منفی خبریں سننا، ذہنی صدمہ، یا بعض مخصوص ادویات بھی نیند میں برے خوابوں کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر اگر یہ عادت سونے سے پہلے ہو۔  برے خوابوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سونے سے پہلے ذہن کو پرسکون کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہلکی واک، مثبت سوچ، دعا یا تلاوت، اور گہرے سانس لینے کی مشقیں نیند کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نیند کا ایک باقاعدہ وقت مقرر کرنا، سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون سے دور رہنا اور ہلکی غذا کا استعمال برے خوابوں میں واضح کمی لا سکتا ہے۔ اگر برے خواب مسلسل آتے رہیں اور روزمرہ زندگی یا ذہنی صحت کو متاثر کرنے لگیں تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا بہترین حل سمجھا جاتا ہے۔


نیند میں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟ ماہرین نے اصل وجوہات اور حل بتا دیے

رپورٹ: اقصی بلوچ

اکثر افراد شکایت کرتے ہیں کہ وہ سوتے وقت برے یا ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں، جو نیند کو بے سکون اور ذہن کو پریشان کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خواب دراصل ہمارے لاشعور کی عکاسی ہوتے ہیں اور نیند میں آنے والے برے خواب ذہنی دباؤ، خوف اور روزمرہ کی پریشانیوں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جب انسان دن بھر تناؤ، غصے یا خوف میں مبتلا رہتا ہے تو یہی منفی احساسات نیند کے دوران خوابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ذہنی دباؤ دماغ کو مکمل طور پر پرسکون نہیں ہونے دیتا، جس کی وجہ سے نیند کے دوران ڈراؤنے مناظر دیکھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا غیر منظم معمول بھی برے خوابوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دیر رات تک جاگنا، موبائل فون یا سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال دماغ کو مسلسل متحرک رکھتا ہے، جس سے نیند گہری نہیں ہو پاتی اور خواب پریشان کن ہو جاتے ہیں۔
سونے سے پہلے بھاری یا مصالحے دار کھانا کھانے سے نظامِ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر نیند پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کو ایسی غذاؤں کے بعد بے چین نیند اور ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خوفناک فلمیں دیکھنا، منفی خبریں سننا، ذہنی صدمہ، یا بعض مخصوص ادویات بھی نیند میں برے خوابوں کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر اگر یہ عادت سونے سے پہلے ہو۔

 

 برے خوابوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سونے سے پہلے ذہن کو پرسکون کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہلکی واک، مثبت سوچ، دعا یا تلاوت، اور گہرے سانس لینے کی مشقیں نیند کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ نیند کا ایک باقاعدہ وقت مقرر کرنا، سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون سے دور رہنا اور ہلکی غذا کا استعمال برے خوابوں میں واضح کمی لا سکتا ہے۔
اگر برے خواب مسلسل آتے رہیں اور روزمرہ زندگی یا ذہنی صحت کو متاثر کرنے لگیں تو ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا بہترین حل سمجھا جاتا ہے۔


Related News

وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کو درپیش تعلیمی بحران ختم کرتے ہوئے ان کی ڈگری کی حیثیت بحال کرنے او...
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
سول ہسپتال کوئٹہ سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے احتجاج ختم کرتے ہوئے او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز اور دی...
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت اجلاس میں انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی، حفاظتی ٹیک...
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق اور پولیو پروگرام کے اعلیٰ حکام نے چیف سیکریٹری بلوچ...
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
ایمرجنسی آپریشنز سینٹر بلوچستان کی جانب سے 13 جولائی سے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں سات روزہ خصوصی پولیو بوس...
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صحت کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمی...