کالم

خوشبو والی اگربتیاں صحت کے لیے خطرناک

خوشبو والی اگربتیاں صحت کے لیے خطرناک

پاکستان میں اکثر مذہبی تقریبات یا کسی کی وفات کے موقع پر اگربتیاں جلائی جاتی ہیں۔ لوگ انہیں ایئر فریشنر کی طرح بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگربتی کا دھواں صرف خوشبو نہیں دیتا، یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ خاص طور پر بچے، بوڑھے اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق اگربتی کے دھوئیں سے سانس کی بیماریاں، الرجی، سر درد اور جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پلمونولوجسٹس کے مطابق اگربتی کا دھواں تمباکو نوشی کے دھوئیں کے برابر نقصان دہ ہے۔ ایک گرام اگربتی سے تقریباً 45 ملی گرام باریک ذرات نکلتے ہیں، جبکہ سگریٹ سے صرف 10 ملی گرام ذرات خارج ہوتے ہیں۔ یعنی اگربتی سگریٹ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ اگربتی میں کون سے خطرناک اجزاء ہیں؟ باریک ذرات (PM 2.5): پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ: خون میں آکسیجن کم کر دیتا ہے اور سر درد، تھکن یا متلی پیدا کر سکتا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ: دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور ایلڈیہائڈز: آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن اور طویل مدتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پولی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن: خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے؟ بچے، بوڑھے، دمہ اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اگربتی کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لمبے عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ احتیاطی تدابیر ماہرین کے مطابق اگربتی کا دھواں صحت کے لیے خطرناک ہے، خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کی بیماریوں جیسے دمہ یا کمزور پھیپھڑوں والے افراد کے لیے۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو طویل عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے اگربتیاں جلاتے وقت کمرے میں ہوا کی مناسب آمدورفت رکھنی چاہیے، بچوں اور بوڑھوں کو دھویں والے کمرے میں نہ رکھیں اور زیادہ دھواں دینے والی اگربتیاں صرف کم مقدار میں استعمال کریں۔

کیا آپ کا فون آپ کی باتیں سن رہا ہے؟ — حقیقت، کاروبار، سازشی نظریات اور تحفظ

کیا آپ کا فون آپ کی باتیں سن رہا ہے؟ — حقیقت، کاروبار، سازشی نظریات اور تحفظ

یہ خیال کہ ٹیک کمپنیاں ہماری باتیں خفیہ طور پر ریکارڈ کرتی ہیں تاکہ ہم پر ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھا سکیں، ایک مقبول سازشی نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمارٹ فونز صرف مخصوص آوازیں جیسے "Hey Google" یا "Hey Siri" سننے کے لیے فعال رہتے ہیں، اور جب یہ آواز شناخت ہوتی ہے تو فون ایکٹیو ہو جاتا ہے۔ کمپنیاں ڈیٹا اینالیٹکس اور پرسنلائزیشن پر فوکس کرتی ہیں، نہ کہ ہماری باتوں کی ریکارڈنگ پر۔ تاہم، اگر کسی ایپ میں مائیک کی اجازت ہو اور وہ نقصان دہ ہو، تو وہ سن سکتی ہے۔ اپنے فون کی حفاظت کے لیے ضروری ایپس کی اجازتیں بند کریں، بیدا ضرورت فیچرز کو آف کریں اور سیکیورٹی اپڈیٹس کے ساتھ فون کو اپ ڈیٹ رکھیں۔

تنہائی میں خود سے باتیں کرنا: نفسیات کے مطابق ذہانت اور ذہنی طاقت کی علامت

تنہائی میں خود سے باتیں کرنا: نفسیات کے مطابق ذہانت اور ذہنی طاقت کی علامت

تنہائی میں خود سے بات کرنا نفسیاتی طور پر ایک مثبت اور فائدہ مند عمل ہے جو ذہانت، تخلیقی صلاحیت، جذباتی توازن اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ عادت ایک متحرک اور منظم ذہن کی عکاس ہے۔

سر رابرٹ سینڈمن اور جدید کوئٹہ کی تشکیل

سر رابرٹ سینڈمن اور جدید کوئٹہ کی تشکیل

سر رابرٹ گرووز سینڈمن ایک برطانوی افسر تھے جنہوں نے طاقت کے بجائے مکالمے، جرگہ نظام اور باہمی اعتماد کے ذریعے بلوچستان میں نظم و استحکام کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں کوئٹہ ایک قبائلی بستی سے ایک منظم سیاسی، فوجی اور تجارتی مرکز میں تبدیل ہوا۔ سینڈمن اسپتال اور سینڈمن اسکول جیسے ادارے آج بھی ان کے وژن کی عملی مثال ہیں۔

کوئٹہ کی بدلتی سردیاں

کوئٹہ کی بدلتی سردیاں

گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کوئٹہ کی سردیاں اب اتنی شدید نہیں رہیں۔ برفباری اور سردی کی شدت میں کمی کا سبب ماحولیاتی تبدیلی، درختوں کی کٹائی، بڑھتی ہوئی آبادی، فضائی آلودگی اور بے ہنگم تعمیرات ہیں۔ سالانہ بارش اور برفباری میں کمی نے سردیوں کی شدت مزید کم کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق شجرکاری، فضائی آلودگی میں کمی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی ماحول دوست رویوں سے موسمی اثرات کو 25 سے 30 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے، اور کوئٹہ کی پرانی سردیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری کو عموماً نوکریوں کی کمی سے جوڑا جاتا ہے، مگر زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ تعلیم اور لیبر مارکیٹ کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ ہر سال ہزاروں گریجویٹس عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، لیکن زیادہ تر روایتی شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں، جبکہ آئی ٹی، انجینئرنگ اور ٹیکنیکل فیلڈز میں اسکلز کی کمی پائی جاتی ہے۔ مؤثر کیریئر گائیڈنس، اسکل بیسڈ ایجوکیشن اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی سمت اختیار کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری: ستر سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

پی آئی اے کی نجکاری: ستر سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

23 دسمبر 2025 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری مکمل ہوئی، جس کے تحت عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خرید لیے۔ سخت مقابلے کے بعد ہونے والے اس تاریخی معاہدے کو پاکستان کی دو دہائیوں میں سب سے بڑی نجکاری قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی انتظامیہ نے طیاروں کی تعداد بڑھانے اور ایئرلائن کو دوبارہ خطے کی بہترین فضائی کمپنیوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت 25 فیصد حصص اپنے پاس برقرار رکھے گی۔ یہ قدم خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ایٹم کی تھرتھراہٹ تک

وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ایٹم کی تھرتھراہٹ تک

یہ مضمون وقت کی پیمائش کے ارتقائی سفر کو بیان کرتا ہے، جہاں انسان نے ابتدا میں سورج کے سائے اور فطری علامات سے وقت کو سمجھا، پھر مکینیکل اور کوارٹز گھڑیوں کے ذریعے اسے ناپنے لگا، اور آخرکار ایٹمی گھڑیوں تک پہنچا۔ یہ سفر انسانی سائنسی ترقی، نظم و ضبط اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد کو واضح کرتا ہے، جو آج کی دنیا میں وقت کی انتہائی درست پیمائش پر قائم ہے۔

شخصیت اور کردار: سائنسی اور اسلامی نقطۂ نظر

شخصیت اور کردار: سائنسی اور اسلامی نقطۂ نظر

یہ تحریر شخصیت اور کردار کے فرق اور باہمی تعلق کو واضح کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شخصیت انسان کی فطری عادتوں اور مزاج کا مجموعہ ہوتی ہے، جبکہ کردار اس کی اخلاقی خوبیوں اور عملی رویّوں سے بنتا ہے۔ سائنس کے مطابق انسان کی عادتیں اور کردار وقت، تربیت اور مسلسل عمل سے بدلے جا سکتے ہیں، جبکہ اسلام میں اچھے اخلاق کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی بہترین کردار کی عملی مثال ہے۔ تحریر کا نتیجہ یہ ہے کہ شخصیت انسان کی پہچان بنتی ہے، مگر کردار اسے عزت، اعتماد اور مقام دلاتا ہے۔

منفی خبروں کا زہنی صحت پر اثر

منفی خبروں کا زہنی صحت پر اثر

اکیسویں صدی کو معلومات کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ معلومات ڈیجیٹل ذرائع سے سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہیں۔ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دنیا پہلے سے کہیں زیادہ جُڑی ہوئی ہے۔ خبریں تیزی اور وضاحت کے ساتھ پہنچتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور اے آئی جیسے ڈیجیٹل ٹولز کے آنے کے بعد اطلاعات کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس عہد کو اب "پوسٹ ٹروتھ" کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں معلومات کی فراہمی تیز ہو چکی ہے، وہیں "میس انفارمیشن" اور "ڈس انفارمیشن" بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ منفی خبروں کی کثرت نے میڈیا ناظرین اور سامعین کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ میڈیا نفسیات کے شعبے میں کی گئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ منفی خبروں کا باقاعدہ اور مسلسل سامنا جذباتی فلاح و بہبود، ذہنی تصورات، اور زندگی کے معیار پر اثر ڈال سکتا ہے۔ منفی خبروں کے سب سے فوری اثرات میں ڈپریشن اور اینگزائٹی میں اضافہ شامل ہے۔ تشدد، جرائم، سیاسی و سماجی تنازعات، اور قدرتی آفات کی خبریں ایسے واقعات ہیں جو ماہرین نفسیات کے مطابق جسم کے دباؤ کے ردعمل کو متحرک کرتی ہیں اور انسان کے اندر مسلسل خطرے یا خوف کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ واقعات ناظرین کے ماحول سے دور ہوتے ہیں، پھر بھی اکثر منفی خبریں اپنی شدت کی وجہ سے خطرے کو ذاتی محسوس کروا سکتی ہیں۔ مسلسل منفی خبریں وقت کے ساتھ ساتھ مستقل دباؤ، ڈپریشن، اور طویل مدتی جذباتی تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ سائیکالوجی ٹوڈے میگزین میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سیکس کے پروفیسر گراہم ڈیوی کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اینگزائٹی کے ماہر ہیں۔ ان کی تحقیق میں تین مختلف نیوز بلیٹن تیار کیے گئے: ایک میں صرف منفی خبریں، دوسرے میں مثبت خبریں، اور تیسرے میں غیر جانبدار خبریں شامل تھیں۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو منفی خبریں دکھائی گئیں، ان میں دیگر افراد کے مقابلے میں اداسی اور اضطراب کی علامات زیادہ واضح تھیں۔ خبروں سے باخبر رہنا ہر انسان کا حق ہے، اور ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ حالات سے آگاہ رہیں۔ لیکن باخبر رہنے اور معلومات پھیلانے کا طریقہ اعتدال پر مبنی ہونا چاہیے۔ کئی نیوز چینلز منفی خبروں کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں، اور یہی رویہ اکثر عام افراد بھی سوشل میڈیا پر اپنانے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی بھی خاص ذمہ داری ہے کہ وہ صرف منفی خبریں نشر کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ مثبت، تعمیری، اور حل پر مبنی خبریں بھی کور کرنے کی کوشش کریں تاکہ توازن قائم ہو سکے۔ میڈیا کا کام خوف یا تشویش پیدا کرنا نہیں، بلکہ معلومات کے ساتھ سماجی شعور اور امید بھی قائم رکھنا ہے۔ منفی خبروں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات کا استعمال بند کر دیا جائے۔ اسی طرح، سونے سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا کا استعمال بھی محدود کریں، کیونکہ یہ بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کر سکتا ہے۔

شخصیت اور کردار میں بنیادی فرق کیا ہے؟

شخصیت اور کردار میں بنیادی فرق  کیا ہے؟

کردار اور شخصیت انسان کی زندگی کے دو بہت اہم حصے ہیں جو اس کے رویّے، سوچ اور دوسروں سے برتاؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ شخصیت سے مراد انسان کی فطری عادتیں، بات کرنے کا انداز اور مزاج ہوتا ہے، جیسے کوئی انسان خاموش ہے یا باتونی، پُرسکون ہے یا جلد غصہ کرتا ہے، جبکہ کردار انسان کی اچھی یا بری اخلاقی صفات کو کہتے ہیں، جیسے سچ بولنا، ایمانداری، صبر، ذمہ داری اور دوسروں کی مدد کرنا۔ سائنس کے مطابق شخصیت کا کچھ حصہ انسان کو پیدائش سے ملتا ہے، جو جینز کے ذریعے آتا ہے، لیکن اس پر گھر کا ماحول، والدین کی تربیت، تعلیم، دوست اور معاشرہ بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں سیکھنے اور بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جسے برین پلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے، اسی وجہ سے انسان محنت اور مسلسل کوشش سے اپنی عادتیں اور رویّے بہتر بنا سکتا ہے۔ سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ کردار کسی ایک دن میں نہیں بنتا بلکہ وقت کے ساتھ بنتا ہے، کیونکہ جب انسان بار بار اچھے کام کرتا ہے تو وہ کام اس کی عادت بن جاتے ہیں، اور دماغ میں مضبوط راستے بن جاتے ہیں جو اچھے رویّے کو مستقل بنا دیتے ہیں۔ نیورو سائنس کے مطابق دماغ کا اگلا حصہ انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے، جذبات پر قابو رکھنے اور اچھے فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسلام میں کردار کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اچھے اخلاق سکھانے کے لیے بھیجا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اچھا انسان بننا کتنا ضروری ہے۔ قرآن اور حدیث میں سچائی، صبر، نرمی، رحم دلی، انصاف اور عاجزی کی بار بار تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ یہ خوبیاں نہ صرف انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ معاشرے میں امن اور اعتماد بھی پیدا کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین مثال ہے، آپ ﷺ نے ہمیشہ سچ کہا، معاف کیا، صبر سے کام لیا اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوئے۔ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر انسان میں کوئی کمزوری ہو تو وہ خود احتسابی اور کوشش کے ذریعے خود کو بہتر بنا سکتا ہے، کیونکہ اللہ کوشش کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جب ہم سائنس اور اسلام دونوں کو ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اپنی شخصیت اور کردار کو بہتر بنا سکتا ہے اگر وہ شعور، محنت اور مسلسل عمل کو اپنائے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شخصیت انسان کو پہچان دیتی ہے، مگر کردار اسے عزت، اعتماد اور مقام دلاتا ہے، کیونکہ لوگ خوبصورت باتوں سے نہیں بلکہ اچھے کاموں اور اچھے اخلاق سے یاد رکھتے ہیں، اور یہی ایک اچھا انسان ہونے کی اصل پہچان ہے

حسد: ایک خاموش اندرونی جنگ

حسد: ایک خاموش اندرونی جنگ

یہ تحریر حسد کو ایک پیچیدہ مگر فطری انسانی جذبہ قرار دیتی ہے جو دوسروں کی کامیابی دیکھ کر جنم لیتا ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ حسد دو طرح کا ہو سکتا ہے: تعمیری، جو انسان کو خود کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے، اور تباہ کن، جو منفی خیالات، ذہنی دباؤ اور رشتوں میں خرابی کا سبب بنتا ہے۔ سائنسی اور نفسیاتی پہلوؤں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ خود شناسی، شکر گزاری اور جذباتی ذہانت کے ذریعے حسد پر قابو پا کر ذہنی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی داستان

پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی داستان

یہ تحریر پولیو کے خلاف عالمی جدوجہد کی جامع اور متاثر کن تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں پولیو کی تباہ کاریوں، ویکسین کی ایجاد، اور عالمی سطح پر کی گئی کوششوں کا ذکر ہے جن کے باعث دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد سے زائد کمی آئی۔ آج پولیو صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے، جہاں سیکیورٹی اور رسائی جیسے چیلنجز کے باوجود پولیو ورکرز انتھک محنت کر رہے ہیں۔ تحریر اس امید پر ختم ہوتی ہے کہ اجتماعی عزم، ویکسینیشن اور عوامی تعاون سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہے اور آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند، پولیو فری مستقبل دیا جا سکتا ہے۔

ایگو انسان کے اندر کی خاموش جنگ

ایگو انسان کے اندر کی خاموش جنگ

یہ تحریر انسان کی اندرونی جدوجہد اور ایگو کے کردار کو واضح کرتی ہے۔ مصنفہ کے مطابق ایگو بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری بلکہ ایک طاقت ہے جو اگر متوازن رہے تو انسان کو اعتماد، ہمت اور خود شناسی عطا کرتی ہے، اور اگر حد سے بڑھ جائے تو انسان کو حقیقت سے دور کر کے اندر سے کمزور بنا دیتی ہے۔ فرائیڈ کے نظریے، ذاتی تجربات اور علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی کی روشنی میں یہ تحریر اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اصل کامیابی ایگو کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنے اور مثبت سمت میں استعمال کرنے میں ہے۔

خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین  بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران بارش معمول سے 41.9 فیصد کم رہی جبکہ درجہ حرارت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صورتحال کے باعث کوئٹہ سمیت متعدد اضلاع میں خشک سالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس سے زراعت، لائیو اسٹاک اور زیرِ زمین پانی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے پیشگی اقدامات اور فوری حکومتی توجہ پر زور دیا ہے۔

بلوچیتھیریم , زمین پر چلنے والا سب سے بڑا ممالیہ

بلوچیتھیریم , زمین پر چلنے والا سب سے بڑا ممالیہ

پیراسیریتھیرئم، جسے تاریخی طور پر Baluchitherium بھی کہا جاتا ہے، اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا زمینی ممالیہ تھا۔ یہ بے سنگ گینڈے کی نسل سے تعلق رکھنے والا دیوہیکل جانور تقریباً 34 سے 23 ملین سال قبل ایشیا کے وسیع علاقوں میں پایا جاتا تھا۔ بلوچستان کے بگٹی ہلز سے ملنے والی اس کی باقیات نے دنیا بھر میں اسے ایک تاریخی اہمیت دی۔ 7.5 سے 8 میٹر اونچا اور تقریباً 20 ٹن وزنی یہ جانور اونچے درختوں کے پتے کھا کر زندہ رہتا تھا اور اپنی منفرد جسمانی ساخت کے باعث ڈائنوسارز کے بعد زمین کا سب سے بڑا چرندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام آج Paraceratherium تسلیم کیا جاتا ہے۔

کیا بلوچستان میں ماہی گیری صرف پیشہ ہے ؟

کیا بلوچستان میں ماہی گیری صرف پیشہ ہے ؟

بلوچستان کا ساحل پاکستان کا سب سے طویل اور منفرد ساحل ہے، جو نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ اپنی تہذیبی روایت اور تاریخی ورثے کے باعث بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں سمندر صدیوں سے ایک مرکزی قوت کے طور پر موجود رہا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ماہی گیری صرف روزگار نہیں یہ تاریخ، ثقافت اور شناخت ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقے، جنہیں collectively مکران کوسٹ کہا جاتا ہے، ہزاروں سال پرانی سمندری تہذیبوں کا مرکز رہے ہیں۔ عرب، ایرانی، یونانی اور برصغیر کے قدیم تاجر اس خطے کے ساحلوں سے گزر کر تجارت کرتے تھے۔ ان کے سفرناموں میں یہاں کے ماہی گیروں، ان کی کشتیوں، اور خشک مچھلی کے کاروبار کا بارہا ذکر ملتا ہے۔ مقامی قبائل جیسے مہر، مید، بیزنجو اور کلمتی نسل در نسل سمندر سے رزق کماتے آئے ہیں۔ یہ پیشہ محض معاش کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل ہے جس نے مقامی آبادی کی زندگیوں کا رخ متعین کیا۔ سمندر کی قربت نے بلوچستان میں ایک منفرد ثقافت کو جنم دیا ہے۔ مکرانی لوگ اپنی موسیقی، رقص، زبان اور خوراک میں سمندر کی جھلک رکھتے ہیں۔ "لیوا"  جیسے لوک رقص، کشتی روانہ کرنے کی دعائیں، اور ساحلی میلوں میں گائے جانے والے گیت ماہی گیری کے ثقافتی رنگ کو نمایاں کرتے ہیں۔ روایتی کشتی سازی بھی اس ثقافت کا اہم حصہ ہے، جس میں لکڑی کی کشتیاں ہاتھ سے تیار کی جاتی ہیں اور مقامی فنون کا عملی نمونہ ہوتی ہیں۔ معیشت کے لحاظ سے ماہی گیری بلوچستان کے ساحلی اضلاع گوادر، پسنی، اورماڑا اور جیوانی کا سب سے بڑا پیشہ ہے۔ ہزاروں خاندان اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ جھینگا، سیر، سرمئی، ٹونا اور دیگر قیمتی مچھلیاں عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، جو صوبے اور ملک کے لیے زرِمبادلہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اگرچہ جدید ٹرالرنگ، رسائی کی کمی، اور انفرا اسٹرکچر کی کمزوری جیسے مسائل موجود ہیں، پھر بھی یہ صنعت بلوچستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بلوچستان کے ماہی گیر صرف مچھلی پکڑنے والے لوگ نہیں وہ سمندر کے محافظ اور اس کے مزاج کو سمجھنے والے صدیوں پرانے علم کے وارث ہیں۔ ان کی زبان میں سمندری ہواؤں کے نام، پانی کے بہاؤ کی پہچان، اور مچھلیوں کی حرکات کا مشاہدہ نسلوں کی کمائی ہوئی دانش ہے۔ مقامی لوگ اپنی شناخت سمندر سے جوڑتے ہیں۔ ان کے لباس، خوراک، رہن سہن اور روزمرہ زندگی کا ہر رنگ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سمندر ان کی اجتماعی پہچان کا بنیادی حصہ ہے۔ آج گوادر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بندرگاہی اہمیت، CPEC کے منصوبے، اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد نے بلوچستان کی ماہی گیری کو نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ فش پراسیسنگ، ایکسپورٹ زونز، اور جدید کشتی سازی کے منصوبے اس شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ اگر حکومت اس صنعت کو پائیدار اصولوں پر ترقی دے تو بلوچستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سمندری خوراک کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں ماہی گیری محض ایک معاشی سرگرمی یا پیشہ نہیں ہے، بلکہ تاریخ، ثقافت، ورثے اور شناخت کا گہرا امتزاج ہے۔ سمندر یہاں کے لوگوں کے لیے زندگی کا استعارہ ہے۔رزق بھی، روایت بھی، اور پہچان بھی۔ یہ صنعت نہ صرف صوبے کی بقا کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے مستقبل کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی ماہی گیری کو سمجھنا، صرف ایک پیشے کو سمجھنا نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی روح کو جاننا ہے۔

بلوچستان ، مختلف زبانوں ، مذاہب ، ثقافتوں اور موسموں کی سرزمین ۔

بلوچستان ، مختلف زبانوں ، مذاہب ، ثقافتوں اور موسموں کی سرزمین ۔

بلوچستان بلوچ سرزمین اور ایک کثیر القومی صوبہ ہے، جو اپنی رنگارنگ ثقافت، زبانوں کے تنوع اور جغرافیائی خوبصورتی کے باعث ایک زندہ تصویر کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ایک ساتھ کئی زبانوں، تہذیبوں، ثقافتوں، مذاہب اور موسموں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں مردم شماری 2017 کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ  زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بلوچی، براہوی، ہزارگی، پشتو، پنجابی، سندھی اور اردو ۔ سبھی زبانیں یہاں اپنی اپنی خوشبو بکھیرتی ہیں۔ یہی مختلف رنگ بلوچستان کو ثقافتی ہم آہنگی کا گہوارہ بناتے ہیں۔  یہاں کا ہر شخص اپنی مادری زبان کے ساتھ دو یا تین دیگر زبانیں بھی روانی سے بولتا ہے، جو لسانی ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہاں کے موسم بھی زبانوں کی طرح متنوع ہیں ۔ نوشکی اور سبی کی تپتی دھوپ، زیارت کی برف باری، قلات کی سرمست ہوائیں اور گوادر کی سمندری ہوا، یہ سب بلوچستان کی زمین پر ایک ہی وقت میں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ بلوچستان کی موسیقی بھی اسی رنگارنگ مزاج کی عکاس ہے۔ بلوچی ساز ہو، ہزارگی دمبورہ، پشتو رباب یا براہوی طبلہ۔  ہر راگ میں صوبے کی خوشبو اور پہاڑوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ صوبے کا دارالحکومت کوئٹہ خود ایک منفرد کہانی ہے۔ یہ شہر منی بلوچستان بھی ہے اور منی پاکستان بھی۔ یہاں بلوچ، ہزارہ، پشتون، پنجابی، سندھی، ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی اور اردو بولنے والے سب ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں، جو مذہبی رواداری کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں اور شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کے لوگ بھی اس شہر کا حصہ ہیں، جو اسے ایک ملی رنگ دیتے ہیں۔ کوئٹہ ایک نیم قبائلی اور نیم شہری معاشرے کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کے بازار، گلیاں، زبانیں اور چہرے سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زبانوں نے ایک دوسرے پر اثر ڈالا ہے، رسم و رواج نے ایک دوسرے سے رنگ لیا ہے، اور کھانوں سے لے کر موسیقی تک ہر چیز میں ثقافتی آمیزش نظر آتی ہے۔ مختلف ہونا کم تر ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ بلوچستان اسی سچائی کی جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں فرق کو کمزوری نہیں بلکہ خوبصورتی سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان کا ہر خطہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے ۔ کہیں صحرا پھیلے ہیں، کہیں سبز وادیوں کی بہار ہے، کہیں برف پوش پہاڑ ہیں تو کہیں نیلا ساحلِ سمندر۔ یہ صوبہ قدرت کے ہر رنگ کا حسین مجموعہ ہے۔  یہ سرزمین صرف صوبہ نہیں بلکہ تہذیبوں کا سنگم ہے۔ یہاں کے آثارِ قدیمہ میں مہرگڑھ، انگریز، مغل، ایرانی اور وسط ایشیائی تہذیبوں کے نشانات ملتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں بیک وقت جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے کل رقبے کا چوالیس فیصد رکھنے والا یہ صوبہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ ثقافتی اور تاریخی دولت کا بھی امین ہے۔ قدیم طرزِ قبائلی زندگی سے لے کر جدید ہائبرڈ کلچر تک، یہ صوبہ پورے خطے کی کہانی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بلوچستان نہ صرف پاکستان کی ثقافتی بنیاد ہے بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ملک کی وحدت، وسعت اور ہم آہنگی جھلکتی ہے۔

سیاہ اور سفید جانور فطرت کے رنگوں سے الگ دنیا

سیاہ اور سفید جانور فطرت کے رنگوں سے الگ دنیا

دنیا رنگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کہیں مور اپنے نیلے سبز پروں سے نظارے بکھیرتا ہے تو کہیں سبز مینڈک، رنگ برنگی مچھلیاں پانی میں تیرتی ہیں۔ قدرت نے ہر جانور کو کسی نہ کسی رنگ سے نوازا ہے ، ان کے رنگوں کے پیچھے چھپی کہانیاں بہت دلچسپ ہیں۔جو نہ صرف ان کی پہچان ہے بلکہ اس ماحول کے مطابق ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے۔ مگر کچھ جانور ایسے بھی ہیں جن میں یہ شوخ رنگ نہیں ہوتے، ان کے جسم صرف سیاہ اور سفید ہوتے ہیں۔جو نہ صرف ان کی پہچان ہے بلکہ اس ماحول کے مطابق ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے۔ ایسے جانوروں میں سب سے نمایاں نام زیبرا کا ہے، جس کی سیاہ اور سفید دھاریاں ہمیشہ سے انسانوں کے لیے تجسس کا باعث رہی ہیں۔ کیا یہ دھاریاں صرف خوبصورتی ہیں یا ان کے پیچھے سائنس کا کوئی راز چھپا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔زیبرا کے سیاہ اور سفید رنگ فطرت کی حیران کن ترکیب زیبرا زیادہ تر افریقہ کے میدانوں اور جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ یہ گھوڑے کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی منفرد رنگت کی وجہ سے دوسروں سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ زیبرا کا جسم مضبوط، ٹانگیں لمبی اور دوڑنے میں تیز ہوتی ہیں۔ وہ خطرہ محسوس کرتے ہی تیزی سے بھاگ نکلتا ہے، اور اس کی رفتار شکاری جانوروں کو دھوکہ دے دیتی ہے۔زیبرا ایک سماجی جانور ہے۔ یہ جھنڈ میں رہنا پسند کرتا ہے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ جب جھنڈ پر کوئی خطرہ آتا ہے تو زیبرا ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں اور مل کر دشمن سے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیبرا کے جسم پر بنی سیاہ اور سفید لکیریں صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتیں۔انگلینڈ کی برسٹل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیبرا کی دھاریاں کیڑوں کے کاٹنے سے بچاتی ہیں۔ماہرین نے دیکھا کہ خون چوسنے والی مکھیاں جیسے ہارس فلائیز دھاری دار جسم کے قریب آ کر الجھ جاتے ہیں،کیونکہ ان مکھیوں کی آنکھیں کمزور ہوتی ہیں۔ جب وہ زیبرا کو دیکھتے ہیں تو ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی ٹھوس جسم ہے یا روشنی کا پیٹرن، اور یوں وہ اس پر بیٹھنے کے بجائے اڑ جاتی ہیں۔یعنی زیبرا کی سیاہ سفید رنگت اس کے لیے ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب زیبرے ریوڑ کی شکل میں دوڑتے ہیں تو ان کی دھاریاں ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔دور سے دیکھنے والے شیر یا چیتے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا زیبرا الگ ہے۔یوں ان دھاریوں کی مدد سے زیبرا شکاریوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہتا ہے۔یہ دھاریاں ان کے لیے چھلاورن (camouflage) کی طرح کام کرتی ہیں، جو فطرت کا ایک نہایت حسین تحفہ ہے۔اور افریقہ کے گرم موسم میں زیبرا کے جسم پر موجود دھاریاں درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔سیاہ حصہ سورج کی گرمی کو جذب کرتا ہے جبکہ سفید حصہ روشنی کو واپس منعکس کر دیتا ہے۔یہ دونوں مل کر ایک ہلکی ہوا پیدا کرتے ہیں جو زیبرا کے جسم کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔یوں ان دھاریوں کی بدولت زیبرا قدرتی طور پر گرمی سے محفوظ رہتا ہے،اور قدرتی ایئرکنڈیشن کا کام کرتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر زیبرا کی دھاریاں منفرد ہوتی ہیں۔بلکل ویسے جیسے انسان کے فنگر پرنٹس الگ ہوتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق زیبرا اپنی دھاریوں سے ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں،یوں یہ دھاریاں ان کی شناخت اور سماجی تعلقات کا حصہ بھی ہیں۔ زیبرا کی سیاہ اور سفید دھاریاں صرف خوبصورتی نہیں بلکہ سائنس، ماحول اور فطرت کے کامل امتزاج کی مثال ہیں۔یہ رنگ اسے گرمی، کیڑوں اور شکاریوں سے بچاتے ہیں،اسے پہچان دیتے ہیں، اور قدرتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہیں۔ شکاریوں سے بچنے کا طریقہ پانڈا کا رنگ بھی سیاہ اور سفید ہوتا ہے۔ چین کے برفیلے جنگلات میں جب برف اور درختوں کے سائے مل کر سیاہ و سفید منظر بناتے ہیں تو پانڈا ان کے درمیان چھپ جاتا ہے۔ اسی طرح سمندری جانور جیسے پینگوئن ، اپنے سفید پیٹ اور کالے پروں کے ذریعے پانی میں گھل مل جاتے ہیں۔ اوپر سے دیکھو تو وہ سیاہ لگتے ہیں، نیچے سے دیکھو تو آسمان جیسے سفید۔ یہ رنگ ان کے لیے قدرتی حفاظت بن جاتا ہے۔ خطرے کا اشارہ کچھ جانوروں کا سیاہ اور سفید رنگ دوسروں کے لیے خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سکنک ، جو اپنی بدبو دار رطوبت کے لیے مشہور ہے۔ جب کوئی شکاری اسے دیکھتا ہے تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ جانور نقصان پہنچا سکتا ہے، یوں وہ حملہ کرنے سے باز رہتا ہے۔ یعنی رنگ یہاں خبردار کرنے کا کام کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کچھ جانور ان رنگوں کو اشاروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیمر کی دم سیاہ اور سفید دھاری دار ہوتی ہے۔ جب وہ گروپ کی شکل میں چلتے ہیں تو اپنی دم اوپر رکھتے ہیں تاکہ دوسرے لیمرز انہیں پہچان سکیں اور راستے میں ساتھ رہیں۔ یہ فطرت کا ایک خوبصورت انداز ہے کہ رنگ صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ بات چیت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ فطرت کی اپنی سمجھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیاہ اور سفید رنگ جانوروں کے جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ گرمی کو جذب کرتا ہے جبکہ سفید رنگ اسے روکتا ہے۔ مگر پھر بھی، ان رنگوں کے بارے میں حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔ ہر جانور کی کہانی الگ ہے، ہر نظریہ ایک پہلو دکھاتا ہے۔ آخر میں سچ یہی ہے کہ فطرت کے رنگوں کے پیچھے سائنس کے پاس کبھی بھی سیاہ یا سفید جواب نہیں ہوتا۔ کبھی یہ رنگ تحفظ بن جاتے ہیں، کبھی خطرے کی علامت، اور کبھی محبت یا ہم آہنگی کا اشارہ۔ یہی فطرت کا حسن ہے جو ہر رنگ میں، چاہے وہ سیاہ ہو یا سفید، ایک نئی کہانی سنا دیتا ہے۔

تُربت محبت، ثقافت اور خوبصورتی کی سرزمین

تُربت    محبت، ثقافت اور خوبصورتی کی سرزمین

بلوچستان کے دل میں واقع تُربت ایک ایسا شہر ہے۔ جو اپنی قدیم تاریخ، روایات، محبت بھری داستانوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ شہر کیچ ضلع کا مرکزی مقام ہے، جو مکران ڈویژن میں واقع بلوچستان کا دوسرا بڑا اور ترقی یافتہ شہر ہے۔تُربت کا موسم زیادہ تر گرم رہتا ہے، مگر شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو شہر کی فضاؤں میں ایک خاص سکون پیدا کرتی ہیں۔تربت بلوچستان کی وہ دھرتی ہے۔ جہاں محبت، علم، تاریخ اور ثقافت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔تربت کے بازاروں میں بلوچی کپڑوں، ہاتھ سے بنے زیورات، اور روایتی اشیاء کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور سادہ زندگی اس خطے کی خوبصورتی کو اور بڑھا دیتی ہے۔ تُربت کا ذکر کیے بغیر سسی پُنّوں کی محبت کی داستان ادھوری لگتی ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے۔ جہاں محبت کی وہ لازوال کہانی جنم لیتی ہے۔ جو آج بھی دلوں کو چھو جاتی ہے۔ بلوچ شاعری میں سسی پُنّوں کی کہانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پُنّوں کا نام لبوں پر آئے، سسی کے آنسو دل کو جلائے، عشق کی راہ میں جو چلے، وہ تُربت کی مٹی کو پائے۔ یہ اشعار تُربت کی اس محبت بھری فضا کو بیان کرتے ہیں۔ جو صدیوں سے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ تُربت میں کئی تاریخی اور قدرتی مقامات موجود ہیں۔ جو سیاحوں کے لیے دلکشی رکھتے ہیں۔جب میں تربت پہنچی تو سب سے پہلے میری نظر سسی پنوں کے تاریخی قلعے پر پڑی۔ یہ قلعہ جیسے وقت کی گرد میں لپٹا ہوا ایک زندہ داستان ہو۔ مٹی سے بنا یہ بلند قلعہ آج بھی عشق اور وفا کی وہی خوشبو بکھیرتا ہے ۔جس کی مثال سسی اور پنوں کی محبت میں ملتی ہے۔ جب میں اس کی خستہ دیواروں کے قریب کھڑی تھی۔ تو محسوس ہوا جیسے ماضی اپنی سرگوشیوں میں وہی پرانی کہانیاں دہرا رہا ہو۔ یہاں آنے والے ہر شخص کے چہرے پر عقیدت اور حیرت کا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد میں دریائے کیچ کے کنارے جا پہنچی۔ تربت کے بیچوں بیچ بہتا یہ دریا اس علاقے کی روح معلوم ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا، بہتے پانی کی آواز اور کھجوروں کے درختوں کی قطاریں ایک پرسکون منظر پیش کر رہی تھیں۔ شام کے وقت جب سورج کی کرنیں پانی پر جھلملاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے۔ جیسے سارا منظر کسی خواب کا حصہ ہو۔ میں نے کچھ دیر وہیں بیٹھ کر اس خاموشی میں خود کو کھو دیا۔ پھر ہم کلّاتک کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور قدرتی چشموں کی ٹھنڈی ہوا دل کو چھو رہی تھی۔ کلّاتک پہنچ کر ایسا لگا جیسے میں کسی دوسرے جہاں میں آ گئی ہوں ۔ جہاں سکون ہی سکون ہے۔ پہاڑوں کی خاموشی، درختوں کی سرسراہٹ اور دور سے گونجتی پرندوں کی آواز ایک دلفریب احساس پیدا کر رہی تھی۔ اگلی صبح میں نے تربت کی مشہور کھجوروں کے باغات دیکھے۔ سنہری دھوپ میں چمکتی کھجوریں، محنتی کسانوں کے ہاتھوں سے توڑی جا رہی تھیں۔ ان کھجوروں کی مٹھاس صرف ذائقے میں نہیں، بلکہ ان میں تربت کے لوگوں کی محنت اور محبت بھی شامل ہے۔ دوپہر کے وقت ہم شہید فِدّا چوک پہنچے۔ تربت کا یہ مرکزی مقام زندگی سے بھرا ہوا تھا۔ اردگرد عمارتوں کی چمک اور لوگوں کی مصروفی ایک جدید تربت کی عکاسی کر رہی تھی۔ میں نے سوچا، جیسے یہ چوک تربت کی ترقی اور قربانیوں دونوں کی علامت ہے۔ رات کے وقت یہاں کی روشنیوں نے پورے شہر کو ایک نیا رنگ دے دیا۔ شام ڈھلے ہم بلیدہ کی طرف نکلے۔ راستے میں سرسبز وادیاں اور پرانے درخت ایک تاریخی کہانی سناتے محسوس ہوئے۔ بلیدہ کے لوگ بے حد سادہ اور مہمان نواز ہیں۔ ان کی باتوں میں خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت تھی۔ وہاں کی خاموش وادیوں میں ایک عجب سکون ہے جو دل کو چھو جاتا ہے۔ اور آخر میں، ہم مکران یونیورسٹی پہنچے۔ تربت کی یہ درسگاہ واقعی علم کی روشنی پھیلا رہی ہے۔ اس کی عمارتیں وسیع، میدان ہرے بھرے، اور ماحول پرامن ہے۔ نوجوانوں کو پڑھتے اور خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتے دیکھ کر ایک امید جاگی کہ تربت کا مستقبل روشن ہے۔ یہ سفر میرے لیے صرف مقامات دیکھنے کا نہیں بلکہ تربت کی روح کو محسوس کرنے کا تھا ، عشق، فطرت، محنت اور علم کی ایک حسین کہانی۔ تربت صرف ایک شہر نہیں بلکہ محبت، تاریخ، علم اور خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔یہ وہ دھرتی ہے ،جہاں سسی پنوں کی محبت کی خوشبو، دریائے کیچ کی ٹھنڈی لہریں،بلیدہ کی وادیاں، کلّاتک کے پہاڑ اور مکران یونیورسٹی کی روشنی مل کر تربت کو ایک انوکھا، خوبصورت اور یادگار شہر بناتی ہیں۔ تربت اپنی ثقافت، تعلیم، قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کے باعث بلوچستان کا فخر اور پاکستان کی شان ہے۔ یہ شہر آج بھی اپنی مٹی میں محبت، علم اور وفا کے چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔تربت کےلفظی معنی قبر کے ہیں،لیکن یہ شہر اس کے برعکس ہے۔