شربت گل، جسے دنیا نے “افغان گرل” کے نام سے جانا، صرف ایک تصویر نہیں بلکہ جنگ، جلاوطنی اور مسلسل محرومی کی جیتی جاگتی کہانی ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے سرورق پر آنے والی اس تصویر نے عالمی توجہ تو حاصل کی، مگر اس کے پیچھے موجود انسان کی زندگی دہائیوں تک نظرانداز رہی۔ یہ تحریر اسی خاموش جدوجہد کو سامنے لاتی ہے اور یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہم دکھ کو صرف علامت بنا کر بھول جاتے ہیں؟
پرنس رینڈین ایک نایاب بیماری کے ساتھ پیدا ہوئے جس میں بازو اور ٹانگیں موجود نہیں ہوتیں، مگر انہوں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ غیرمعمولی حوصلے، محنت اور خود اعتمادی کے ذریعے انہوں نے نہ صرف روزمرہ زندگی کے کام سیکھے بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصل طاقت انسان کے ارادے میں ہوتی ہے، جسمانی ساخت میں نہیں۔
موشن سکنس سفر کے دوران پیدا ہونے والی ایک عام مگر تکلیف دہ کیفیت ہے، جو اس وقت جنم لیتی ہے جب آنکھیں، اندرونی کان اور جسم کے اعصاب دماغ کو مختلف پیغامات بھیجتے ہیں۔ اس عدم ہم آہنگی کے باعث متلی، چکر، سر درد اور بے چینی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سڑک کے سفر تک محدود نہیں بلکہ کشتی، جہاز، جھولوں اور حتیٰ کہ ورچوئل گیمز میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی خطرناک بیماری نہیں، مگر مناسب احتیاط اور درست نشست، تازہ ہوا اور ہلکی غذا اختیار کر کے اس کیفیت سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
نومبر 2009 میں امریکی ریاست یوٹاہ کی نَٹی پَٹی غار میں 26 سالہ میڈیکل طالب علم جان ایڈورڈ جونز ایک تنگ سرنگ میں پھنس گیا۔ 28 گھنٹے طویل اور خطرناک ریسکیو آپریشن کے باوجود اسے بچایا نہ جا سکا۔ جان کی موت کے بعد اس کی لاش کو غار میں ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا اور غار کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ یہ واقعہ مہم جوئی اور قدرتی خطرات کے درمیان نازک توازن کی ایک دردناک مثال بن گیا۔
انیسویں صدی میں انگریزوں کی جانب سے برصغیر میں ریلوے کا آغاز بظاہر ترقی کی علامت تھا، مگر اس کے پس پردہ اصل مقصد ہندوستانی وسائل کو منظم طریقے سے لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنا تھا۔ ابتدا میں عوام نے ریلوے کو غلامی کی زنجیر سمجھا، اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ خوف بے بنیاد نہیں تھا۔ آزادی کے بعد بھی ہم اسی نوآبادیاتی نظام کے انفراسٹرکچر پر انحصار کرتے رہے، جس میں بہت کم جدت آئی۔
1869ء میں برطانیہ نے دنیا کی اُس وقت کی سب سے بڑی فلوٹنگ ڈرائی ڈاک کو بحرِ اوقیانوس عبور کرا کے برمودا منتقل کیا۔ یہ منصوبہ رائل نیوی کی اسٹریٹجک ضرورت، جدید آئرن کلاڈ جنگی جہازوں کی مرمت، اور مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود انجینئرنگ مہارت کی ایک شاندار مثال تھا، جس نے تین دہائیوں تک برطانوی بحری برتری کو مضبوط رکھا۔
بلوچستان میں سردیوں کے دوران اسکول بند ہونے کی وجہ سے بچے گھر پر بیٹھ جاتے ہیں، لیکن ونٹر کیمپس انہیں پڑھائی کے ساتھ عملی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ کیمپس بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخلیقی سوچ، ٹیم ورک اور اعتماد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ والدین کے لیے بھی فائدہ یہ ہے کہ بچوں کا وقت ضائع نہیں ہوتا اور وہ چھٹیوں کے دوران نئی مہارتیں سیکھتے ہیں۔ بنیادی خواندگی اور ریاضی کی مہارتیں (FLN) سیکھنے کے لیے یہ کیمپس اہم ہیں اور بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔
یہ تحریر خلاء کی وسعت، خاموشی اور پراسرار حقائق کو بیان کرتی ہے، جہاں وقت، روشنی اور فاصلے زمین سے بالکل مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔ اس میں ستاروں، کہکشاؤں، بلیک ہولز اور نظریۂ اضافیت جیسے سائنسی تصورات کو سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مضمون انسان کو کائنات کی عظمت اور اپنی محدود حیثیت کا احساس دلاتا ہے، اور یہ بتاتا ہے کہ خلاء نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ انسانی تجسس اور خوابوں کا بھی مرکز ہے۔
کولڈ اسموکنگ ایک قدیم اور قدرتی طریقہ ہے جس کے ذریعے گوشت اور مچھلی کو کم درجۂ حرارت پر دھوئیں میں رکھ کر طویل عرصے تک محفوظ کیا جاتا تھا۔ اس عمل میں نمک، ٹھنڈا دھواں اور وقت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جو جراثیم کی افزائش روکتے ہیں اور خوراک کو منفرد ذائقہ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں روایتی، ثقافتی اور ذوقی (gourmet) اہمیت رکھتا ہے۔
ویکٹوریہ رائٹ کی زندگی نایاب جینیاتی بیماری چیروبزم کے ساتھ جینے، سماجی بُلینگ سہنے، اور پھر اسی جدوجہد کو سماجی شعور اور face equality کی تحریک میں بدلنے کی طاقتور مثال ہے۔ انہوں نے cosmetic سرجری کے دباؤ کو رد کرتے ہوئے خود قبولیت، شناخت اور انسانی وقار کا پیغام دیا، اور ہزاروں لوگوں کے لیے امید کی آواز بنیں.
1961 میں آئیڈا ہو کے صحرا میں ایک امریکی فوجی نیوکلیئر ری ایکٹر کے ہولناک حادثے میں تین افراد جان سے گئے۔ ان میں سے ایک رچرڈ لیروئے مککنلی تھا، جس کی لاش اس قدر تابکار ہو چکی تھی کہ اسے عام طریقوں سے دفن کرنا ناممکن تھا۔ آرلنگٹن نیشنل قبرستان میں اس کے لیے ایک خصوصی “ایٹمی تابوت” تیار کیا گیا، جو آج بھی انسان اور ایٹمی طاقت کے خطرناک تعلق کی خاموش علامت سمجھا جاتا ہے۔
کاریز نظام بلوچستان کا ایک قدیم، ماحول دوست اور اجتماعی آبپاشی کا طریقہ رہا ہے جو صدیوں تک زراعت، پینے کے پانی اور سماجی ہم آہنگی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ تاہم مسلسل خشک سالی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، جدید ٹیوب ویل ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال، شہری توسیع اور حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ نظام تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ کبھی ہزاروں کی تعداد میں موجود کاریز آج محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے نہ صرف پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے بلکہ بلوچستان کا ایک قیمتی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ بھی خطرے میں پڑ چکا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک دن انسان اپنے دماغ سے موبائل فون، کمپیوٹر یا مشینیں چلا سکے گا؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ معذور افراد صرف سوچ کے ذریعے چل پھر سکیں یا بات کر سکیں؟
یہ سب باتیں کبھی سائنس فکشن سمجھی جاتی تھیں، مگر آج یہ حقیقت بننے کے قریب ہیں، اور اس کے پیچھے ایک جدید ٹیکنالوجی نیورالِنک ہے، جس کی بنیاد 2016 میں ایلون مسک نے رکھی۔ نیورالِنک کا مقصد انسان کے دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہے، تاکہ دماغ کے سگنلز کے ذریعے مختلف آلات کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے امید کی کرن ہے جو شلل (پارالیسس) یا پارکنسن کی بیماری جیسے نیورولوجیکل مسائل کا شکار ہیں۔ پارکنسن کی بیماری میں دماغ کے وہ خلیے متاثر ہو جاتے ہیں جو جسم کی حرکت اور توازن کو کنٹرول کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اور چلنے پھرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ نیورالِنک میں استعمال ہونے والے نہایت باریک نیورل تھریڈز، جو انسانی بال کے برابر ہوتے ہیں، دماغ کے نیورونز سے جڑ کر سگنلز کو پڑھتے اور بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان تھریڈز کو دماغ میں لگانے کے لیے ایک خاص روبوٹ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔
اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جائے تو اس کے کئی فائدے ہو سکتے ہیں۔ معذور افراد اپنے پروسیتھک یعنی مصنوعی ہاتھ یا ٹانگ دماغ کے ذریعے کنٹرول کر سکیں گے، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے، اور مستقبل میں انسان اور مصنوعی ذہانت (AI) کے درمیان براہِ راست رابطہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سے زندگی آسان، تیز اور زیادہ مؤثر بن سکتی ہے، اور انسان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
لیکن ہر طاقتور ٹیکنالوجی کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوتے ہیں۔ نیورالِنک میں دماغ کی سرجری شامل ہے جو خطرناک ہو سکتی ہے، انفیکشن یا دماغی نقصان کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغی ڈیٹا کی پرائیویسی ایک بڑا سوال ہے۔ اگر دماغ کے سگنلز ہیک ہو جائیں یا غلط استعمال ہوں تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، مہنگی ہے، اور اس کے طویل مدتی اثرات مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سازشی نظریات (Conspiracy Theories) جنم لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر اگلے 50 سال بعد نیورالِنک عام ہو گیا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ حکومتیں یا بڑی کمپنیاں انسانی ذہن کو کنٹرول کرنے لگیں؟ کیا انسان کی سوچ، فیصلے اور جذبات ڈیجیٹل نگرانی میں آ جائیں گے؟ کچھ سازشی نظریات یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں خیالات صرف پڑھے نہیں جائیں گے بلکہ ڈالے بھی جا سکیں گے، اور انسان اپنی آزادی کھو بیٹھے گا۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ امیر طبقہ اپنی ذہنی صلاحیتیں بڑھا کر مزید طاقتور ہو جائے گا جبکہ غریب طبقہ پیچھے رہ جائے گا، جس سے ایک نئی طبقاتی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا آنے والی جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دماغی کنٹرول سے لڑی جائیں گی؟
اگرچہ یہ سب ابھی اندازے اور خدشات ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہمیشہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔ نیورالِنک ایک عظیم سہولت بھی بن سکتی ہے اور ایک بڑا خطرہ بھی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا انسان اسے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرے گا یا یہ ٹیکنالوجی انسان پر حاوی ہو جائے گی؟ شاید آنے والے سالوں میں یہی سوال پوری دنیا کی سب سے بڑی بحث بن جائے۔
تعلیمی و تحقیقی رپورٹس کے مطابق مطالعہ بچوں اور نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کتابیں نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں۔ باقاعدہ مطالعہ ذہنی دباؤ کم کرتا، تخلیقی صلاحیت بڑھاتا اور خود اعتمادی کو مضبوط بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینز کے بڑھتے استعمال سے مطالعہ کی عادت متاثر ہو رہی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں میں کتاب دوستی کو فروغ دیں تاکہ ان کا مستقبل روشن اور سوچ مثبت ہو۔
دائیں ہاتھ سے سلام کرنا محض ایک معمولی عادت نہیں بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پرانی تاریخ، مذہبی تعلیمات اور سائنسی و نفسیاتی وجوہات کارفرما ہیں۔ قدیم دور میں دائیں ہاتھ سے سلام امن اور اعتماد کی علامت تھا کیونکہ یہی ہاتھ ہتھیار پکڑنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ مختلف تہذیبوں اور خاص طور پر اسلام میں دائیں ہاتھ کو اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لیے ترجیح دی گئی۔ سائنسی طور پر بھی دائیں ہاتھ دماغ کے اُس حصے سے جڑا ہے جو فیصلے اور اعتماد سے متعلق ہے، جبکہ نفسیات کے مطابق مصافحہ باہمی تعلق اور بھروسہ بڑھاتا ہے۔ یوں دائیں ہاتھ سے سلام آج بھی احترام، اعتماد اور انسانیت کی ایک مضبوط علامت سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر مذہبی تقریبات یا کسی کی وفات کے موقع پر اگربتیاں جلائی جاتی ہیں۔ لوگ انہیں ایئر فریشنر کی طرح بھی استعمال کرتے ہیں۔
لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگربتی کا دھواں صرف خوشبو نہیں دیتا، یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ خاص طور پر بچے، بوڑھے اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اگربتی کے دھوئیں سے سانس کی بیماریاں، الرجی، سر درد اور جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پلمونولوجسٹس کے مطابق اگربتی کا دھواں تمباکو نوشی کے دھوئیں کے برابر نقصان دہ ہے۔
ایک گرام اگربتی سے تقریباً 45 ملی گرام باریک ذرات نکلتے ہیں، جبکہ سگریٹ سے صرف 10 ملی گرام ذرات خارج ہوتے ہیں۔ یعنی اگربتی سگریٹ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔
اگربتی میں کون سے خطرناک اجزاء ہیں؟
باریک ذرات (PM 2.5): پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
کاربن مونو آکسائیڈ: خون میں آکسیجن کم کر دیتا ہے اور سر درد، تھکن یا متلی پیدا کر سکتا ہے۔
سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ: دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔
غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور ایلڈیہائڈز: آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن اور طویل مدتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔
پولی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن: خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے؟
بچے، بوڑھے، دمہ اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اگربتی کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لمبے عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق اگربتی کا دھواں صحت کے لیے خطرناک ہے، خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کی بیماریوں جیسے دمہ یا کمزور پھیپھڑوں والے افراد کے لیے۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو طویل عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے اگربتیاں جلاتے وقت کمرے میں ہوا کی مناسب آمدورفت رکھنی چاہیے، بچوں اور بوڑھوں کو دھویں والے کمرے میں نہ رکھیں اور زیادہ دھواں دینے والی اگربتیاں صرف کم مقدار میں استعمال کریں۔
یہ خیال کہ ٹیک کمپنیاں ہماری باتیں خفیہ طور پر ریکارڈ کرتی ہیں تاکہ ہم پر ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھا سکیں، ایک مقبول سازشی نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمارٹ فونز صرف مخصوص آوازیں جیسے "Hey Google" یا "Hey Siri" سننے کے لیے فعال رہتے ہیں، اور جب یہ آواز شناخت ہوتی ہے تو فون ایکٹیو ہو جاتا ہے۔ کمپنیاں ڈیٹا اینالیٹکس اور پرسنلائزیشن پر فوکس کرتی ہیں، نہ کہ ہماری باتوں کی ریکارڈنگ پر۔ تاہم، اگر کسی ایپ میں مائیک کی اجازت ہو اور وہ نقصان دہ ہو، تو وہ سن سکتی ہے۔ اپنے فون کی حفاظت کے لیے ضروری ایپس کی اجازتیں بند کریں، بیدا ضرورت فیچرز کو آف کریں اور سیکیورٹی اپڈیٹس کے ساتھ فون کو اپ ڈیٹ رکھیں۔
تنہائی میں خود سے بات کرنا نفسیاتی طور پر ایک مثبت اور فائدہ مند عمل ہے جو ذہانت، تخلیقی صلاحیت، جذباتی توازن اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ عادت ایک متحرک اور منظم ذہن کی عکاس ہے۔
سر رابرٹ گرووز سینڈمن ایک برطانوی افسر تھے جنہوں نے طاقت کے بجائے مکالمے، جرگہ نظام اور باہمی اعتماد کے ذریعے بلوچستان میں نظم و استحکام کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں کوئٹہ ایک قبائلی بستی سے ایک منظم سیاسی، فوجی اور تجارتی مرکز میں تبدیل ہوا۔ سینڈمن اسپتال اور سینڈمن اسکول جیسے ادارے آج بھی ان کے وژن کی عملی مثال ہیں۔
گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کوئٹہ کی سردیاں اب اتنی شدید نہیں رہیں۔ برفباری اور سردی کی شدت میں کمی کا سبب ماحولیاتی تبدیلی، درختوں کی کٹائی، بڑھتی ہوئی آبادی، فضائی آلودگی اور بے ہنگم تعمیرات ہیں۔ سالانہ بارش اور برفباری میں کمی نے سردیوں کی شدت مزید کم کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق شجرکاری، فضائی آلودگی میں کمی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی ماحول دوست رویوں سے موسمی اثرات کو 25 سے 30 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے، اور کوئٹہ کی پرانی سردیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔