چیف سیکریٹری بلوچستان کا اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار
چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ حکومت شفافیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے 10 سالہ ترقیاتی منصوبے اور مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار، سیف سٹی منصوبوں اور شفاف بھرتیوں سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے بلوچستان کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
کوئٹہ: چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو ترجیح دیتے ہوئے طویل المدتی سماجی و معاشی ترقی کے لیے جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
قومی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد معاشی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت مقامی صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کے فروغ کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کر رہی ہے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ شہری سہولیات، صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے میں 3 ہزار 900 اسکول فعال کیے جا چکے ہیں، 14 ہزار 500 اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں اور رواں سال 2 لاکھ 79 ہزار سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا گیا ہے۔
شکیل قادر خان نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی بھرتی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری آسامیوں کے خاتمے سمیت انتظامی اصلاحات پر بھی عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود حکومت نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحات کی کامیابی کے لیے عوامی تعاون اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک کو ناگزیر قرار دیا۔

Keywords : Balochistan Reforms, Good Governance, Development Plan, Public Service Delivery