کالم

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری کو عموماً نوکریوں کی کمی سے جوڑا جاتا ہے، مگر زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ تعلیم اور لیبر مارکیٹ کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ ہر سال ہزاروں گریجویٹس عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، لیکن زیادہ تر روایتی شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں، جبکہ آئی ٹی، انجینئرنگ اور ٹیکنیکل فیلڈز میں اسکلز کی کمی پائی جاتی ہے۔ مؤثر کیریئر گائیڈنس، اسکل بیسڈ ایجوکیشن اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی سمت اختیار کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری: ستر سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

پی آئی اے کی نجکاری: ستر سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

23 دسمبر 2025 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری مکمل ہوئی، جس کے تحت عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خرید لیے۔ سخت مقابلے کے بعد ہونے والے اس تاریخی معاہدے کو پاکستان کی دو دہائیوں میں سب سے بڑی نجکاری قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی انتظامیہ نے طیاروں کی تعداد بڑھانے اور ایئرلائن کو دوبارہ خطے کی بہترین فضائی کمپنیوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت 25 فیصد حصص اپنے پاس برقرار رکھے گی۔ یہ قدم خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ایٹم کی تھرتھراہٹ تک

وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ایٹم کی تھرتھراہٹ تک

یہ مضمون وقت کی پیمائش کے ارتقائی سفر کو بیان کرتا ہے، جہاں انسان نے ابتدا میں سورج کے سائے اور فطری علامات سے وقت کو سمجھا، پھر مکینیکل اور کوارٹز گھڑیوں کے ذریعے اسے ناپنے لگا، اور آخرکار ایٹمی گھڑیوں تک پہنچا۔ یہ سفر انسانی سائنسی ترقی، نظم و ضبط اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد کو واضح کرتا ہے، جو آج کی دنیا میں وقت کی انتہائی درست پیمائش پر قائم ہے۔

شخصیت اور کردار: سائنسی اور اسلامی نقطۂ نظر

شخصیت اور کردار: سائنسی اور اسلامی نقطۂ نظر

یہ تحریر شخصیت اور کردار کے فرق اور باہمی تعلق کو واضح کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شخصیت انسان کی فطری عادتوں اور مزاج کا مجموعہ ہوتی ہے، جبکہ کردار اس کی اخلاقی خوبیوں اور عملی رویّوں سے بنتا ہے۔ سائنس کے مطابق انسان کی عادتیں اور کردار وقت، تربیت اور مسلسل عمل سے بدلے جا سکتے ہیں، جبکہ اسلام میں اچھے اخلاق کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی بہترین کردار کی عملی مثال ہے۔ تحریر کا نتیجہ یہ ہے کہ شخصیت انسان کی پہچان بنتی ہے، مگر کردار اسے عزت، اعتماد اور مقام دلاتا ہے۔

منفی خبروں کا زہنی صحت پر اثر

منفی خبروں کا زہنی صحت پر اثر

اکیسویں صدی کو معلومات کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ معلومات ڈیجیٹل ذرائع سے سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہیں۔ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دنیا پہلے سے کہیں زیادہ جُڑی ہوئی ہے۔ خبریں تیزی اور وضاحت کے ساتھ پہنچتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور اے آئی جیسے ڈیجیٹل ٹولز کے آنے کے بعد اطلاعات کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس عہد کو اب "پوسٹ ٹروتھ" کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں معلومات کی فراہمی تیز ہو چکی ہے، وہیں "میس انفارمیشن" اور "ڈس انفارمیشن" بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ منفی خبروں کی کثرت نے میڈیا ناظرین اور سامعین کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ میڈیا نفسیات کے شعبے میں کی گئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ منفی خبروں کا باقاعدہ اور مسلسل سامنا جذباتی فلاح و بہبود، ذہنی تصورات، اور زندگی کے معیار پر اثر ڈال سکتا ہے۔ منفی خبروں کے سب سے فوری اثرات میں ڈپریشن اور اینگزائٹی میں اضافہ شامل ہے۔ تشدد، جرائم، سیاسی و سماجی تنازعات، اور قدرتی آفات کی خبریں ایسے واقعات ہیں جو ماہرین نفسیات کے مطابق جسم کے دباؤ کے ردعمل کو متحرک کرتی ہیں اور انسان کے اندر مسلسل خطرے یا خوف کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ واقعات ناظرین کے ماحول سے دور ہوتے ہیں، پھر بھی اکثر منفی خبریں اپنی شدت کی وجہ سے خطرے کو ذاتی محسوس کروا سکتی ہیں۔ مسلسل منفی خبریں وقت کے ساتھ ساتھ مستقل دباؤ، ڈپریشن، اور طویل مدتی جذباتی تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ سائیکالوجی ٹوڈے میگزین میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سیکس کے پروفیسر گراہم ڈیوی کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اینگزائٹی کے ماہر ہیں۔ ان کی تحقیق میں تین مختلف نیوز بلیٹن تیار کیے گئے: ایک میں صرف منفی خبریں، دوسرے میں مثبت خبریں، اور تیسرے میں غیر جانبدار خبریں شامل تھیں۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو منفی خبریں دکھائی گئیں، ان میں دیگر افراد کے مقابلے میں اداسی اور اضطراب کی علامات زیادہ واضح تھیں۔ خبروں سے باخبر رہنا ہر انسان کا حق ہے، اور ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ حالات سے آگاہ رہیں۔ لیکن باخبر رہنے اور معلومات پھیلانے کا طریقہ اعتدال پر مبنی ہونا چاہیے۔ کئی نیوز چینلز منفی خبروں کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں، اور یہی رویہ اکثر عام افراد بھی سوشل میڈیا پر اپنانے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی بھی خاص ذمہ داری ہے کہ وہ صرف منفی خبریں نشر کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ مثبت، تعمیری، اور حل پر مبنی خبریں بھی کور کرنے کی کوشش کریں تاکہ توازن قائم ہو سکے۔ میڈیا کا کام خوف یا تشویش پیدا کرنا نہیں، بلکہ معلومات کے ساتھ سماجی شعور اور امید بھی قائم رکھنا ہے۔ منفی خبروں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے نفسیاتی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات کا استعمال بند کر دیا جائے۔ اسی طرح، سونے سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا کا استعمال بھی محدود کریں، کیونکہ یہ بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کر سکتا ہے۔

شخصیت اور کردار میں بنیادی فرق کیا ہے؟

شخصیت اور کردار میں بنیادی فرق  کیا ہے؟

کردار اور شخصیت انسان کی زندگی کے دو بہت اہم حصے ہیں جو اس کے رویّے، سوچ اور دوسروں سے برتاؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ شخصیت سے مراد انسان کی فطری عادتیں، بات کرنے کا انداز اور مزاج ہوتا ہے، جیسے کوئی انسان خاموش ہے یا باتونی، پُرسکون ہے یا جلد غصہ کرتا ہے، جبکہ کردار انسان کی اچھی یا بری اخلاقی صفات کو کہتے ہیں، جیسے سچ بولنا، ایمانداری، صبر، ذمہ داری اور دوسروں کی مدد کرنا۔ سائنس کے مطابق شخصیت کا کچھ حصہ انسان کو پیدائش سے ملتا ہے، جو جینز کے ذریعے آتا ہے، لیکن اس پر گھر کا ماحول، والدین کی تربیت، تعلیم، دوست اور معاشرہ بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں سیکھنے اور بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جسے برین پلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے، اسی وجہ سے انسان محنت اور مسلسل کوشش سے اپنی عادتیں اور رویّے بہتر بنا سکتا ہے۔ سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ کردار کسی ایک دن میں نہیں بنتا بلکہ وقت کے ساتھ بنتا ہے، کیونکہ جب انسان بار بار اچھے کام کرتا ہے تو وہ کام اس کی عادت بن جاتے ہیں، اور دماغ میں مضبوط راستے بن جاتے ہیں جو اچھے رویّے کو مستقل بنا دیتے ہیں۔ نیورو سائنس کے مطابق دماغ کا اگلا حصہ انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے، جذبات پر قابو رکھنے اور اچھے فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسلام میں کردار کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اچھے اخلاق سکھانے کے لیے بھیجا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اچھا انسان بننا کتنا ضروری ہے۔ قرآن اور حدیث میں سچائی، صبر، نرمی، رحم دلی، انصاف اور عاجزی کی بار بار تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ یہ خوبیاں نہ صرف انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ معاشرے میں امن اور اعتماد بھی پیدا کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین مثال ہے، آپ ﷺ نے ہمیشہ سچ کہا، معاف کیا، صبر سے کام لیا اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوئے۔ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر انسان میں کوئی کمزوری ہو تو وہ خود احتسابی اور کوشش کے ذریعے خود کو بہتر بنا سکتا ہے، کیونکہ اللہ کوشش کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جب ہم سائنس اور اسلام دونوں کو ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اپنی شخصیت اور کردار کو بہتر بنا سکتا ہے اگر وہ شعور، محنت اور مسلسل عمل کو اپنائے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شخصیت انسان کو پہچان دیتی ہے، مگر کردار اسے عزت، اعتماد اور مقام دلاتا ہے، کیونکہ لوگ خوبصورت باتوں سے نہیں بلکہ اچھے کاموں اور اچھے اخلاق سے یاد رکھتے ہیں، اور یہی ایک اچھا انسان ہونے کی اصل پہچان ہے

حسد: ایک خاموش اندرونی جنگ

حسد: ایک خاموش اندرونی جنگ

یہ تحریر حسد کو ایک پیچیدہ مگر فطری انسانی جذبہ قرار دیتی ہے جو دوسروں کی کامیابی دیکھ کر جنم لیتا ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ حسد دو طرح کا ہو سکتا ہے: تعمیری، جو انسان کو خود کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے، اور تباہ کن، جو منفی خیالات، ذہنی دباؤ اور رشتوں میں خرابی کا سبب بنتا ہے۔ سائنسی اور نفسیاتی پہلوؤں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ خود شناسی، شکر گزاری اور جذباتی ذہانت کے ذریعے حسد پر قابو پا کر ذہنی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی داستان

پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی داستان

یہ تحریر پولیو کے خلاف عالمی جدوجہد کی جامع اور متاثر کن تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں پولیو کی تباہ کاریوں، ویکسین کی ایجاد، اور عالمی سطح پر کی گئی کوششوں کا ذکر ہے جن کے باعث دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد سے زائد کمی آئی۔ آج پولیو صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے، جہاں سیکیورٹی اور رسائی جیسے چیلنجز کے باوجود پولیو ورکرز انتھک محنت کر رہے ہیں۔ تحریر اس امید پر ختم ہوتی ہے کہ اجتماعی عزم، ویکسینیشن اور عوامی تعاون سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہے اور آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند، پولیو فری مستقبل دیا جا سکتا ہے۔

ایگو انسان کے اندر کی خاموش جنگ

ایگو انسان کے اندر کی خاموش جنگ

یہ تحریر انسان کی اندرونی جدوجہد اور ایگو کے کردار کو واضح کرتی ہے۔ مصنفہ کے مطابق ایگو بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری بلکہ ایک طاقت ہے جو اگر متوازن رہے تو انسان کو اعتماد، ہمت اور خود شناسی عطا کرتی ہے، اور اگر حد سے بڑھ جائے تو انسان کو حقیقت سے دور کر کے اندر سے کمزور بنا دیتی ہے۔ فرائیڈ کے نظریے، ذاتی تجربات اور علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی کی روشنی میں یہ تحریر اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اصل کامیابی ایگو کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنے اور مثبت سمت میں استعمال کرنے میں ہے۔

خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

خشک ہوتے بادل، پیاسی زمین  بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خشک سالی کی تشویش

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران بارش معمول سے 41.9 فیصد کم رہی جبکہ درجہ حرارت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صورتحال کے باعث کوئٹہ سمیت متعدد اضلاع میں خشک سالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس سے زراعت، لائیو اسٹاک اور زیرِ زمین پانی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے پیشگی اقدامات اور فوری حکومتی توجہ پر زور دیا ہے۔

بلوچیتھیریم , زمین پر چلنے والا سب سے بڑا ممالیہ

بلوچیتھیریم , زمین پر چلنے والا سب سے بڑا ممالیہ

پیراسیریتھیرئم، جسے تاریخی طور پر Baluchitherium بھی کہا جاتا ہے، اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا زمینی ممالیہ تھا۔ یہ بے سنگ گینڈے کی نسل سے تعلق رکھنے والا دیوہیکل جانور تقریباً 34 سے 23 ملین سال قبل ایشیا کے وسیع علاقوں میں پایا جاتا تھا۔ بلوچستان کے بگٹی ہلز سے ملنے والی اس کی باقیات نے دنیا بھر میں اسے ایک تاریخی اہمیت دی۔ 7.5 سے 8 میٹر اونچا اور تقریباً 20 ٹن وزنی یہ جانور اونچے درختوں کے پتے کھا کر زندہ رہتا تھا اور اپنی منفرد جسمانی ساخت کے باعث ڈائنوسارز کے بعد زمین کا سب سے بڑا چرندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام آج Paraceratherium تسلیم کیا جاتا ہے۔

کیا بلوچستان میں ماہی گیری صرف پیشہ ہے ؟

کیا بلوچستان میں ماہی گیری صرف پیشہ ہے ؟

بلوچستان کا ساحل پاکستان کا سب سے طویل اور منفرد ساحل ہے، جو نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ اپنی تہذیبی روایت اور تاریخی ورثے کے باعث بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں سمندر صدیوں سے ایک مرکزی قوت کے طور پر موجود رہا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ماہی گیری صرف روزگار نہیں یہ تاریخ، ثقافت اور شناخت ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقے، جنہیں collectively مکران کوسٹ کہا جاتا ہے، ہزاروں سال پرانی سمندری تہذیبوں کا مرکز رہے ہیں۔ عرب، ایرانی، یونانی اور برصغیر کے قدیم تاجر اس خطے کے ساحلوں سے گزر کر تجارت کرتے تھے۔ ان کے سفرناموں میں یہاں کے ماہی گیروں، ان کی کشتیوں، اور خشک مچھلی کے کاروبار کا بارہا ذکر ملتا ہے۔ مقامی قبائل جیسے مہر، مید، بیزنجو اور کلمتی نسل در نسل سمندر سے رزق کماتے آئے ہیں۔ یہ پیشہ محض معاش کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل ہے جس نے مقامی آبادی کی زندگیوں کا رخ متعین کیا۔ سمندر کی قربت نے بلوچستان میں ایک منفرد ثقافت کو جنم دیا ہے۔ مکرانی لوگ اپنی موسیقی، رقص، زبان اور خوراک میں سمندر کی جھلک رکھتے ہیں۔ "لیوا"  جیسے لوک رقص، کشتی روانہ کرنے کی دعائیں، اور ساحلی میلوں میں گائے جانے والے گیت ماہی گیری کے ثقافتی رنگ کو نمایاں کرتے ہیں۔ روایتی کشتی سازی بھی اس ثقافت کا اہم حصہ ہے، جس میں لکڑی کی کشتیاں ہاتھ سے تیار کی جاتی ہیں اور مقامی فنون کا عملی نمونہ ہوتی ہیں۔ معیشت کے لحاظ سے ماہی گیری بلوچستان کے ساحلی اضلاع گوادر، پسنی، اورماڑا اور جیوانی کا سب سے بڑا پیشہ ہے۔ ہزاروں خاندان اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ جھینگا، سیر، سرمئی، ٹونا اور دیگر قیمتی مچھلیاں عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، جو صوبے اور ملک کے لیے زرِمبادلہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اگرچہ جدید ٹرالرنگ، رسائی کی کمی، اور انفرا اسٹرکچر کی کمزوری جیسے مسائل موجود ہیں، پھر بھی یہ صنعت بلوچستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بلوچستان کے ماہی گیر صرف مچھلی پکڑنے والے لوگ نہیں وہ سمندر کے محافظ اور اس کے مزاج کو سمجھنے والے صدیوں پرانے علم کے وارث ہیں۔ ان کی زبان میں سمندری ہواؤں کے نام، پانی کے بہاؤ کی پہچان، اور مچھلیوں کی حرکات کا مشاہدہ نسلوں کی کمائی ہوئی دانش ہے۔ مقامی لوگ اپنی شناخت سمندر سے جوڑتے ہیں۔ ان کے لباس، خوراک، رہن سہن اور روزمرہ زندگی کا ہر رنگ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سمندر ان کی اجتماعی پہچان کا بنیادی حصہ ہے۔ آج گوادر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بندرگاہی اہمیت، CPEC کے منصوبے، اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد نے بلوچستان کی ماہی گیری کو نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ فش پراسیسنگ، ایکسپورٹ زونز، اور جدید کشتی سازی کے منصوبے اس شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ اگر حکومت اس صنعت کو پائیدار اصولوں پر ترقی دے تو بلوچستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سمندری خوراک کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں ماہی گیری محض ایک معاشی سرگرمی یا پیشہ نہیں ہے، بلکہ تاریخ، ثقافت، ورثے اور شناخت کا گہرا امتزاج ہے۔ سمندر یہاں کے لوگوں کے لیے زندگی کا استعارہ ہے۔رزق بھی، روایت بھی، اور پہچان بھی۔ یہ صنعت نہ صرف صوبے کی بقا کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے مستقبل کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی ماہی گیری کو سمجھنا، صرف ایک پیشے کو سمجھنا نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی روح کو جاننا ہے۔

بلوچستان ، مختلف زبانوں ، مذاہب ، ثقافتوں اور موسموں کی سرزمین ۔

بلوچستان ، مختلف زبانوں ، مذاہب ، ثقافتوں اور موسموں کی سرزمین ۔

بلوچستان بلوچ سرزمین اور ایک کثیر القومی صوبہ ہے، جو اپنی رنگارنگ ثقافت، زبانوں کے تنوع اور جغرافیائی خوبصورتی کے باعث ایک زندہ تصویر کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ایک ساتھ کئی زبانوں، تہذیبوں، ثقافتوں، مذاہب اور موسموں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں مردم شماری 2017 کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ  زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بلوچی، براہوی، ہزارگی، پشتو، پنجابی، سندھی اور اردو ۔ سبھی زبانیں یہاں اپنی اپنی خوشبو بکھیرتی ہیں۔ یہی مختلف رنگ بلوچستان کو ثقافتی ہم آہنگی کا گہوارہ بناتے ہیں۔  یہاں کا ہر شخص اپنی مادری زبان کے ساتھ دو یا تین دیگر زبانیں بھی روانی سے بولتا ہے، جو لسانی ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہاں کے موسم بھی زبانوں کی طرح متنوع ہیں ۔ نوشکی اور سبی کی تپتی دھوپ، زیارت کی برف باری، قلات کی سرمست ہوائیں اور گوادر کی سمندری ہوا، یہ سب بلوچستان کی زمین پر ایک ہی وقت میں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ بلوچستان کی موسیقی بھی اسی رنگارنگ مزاج کی عکاس ہے۔ بلوچی ساز ہو، ہزارگی دمبورہ، پشتو رباب یا براہوی طبلہ۔  ہر راگ میں صوبے کی خوشبو اور پہاڑوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ صوبے کا دارالحکومت کوئٹہ خود ایک منفرد کہانی ہے۔ یہ شہر منی بلوچستان بھی ہے اور منی پاکستان بھی۔ یہاں بلوچ، ہزارہ، پشتون، پنجابی، سندھی، ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی اور اردو بولنے والے سب ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں، جو مذہبی رواداری کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں اور شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کے لوگ بھی اس شہر کا حصہ ہیں، جو اسے ایک ملی رنگ دیتے ہیں۔ کوئٹہ ایک نیم قبائلی اور نیم شہری معاشرے کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کے بازار، گلیاں، زبانیں اور چہرے سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زبانوں نے ایک دوسرے پر اثر ڈالا ہے، رسم و رواج نے ایک دوسرے سے رنگ لیا ہے، اور کھانوں سے لے کر موسیقی تک ہر چیز میں ثقافتی آمیزش نظر آتی ہے۔ مختلف ہونا کم تر ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ بلوچستان اسی سچائی کی جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں فرق کو کمزوری نہیں بلکہ خوبصورتی سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان کا ہر خطہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے ۔ کہیں صحرا پھیلے ہیں، کہیں سبز وادیوں کی بہار ہے، کہیں برف پوش پہاڑ ہیں تو کہیں نیلا ساحلِ سمندر۔ یہ صوبہ قدرت کے ہر رنگ کا حسین مجموعہ ہے۔  یہ سرزمین صرف صوبہ نہیں بلکہ تہذیبوں کا سنگم ہے۔ یہاں کے آثارِ قدیمہ میں مہرگڑھ، انگریز، مغل، ایرانی اور وسط ایشیائی تہذیبوں کے نشانات ملتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں بیک وقت جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے کل رقبے کا چوالیس فیصد رکھنے والا یہ صوبہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ ثقافتی اور تاریخی دولت کا بھی امین ہے۔ قدیم طرزِ قبائلی زندگی سے لے کر جدید ہائبرڈ کلچر تک، یہ صوبہ پورے خطے کی کہانی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بلوچستان نہ صرف پاکستان کی ثقافتی بنیاد ہے بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ملک کی وحدت، وسعت اور ہم آہنگی جھلکتی ہے۔

سیاہ اور سفید جانور فطرت کے رنگوں سے الگ دنیا

سیاہ اور سفید جانور فطرت کے رنگوں سے الگ دنیا

دنیا رنگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کہیں مور اپنے نیلے سبز پروں سے نظارے بکھیرتا ہے تو کہیں سبز مینڈک، رنگ برنگی مچھلیاں پانی میں تیرتی ہیں۔ قدرت نے ہر جانور کو کسی نہ کسی رنگ سے نوازا ہے ، ان کے رنگوں کے پیچھے چھپی کہانیاں بہت دلچسپ ہیں۔جو نہ صرف ان کی پہچان ہے بلکہ اس ماحول کے مطابق ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے۔ مگر کچھ جانور ایسے بھی ہیں جن میں یہ شوخ رنگ نہیں ہوتے، ان کے جسم صرف سیاہ اور سفید ہوتے ہیں۔جو نہ صرف ان کی پہچان ہے بلکہ اس ماحول کے مطابق ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے۔ ایسے جانوروں میں سب سے نمایاں نام زیبرا کا ہے، جس کی سیاہ اور سفید دھاریاں ہمیشہ سے انسانوں کے لیے تجسس کا باعث رہی ہیں۔ کیا یہ دھاریاں صرف خوبصورتی ہیں یا ان کے پیچھے سائنس کا کوئی راز چھپا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔زیبرا کے سیاہ اور سفید رنگ فطرت کی حیران کن ترکیب زیبرا زیادہ تر افریقہ کے میدانوں اور جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ یہ گھوڑے کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی منفرد رنگت کی وجہ سے دوسروں سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ زیبرا کا جسم مضبوط، ٹانگیں لمبی اور دوڑنے میں تیز ہوتی ہیں۔ وہ خطرہ محسوس کرتے ہی تیزی سے بھاگ نکلتا ہے، اور اس کی رفتار شکاری جانوروں کو دھوکہ دے دیتی ہے۔زیبرا ایک سماجی جانور ہے۔ یہ جھنڈ میں رہنا پسند کرتا ہے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ جب جھنڈ پر کوئی خطرہ آتا ہے تو زیبرا ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں اور مل کر دشمن سے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیبرا کے جسم پر بنی سیاہ اور سفید لکیریں صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتیں۔انگلینڈ کی برسٹل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیبرا کی دھاریاں کیڑوں کے کاٹنے سے بچاتی ہیں۔ماہرین نے دیکھا کہ خون چوسنے والی مکھیاں جیسے ہارس فلائیز دھاری دار جسم کے قریب آ کر الجھ جاتے ہیں،کیونکہ ان مکھیوں کی آنکھیں کمزور ہوتی ہیں۔ جب وہ زیبرا کو دیکھتے ہیں تو ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی ٹھوس جسم ہے یا روشنی کا پیٹرن، اور یوں وہ اس پر بیٹھنے کے بجائے اڑ جاتی ہیں۔یعنی زیبرا کی سیاہ سفید رنگت اس کے لیے ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب زیبرے ریوڑ کی شکل میں دوڑتے ہیں تو ان کی دھاریاں ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔دور سے دیکھنے والے شیر یا چیتے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا زیبرا الگ ہے۔یوں ان دھاریوں کی مدد سے زیبرا شکاریوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہتا ہے۔یہ دھاریاں ان کے لیے چھلاورن (camouflage) کی طرح کام کرتی ہیں، جو فطرت کا ایک نہایت حسین تحفہ ہے۔اور افریقہ کے گرم موسم میں زیبرا کے جسم پر موجود دھاریاں درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔سیاہ حصہ سورج کی گرمی کو جذب کرتا ہے جبکہ سفید حصہ روشنی کو واپس منعکس کر دیتا ہے۔یہ دونوں مل کر ایک ہلکی ہوا پیدا کرتے ہیں جو زیبرا کے جسم کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔یوں ان دھاریوں کی بدولت زیبرا قدرتی طور پر گرمی سے محفوظ رہتا ہے،اور قدرتی ایئرکنڈیشن کا کام کرتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر زیبرا کی دھاریاں منفرد ہوتی ہیں۔بلکل ویسے جیسے انسان کے فنگر پرنٹس الگ ہوتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق زیبرا اپنی دھاریوں سے ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں،یوں یہ دھاریاں ان کی شناخت اور سماجی تعلقات کا حصہ بھی ہیں۔ زیبرا کی سیاہ اور سفید دھاریاں صرف خوبصورتی نہیں بلکہ سائنس، ماحول اور فطرت کے کامل امتزاج کی مثال ہیں۔یہ رنگ اسے گرمی، کیڑوں اور شکاریوں سے بچاتے ہیں،اسے پہچان دیتے ہیں، اور قدرتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہیں۔ شکاریوں سے بچنے کا طریقہ پانڈا کا رنگ بھی سیاہ اور سفید ہوتا ہے۔ چین کے برفیلے جنگلات میں جب برف اور درختوں کے سائے مل کر سیاہ و سفید منظر بناتے ہیں تو پانڈا ان کے درمیان چھپ جاتا ہے۔ اسی طرح سمندری جانور جیسے پینگوئن ، اپنے سفید پیٹ اور کالے پروں کے ذریعے پانی میں گھل مل جاتے ہیں۔ اوپر سے دیکھو تو وہ سیاہ لگتے ہیں، نیچے سے دیکھو تو آسمان جیسے سفید۔ یہ رنگ ان کے لیے قدرتی حفاظت بن جاتا ہے۔ خطرے کا اشارہ کچھ جانوروں کا سیاہ اور سفید رنگ دوسروں کے لیے خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سکنک ، جو اپنی بدبو دار رطوبت کے لیے مشہور ہے۔ جب کوئی شکاری اسے دیکھتا ہے تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ جانور نقصان پہنچا سکتا ہے، یوں وہ حملہ کرنے سے باز رہتا ہے۔ یعنی رنگ یہاں خبردار کرنے کا کام کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کچھ جانور ان رنگوں کو اشاروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیمر کی دم سیاہ اور سفید دھاری دار ہوتی ہے۔ جب وہ گروپ کی شکل میں چلتے ہیں تو اپنی دم اوپر رکھتے ہیں تاکہ دوسرے لیمرز انہیں پہچان سکیں اور راستے میں ساتھ رہیں۔ یہ فطرت کا ایک خوبصورت انداز ہے کہ رنگ صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ بات چیت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ فطرت کی اپنی سمجھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیاہ اور سفید رنگ جانوروں کے جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ گرمی کو جذب کرتا ہے جبکہ سفید رنگ اسے روکتا ہے۔ مگر پھر بھی، ان رنگوں کے بارے میں حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔ ہر جانور کی کہانی الگ ہے، ہر نظریہ ایک پہلو دکھاتا ہے۔ آخر میں سچ یہی ہے کہ فطرت کے رنگوں کے پیچھے سائنس کے پاس کبھی بھی سیاہ یا سفید جواب نہیں ہوتا۔ کبھی یہ رنگ تحفظ بن جاتے ہیں، کبھی خطرے کی علامت، اور کبھی محبت یا ہم آہنگی کا اشارہ۔ یہی فطرت کا حسن ہے جو ہر رنگ میں، چاہے وہ سیاہ ہو یا سفید، ایک نئی کہانی سنا دیتا ہے۔

تُربت محبت، ثقافت اور خوبصورتی کی سرزمین

تُربت    محبت، ثقافت اور خوبصورتی کی سرزمین

بلوچستان کے دل میں واقع تُربت ایک ایسا شہر ہے۔ جو اپنی قدیم تاریخ، روایات، محبت بھری داستانوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ شہر کیچ ضلع کا مرکزی مقام ہے، جو مکران ڈویژن میں واقع بلوچستان کا دوسرا بڑا اور ترقی یافتہ شہر ہے۔تُربت کا موسم زیادہ تر گرم رہتا ہے، مگر شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ جو شہر کی فضاؤں میں ایک خاص سکون پیدا کرتی ہیں۔تربت بلوچستان کی وہ دھرتی ہے۔ جہاں محبت، علم، تاریخ اور ثقافت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔تربت کے بازاروں میں بلوچی کپڑوں، ہاتھ سے بنے زیورات، اور روایتی اشیاء کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور سادہ زندگی اس خطے کی خوبصورتی کو اور بڑھا دیتی ہے۔ تُربت کا ذکر کیے بغیر سسی پُنّوں کی محبت کی داستان ادھوری لگتی ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے۔ جہاں محبت کی وہ لازوال کہانی جنم لیتی ہے۔ جو آج بھی دلوں کو چھو جاتی ہے۔ بلوچ شاعری میں سسی پُنّوں کی کہانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پُنّوں کا نام لبوں پر آئے، سسی کے آنسو دل کو جلائے، عشق کی راہ میں جو چلے، وہ تُربت کی مٹی کو پائے۔ یہ اشعار تُربت کی اس محبت بھری فضا کو بیان کرتے ہیں۔ جو صدیوں سے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ تُربت میں کئی تاریخی اور قدرتی مقامات موجود ہیں۔ جو سیاحوں کے لیے دلکشی رکھتے ہیں۔جب میں تربت پہنچی تو سب سے پہلے میری نظر سسی پنوں کے تاریخی قلعے پر پڑی۔ یہ قلعہ جیسے وقت کی گرد میں لپٹا ہوا ایک زندہ داستان ہو۔ مٹی سے بنا یہ بلند قلعہ آج بھی عشق اور وفا کی وہی خوشبو بکھیرتا ہے ۔جس کی مثال سسی اور پنوں کی محبت میں ملتی ہے۔ جب میں اس کی خستہ دیواروں کے قریب کھڑی تھی۔ تو محسوس ہوا جیسے ماضی اپنی سرگوشیوں میں وہی پرانی کہانیاں دہرا رہا ہو۔ یہاں آنے والے ہر شخص کے چہرے پر عقیدت اور حیرت کا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد میں دریائے کیچ کے کنارے جا پہنچی۔ تربت کے بیچوں بیچ بہتا یہ دریا اس علاقے کی روح معلوم ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا، بہتے پانی کی آواز اور کھجوروں کے درختوں کی قطاریں ایک پرسکون منظر پیش کر رہی تھیں۔ شام کے وقت جب سورج کی کرنیں پانی پر جھلملاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے۔ جیسے سارا منظر کسی خواب کا حصہ ہو۔ میں نے کچھ دیر وہیں بیٹھ کر اس خاموشی میں خود کو کھو دیا۔ پھر ہم کلّاتک کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور قدرتی چشموں کی ٹھنڈی ہوا دل کو چھو رہی تھی۔ کلّاتک پہنچ کر ایسا لگا جیسے میں کسی دوسرے جہاں میں آ گئی ہوں ۔ جہاں سکون ہی سکون ہے۔ پہاڑوں کی خاموشی، درختوں کی سرسراہٹ اور دور سے گونجتی پرندوں کی آواز ایک دلفریب احساس پیدا کر رہی تھی۔ اگلی صبح میں نے تربت کی مشہور کھجوروں کے باغات دیکھے۔ سنہری دھوپ میں چمکتی کھجوریں، محنتی کسانوں کے ہاتھوں سے توڑی جا رہی تھیں۔ ان کھجوروں کی مٹھاس صرف ذائقے میں نہیں، بلکہ ان میں تربت کے لوگوں کی محنت اور محبت بھی شامل ہے۔ دوپہر کے وقت ہم شہید فِدّا چوک پہنچے۔ تربت کا یہ مرکزی مقام زندگی سے بھرا ہوا تھا۔ اردگرد عمارتوں کی چمک اور لوگوں کی مصروفی ایک جدید تربت کی عکاسی کر رہی تھی۔ میں نے سوچا، جیسے یہ چوک تربت کی ترقی اور قربانیوں دونوں کی علامت ہے۔ رات کے وقت یہاں کی روشنیوں نے پورے شہر کو ایک نیا رنگ دے دیا۔ شام ڈھلے ہم بلیدہ کی طرف نکلے۔ راستے میں سرسبز وادیاں اور پرانے درخت ایک تاریخی کہانی سناتے محسوس ہوئے۔ بلیدہ کے لوگ بے حد سادہ اور مہمان نواز ہیں۔ ان کی باتوں میں خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت تھی۔ وہاں کی خاموش وادیوں میں ایک عجب سکون ہے جو دل کو چھو جاتا ہے۔ اور آخر میں، ہم مکران یونیورسٹی پہنچے۔ تربت کی یہ درسگاہ واقعی علم کی روشنی پھیلا رہی ہے۔ اس کی عمارتیں وسیع، میدان ہرے بھرے، اور ماحول پرامن ہے۔ نوجوانوں کو پڑھتے اور خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتے دیکھ کر ایک امید جاگی کہ تربت کا مستقبل روشن ہے۔ یہ سفر میرے لیے صرف مقامات دیکھنے کا نہیں بلکہ تربت کی روح کو محسوس کرنے کا تھا ، عشق، فطرت، محنت اور علم کی ایک حسین کہانی۔ تربت صرف ایک شہر نہیں بلکہ محبت، تاریخ، علم اور خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔یہ وہ دھرتی ہے ،جہاں سسی پنوں کی محبت کی خوشبو، دریائے کیچ کی ٹھنڈی لہریں،بلیدہ کی وادیاں، کلّاتک کے پہاڑ اور مکران یونیورسٹی کی روشنی مل کر تربت کو ایک انوکھا، خوبصورت اور یادگار شہر بناتی ہیں۔ تربت اپنی ثقافت، تعلیم، قدرتی حسن اور تاریخی ورثے کے باعث بلوچستان کا فخر اور پاکستان کی شان ہے۔ یہ شہر آج بھی اپنی مٹی میں محبت، علم اور وفا کے چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔تربت کےلفظی معنی قبر کے ہیں،لیکن یہ شہر اس کے برعکس ہے۔

سیاہ اور سفید جانور فطرت کے رنگوں سے الگ دنیا

سیاہ اور سفید جانور فطرت کے رنگوں سے الگ دنیا

دنیا رنگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کہیں مور اپنے نیلے سبز پروں سے نظارے بکھیرتا ہے تو کہیں سبز مینڈک، رنگ برنگی مچھلیاں پانی میں تیرتی ہیں۔ قدرت نے ہر جانور کو کسی نہ کسی رنگ سے نوازا ہے ، ان کے رنگوں کے پیچھے چھپی کہانیاں بہت دلچسپ ہیں۔جو نہ صرف ان کی پہچان ہے بلکہ اس ماحول کے مطابق ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے۔ مگر کچھ جانور ایسے بھی ہیں جن میں یہ شوخ رنگ نہیں ہوتے، ان کے جسم صرف سیاہ اور سفید ہوتے ہیں۔جو نہ صرف ان کی پہچان ہے بلکہ اس ماحول کے مطابق ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے۔ ایسے جانوروں میں سب سے نمایاں نام زیبرا کا ہے، جس کی سیاہ اور سفید دھاریاں ہمیشہ سے انسانوں کے لیے تجسس کا باعث رہی ہیں۔ کیا یہ دھاریاں صرف خوبصورتی ہیں یا ان کے پیچھے سائنس کا کوئی راز چھپا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔زیبرا کے سیاہ اور سفید رنگ فطرت کی حیران کن ترکیب زیبرا زیادہ تر افریقہ کے میدانوں اور جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ یہ گھوڑے کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، مگر اپنی منفرد رنگت کی وجہ سے دوسروں سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ زیبرا کا جسم مضبوط، ٹانگیں لمبی اور دوڑنے میں تیز ہوتی ہیں۔ وہ خطرہ محسوس کرتے ہی تیزی سے بھاگ نکلتا ہے، اور اس کی رفتار شکاری جانوروں کو دھوکہ دے دیتی ہے۔زیبرا ایک سماجی جانور ہے۔ یہ جھنڈ میں رہنا پسند کرتا ہے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ جب جھنڈ پر کوئی خطرہ آتا ہے تو زیبرا ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں اور مل کر دشمن سے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیبرا کے جسم پر بنی سیاہ اور سفید لکیریں صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتیں۔انگلینڈ کی برسٹل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیبرا کی دھاریاں کیڑوں کے کاٹنے سے بچاتی ہیں۔ماہرین نے دیکھا کہ خون چوسنے والی مکھیاں جیسے ہارس فلائیز دھاری دار جسم کے قریب آ کر الجھ جاتے ہیں،کیونکہ ان مکھیوں کی آنکھیں کمزور ہوتی ہیں۔ جب وہ زیبرا کو دیکھتے ہیں تو ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی ٹھوس جسم ہے یا روشنی کا پیٹرن، اور یوں وہ اس پر بیٹھنے کے بجائے اڑ جاتی ہیں۔یعنی زیبرا کی سیاہ سفید رنگت اس کے لیے ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب زیبرے ریوڑ کی شکل میں دوڑتے ہیں تو ان کی دھاریاں ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔دور سے دیکھنے والے شیر یا چیتے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا زیبرا الگ ہے۔یوں ان دھاریوں کی مدد سے زیبرا شکاریوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہتا ہے۔یہ دھاریاں ان کے لیے چھلاورن (camouflage) کی طرح کام کرتی ہیں، جو فطرت کا ایک نہایت حسین تحفہ ہے۔اور افریقہ کے گرم موسم میں زیبرا کے جسم پر موجود دھاریاں درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔سیاہ حصہ سورج کی گرمی کو جذب کرتا ہے جبکہ سفید حصہ روشنی کو واپس منعکس کر دیتا ہے۔یہ دونوں مل کر ایک ہلکی ہوا پیدا کرتے ہیں جو زیبرا کے جسم کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔یوں ان دھاریوں کی بدولت زیبرا قدرتی طور پر گرمی سے محفوظ رہتا ہے،اور قدرتی ایئرکنڈیشن کا کام کرتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر زیبرا کی دھاریاں منفرد ہوتی ہیں۔بلکل ویسے جیسے انسان کے فنگر پرنٹس الگ ہوتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق زیبرا اپنی دھاریوں سے ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں،یوں یہ دھاریاں ان کی شناخت اور سماجی تعلقات کا حصہ بھی ہیں۔ زیبرا کی سیاہ اور سفید دھاریاں صرف خوبصورتی نہیں بلکہ سائنس، ماحول اور فطرت کے کامل امتزاج کی مثال ہیں۔یہ رنگ اسے گرمی، کیڑوں اور شکاریوں سے بچاتے ہیں،اسے پہچان دیتے ہیں، اور قدرتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہیں۔ شکاریوں سے بچنے کا طریقہ پانڈا کا رنگ بھی سیاہ اور سفید ہوتا ہے۔ چین کے برفیلے جنگلات میں جب برف اور درختوں کے سائے مل کر سیاہ و سفید منظر بناتے ہیں تو پانڈا ان کے درمیان چھپ جاتا ہے۔ اسی طرح سمندری جانور جیسے پینگوئن ، اپنے سفید پیٹ اور کالے پروں کے ذریعے پانی میں گھل مل جاتے ہیں۔ اوپر سے دیکھو تو وہ سیاہ لگتے ہیں، نیچے سے دیکھو تو آسمان جیسے سفید۔ یہ رنگ ان کے لیے قدرتی حفاظت بن جاتا ہے۔ خطرے کا اشارہ کچھ جانوروں کا سیاہ اور سفید رنگ دوسروں کے لیے خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سکنک ، جو اپنی بدبو دار رطوبت کے لیے مشہور ہے۔ جب کوئی شکاری اسے دیکھتا ہے تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ جانور نقصان پہنچا سکتا ہے، یوں وہ حملہ کرنے سے باز رہتا ہے۔ یعنی رنگ یہاں خبردار کرنے کا کام کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کچھ جانور ان رنگوں کو اشاروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیمر کی دم سیاہ اور سفید دھاری دار ہوتی ہے۔ جب وہ گروپ کی شکل میں چلتے ہیں تو اپنی دم اوپر رکھتے ہیں تاکہ دوسرے لیمرز انہیں پہچان سکیں اور راستے میں ساتھ رہیں۔ یہ فطرت کا ایک خوبصورت انداز ہے کہ رنگ صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ بات چیت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ فطرت کی اپنی سمجھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیاہ اور سفید رنگ جانوروں کے جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ گرمی کو جذب کرتا ہے جبکہ سفید رنگ اسے روکتا ہے۔ مگر پھر بھی، ان رنگوں کے بارے میں حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔ ہر جانور کی کہانی الگ ہے، ہر نظریہ ایک پہلو دکھاتا ہے۔ آخر میں سچ یہی ہے کہ فطرت کے رنگوں کے پیچھے سائنس کے پاس کبھی بھی سیاہ یا سفید جواب نہیں ہوتا۔ کبھی یہ رنگ تحفظ بن جاتے ہیں، کبھی خطرے کی علامت، اور کبھی محبت یا ہم آہنگی کا اشارہ۔ یہی فطرت کا حسن ہے جو ہر رنگ میں، چاہے وہ سیاہ ہو یا سفید، ایک نئی کہانی سنا دیتا ہے۔

سردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلینسردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلین

سردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلینسردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلین

سردیوں کی آغاز کے ساتھ ہی ٹھنڈی ہوائیں خنکی کا احساس اونی ملبوسات اور سنہری دھوپ کا تحفہ ہمارے موسم کا حصہ بن جاتی ہے وہیں بالوں کی حالت بھی بدلنے لگتی ہے انسان کی آدھی پرسنلٹی اسکے سر کے بالوں میں ہوتی ہے سر کے بال انسان کی شناخت اور سخاوت کا گہرا جزو ہے اوسطاً ایک انسان کے بال دو سے پانچ ملین کے درمیان ہوتے ہیں جن میں سے 100٫000 سر کی جلد پر ہوتے ہیں اور روزانہ ہر انسان کے 60 سے 70 بال گرتے ہیں سوتے ہوئے کنگھی کرتے ہوئے یہ ایک نارمل فینومنا ہے جیسے روزانہ درخت سے پتے گرتے ہیں ویسے ہی بال بھی روز گرتے ہیں لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سردیوں میں بال بے رونق خشک خشناک اور جھڑنے لگتے ہیں جس کی شکایت ہر عمر کی خواتین اور مرد کرتے ہیں کیونکہ سردیوں کے موسم میں بالوں کا خشک اور بے جان ہونا ایک عام مسئلہ ہے سردیوں میں بال سورج کی شعاعوں سے متاثر ہوتے ہیں ہوا میں نمی کا تناسب کم یا زیادہ ہوتا ہے جس سے بال اپنی قدرتی نمی برقرار نہیں رکھ پاتے یوں بال بےجان دو منہے ہے کہ شکار اور الجھے ہوئے محسوس ہوتے ہے عموماً ہم سردیوں میں پانی بھی کم پیتے ہیں کیونکہ پیاس کم لگتی ہے مگر جسم کو نمی اتنی ہی ضروری رہتی ہے جتنی گرمیوں میں ہوتی ہے جو پانی جسم کو مناسب مقدار میں نہیں ملتا ہے تو اس کا سب سے بڑا اثر پہلے بالوں ٫ جلد اور کھوپڑی پر پڑتا ہے سردی میں پانی کم پینے کی وجہ سے بال اپنی قدرتی نمی کھو دیتے ہیں جس کے باعث بال خشک کھردرے اور بے جان نظر اتے ہیں اور جب کھوپڑی نمی سے محروم ہو جاتی ہے تو اس میں خشکی اور سفید چھلکے ظاہر ہونے لگتے ہیں جس سے ٹرینڈرف بڑھتا ہے پانی خون کی روانگی بہتر بناتا ہے اور پانی کم پینے سے کھوپڑی تک غذائیت کم پہنچتی ہے بال لمبے ہونے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور پھر ڈی ہائڈریشن کی وجہ سے بال کمزور ہو جاتے ہیں اور اسانی سے ٹوٹنے لگتے ہیں اسی وجہ سے دومہیے زیادہ بنتے ہیں سردیوں میں ہمیں پیاس کم لگتی ہے پھر بھی انسان کو 7 سے 8 گلاس روزانہ پانی پینا چاہیے یہ نہ صرف صحت بلکہ بالوں کی چمک مضبوطی اور بڑھوتری کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ پانی بالوں کے لیے قدرتی موسٹرائز ہے کا کام کرتا ہے دوسری طرف سردیوں میں زیادہ تر لوگ گرم پانی سے نہاتے ہیں گرم پانی وقتی سکون تو دیتا ہے لیکن یہ بالوں کا قدرتی تیل کو ختم کر دیتا ہے جو بالوں کو نرمی اور چمک فرام کرتا ہے جس طرح سردیوں میں لوگ بالوں کو روزانہ نہیں دھوتے ہیں نہ ہی بالوں کی صفائی کا خیال بھی رکھتے ہیں جب ایک دن بالوں میں تیل لگاتے ہیں تین چار دن لگا رہنے دیتے ہیں اور یہی بال گرنے کی وجہ بن جاتی ہے جیسے گرمیوں میں ہم اپنے بالوں کی حفاظت رکھتے ہیں سردیوں میں بھی ہمیں ویسے ہی بالوں کی حفاظت رکھنی چاہیے اسی طرح سردیوں میں گھروں اور کمروں میں ہیٹرز کا زیادہ استعمال اور مسلسل گرمی ڈالنے والے الات سٹریٹنر ڈرائیر کا زیادہ استعمال بالوں کی جڑوں اور سطح دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے تو ان سب مسائل کو ہمیں کیسے مین ٹین رکھنا ہے یا ہماری روٹین ڈائٹ پلین کیسی ہونی چاہیے جس میں ہم اپنے بالوں کو فزینس یا ڈیمج ہونے سے حفاظت کریں ہم شروعات لیتے ہیں جب ہم بالوں کو شیمپو کرتے ہیں تو شیمپو ہمارے بالوں کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ مارکیٹ میں مختلف طرح کے شیمپو دستیاب ہوتے ہیں جو ڈرائے بالوں٫ آئلی بالوں یا نارمل بالوں اور کلر بالوں کے لیے ہوتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بالوں کے مطابق شیمپو کا استعمال کریں جس طرح ہم فیس واش اپنی سکن کے مطابق استعمال کرتے ہیں ویسے ہی شیمپو بھی ہمیں بالوں کے مطابق استعمال کرنا چاہیے اور شیمپو میں بھی دو طرح کے شیمپو ہوتے ہیں ایک ڈیلی استعمال شیمپو ہوتے ہیں اور دوسرا ڈیپ کلیننگ شیمپو ہوتے ہیں جو کلیننگ شیمپو ہوتے ہیں وہ ہمارے بالوں کی گہرائی سے صفائی کرتے ہیں اور وہی ہمارے بالوں کا نیچرلی ائل بھی ختم کر لیتے ہیں اسی لیے ان کا استعمال جو ہے ہمیں مناسب مقدرار میں کرنا چاہیے لیکن جو ڈیلی شیمپو ہوتے ہیں وہ بھی ڈیلی کے لیے نہیں ہوتے عام طور پر لوگ روزانہ شیمپو کا استعمال کرتے ہیں حتی کہ بہت سے لوگ دو سے تین بار بالوں کو شیمپو کر رہے ہیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہفتے میں دو سے تین بار شیمپو کا استعمال کرنا چاہئیے اور ساتھ میں پانی کا نارمل پانی کا استعمال کریں ہے اس کے بعد ہمیں کنڈیشنر کا استعمال کرنا چائیے اور کنڈیشنر بھی دو٫ تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ کنڈیشنر جو ہر شیمپو کے بعد نارمل استعمال کرتے ہیں جیسے ڈیلی استعمال کا کنڈیشنر کہا جاتا ہے اس کا استعمال ہم جب بھی بال واش کرتے ہیں تو دو سے تین منٹ تک بالوں پر لگا رہے دیتے ہیں اور بالوں کے مڈل لینتھ سے لگانا شروع کرتے ہیں اس کو بالو ں کی جڑوں میں نہیں لگاتے ہیں کیونکہ جڑوں میں لگانے سے بال فریزینس اور ائلی ہوتے ہیں ایک کنڈیشنر جو ہوتے ہیں وہ ڈیپ کنڈیشنر کہلاتے ہیں یہ مزید ہمارے بالوں کو نمی فراہم کرتا ہے اور موئسچرائز کا کام کرتا ہے اور اس کو زیادہ دیر تک بل لوں پر لگائے رکھتے ہیں اور جو کچھ کنڈیشنرز ہوتے ہیں وہ لیونگ کنڈیشنرز کہلاتے ہیں یہ وہ کنڈیشنر ہوتے ہیں جو بال دھونے یا شیمپو کرنے کی عموما بعد لگائے جاتے ہیں اسی طرح جیسے ہم دوسرے کنڈیشنرز لگاتے ہیں لیکن اس کو ہم دوبارہ واش نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ لگا رہتا ہے تو اسی طرح ہم مختلف کنڈیشنرز کا استعمال مختلف اوقات میں اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں تو یہ بالوں کی نمی کو واپسی کرتا ہے جو شیمپو کی وجہ سے بالوں کا کم ہو گیا ہوتا ہے اور ٹیکسر دینے میں مدد کرتا ہے ہیئر مارکس بھی ملتے ہیں جن کا بنیادی مقصد بالوں کی غذائیں پورا کرنا ہوتا ہے اس کو بھی ہمیں مہینے میں ایک تو استعمال کرنا چاہیے بالوں کے لیے مارکیٹ میں خاص قسم کے میڈیکیٹڈ اور نون میڈیکیٹڈ کریمز اور ائلز دستیاب ہیں جو کہ آپ بال دھونے کے بعد لگا سکتے ہیں تاکہ بالوں کو پروٹیکٹ کر سکے اور ان کو شائن اور نمی دیں سکے اس کے علاوہ جب ہم بال دھوتے ہیں تو کوشش کریں کہ ہر دفعہ ہیر ڈائیر نہ کریں بلکہ بالوں کو قدرتی طور پر خشک ہونے دیں جیسے نارملی ہوا میں خشک ہوتے ہے ہیر سٹریٹنرز یا گرم آلات ہوتے ہیں ان کا استعمال روز مرہ کی زندگی میں نہ کریں اور اگر اپ استعمال کرتے ہیں تو مارکیٹ میں ہیئر پروٹیکشن سیرم ٫ ہیر اسپرے بالوں کی حفاظت کے لیے ملتے ہیں جو کہ بالوں پر گرم آلات استعمال کرنے سے پہلے لگائے جاتے ہیں تاکہ بالوں کو ڈیمج ہونے سے پروٹیکٹ کریں ہمیشہ کوشش کریں کہ گیلے بالوں میں کنگھی نہ کریں اکثر کچھ لوگوں کے بال کنگرالے ہوتے ہیں تو ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ گیلے بالوں میں کنگھی کریں تو ان کو بھی چاہیے کہ موٹے دانوں والی کنگی کا استعمال کریں کیونکہ باریک دانوں والی جو کنگی ہوتی ہے اسکے اندر بال الجھتے اور ٹوٹتے ہیں بالوں کو لے کر ہم مزید بات کریں جب فریزی جھرجھری ہو رہے ہیں تو اس کا جو بنیادی مسئلہ ہوتا ہے وہ ڈرائینیس خشکی ہوتی ہے ایسے میں بالوں کی حقیقی حفاظت تبھی ممکن ہے جب ہم قدرتی یا آرگینک طریقوں کو اپناتیں ہیں قدرت کے دیے گئے تیل ٫جڑی بوٹیاں اور غذائیں ہمارے بالوں کو مضبوط اور صحت مند رکھتے ہیں ناریل زیتون بادام کلونجی کے تیل میں ے تیل ہم وزن مقدار میں مکس کر کے فارمولہ بنا کر استعمال کرتے ہیں تو یہ فارمولہ بالوں کے لیے بے حد مفید ہوتا ہے کیونکہ جلد ناخن اور بالوں سے جڑے امراض کا علاج کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کے دانے انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے ان کی افادیت نہ صرف طب بلکہ سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت شدہ ہے جہاں کلونجیدی کے کھانے کے نتیجے میں مجموعی صحت ان گنت فوائد حاصل ہوتے ہیں وہی اس سے حاصل ہونے والے تیل کا براہ راست بھی بے حد مفید ہوتا ہے ماہرین کے مطابق خوبصورت اور مضبوط بال حاصل کرنے کے لیے ان کی جڑوں میں تیل کی ملش کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ گھر کے بڑے بزرگ بھی سر میں تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ماہرین کے مطابق کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں کو مضبوط اور نمی فراہم کرتا ہے کلونجی کے تیل سے اگر بالوں کی جڑوں میں مساج کیا جائے تو مضبوط لمبے گنے اور ملائم ہوجاتے ہیں کلونجی کے تیل سے فارمولا تیل بنانے کے لیے ہم وزن میں سرسوں اور زیتون کا تیل لے کر دونوں کو اچھی طرح مکس کر لو اب اس میں سرسوں اور زیتون کے تیل کی ادھی مقدار میں بادام اور ناریل کا تیل ڈال کر شامل کر لیں اور نیم گرم کر کے دو سے تین چمچ کلونجی کی تیل شامل کر کے کانچ کی بوتل میں منقل کر لیں اس بوتل کو ایک ہفتے تک روزانہ کی بنیاد پر تیز دھوپ کی تپش میں رکھیں اور شام ہوتے ہی چھاؤں میں رکھ دیں ایک کے بعد اس کا استعمال شروع کرتے ہیں ہر بار اس تیل کے استعمال سے قبل ہے تیل میں وٹامن ای کے چند قطرے بھی ملا لیں بالوں کی گرنے کی تعداد اگر زیادہ ہو تو اس تیل میں باجرہ ڈال دو دن مزید دھوپ میں رکھ دیں اور بعد اذاں کا استعمال کریں گرتے بالوں کا علاج کے لیے اس تیل کا استعمال شرط ہے طریقہ استعمال شرط ہے بہترین نتائج کے لیے اس تیل کا استعمال کم از کم ہفتے میں دو بار ضرور کریں اور ایلوویرا اور مہندی جیسے اجزاء بالوں میں قدرتی نرمی اور چمک پیدا کرتے ہیں یہ وہ قدرتی تحفے ہیں جو بالوں کو ٹوٹنے گرنے اور بے رونق سے بچانے میں موثر کردار ادا کرتے ہیں تاہم بالوں کی صحت صرف بیرونی نگہداشت پر منحصر نہیں، بلکہ اندرونی غذائیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا سردیوں میں بالوں کی مضبوطی کا دوسرا اہم راز ہے۔ پروٹین، آئرن، وٹامن ای، بایوٹن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور خوراک جیسے انڈے، مچھلی، دودھ، میوے، ہری سبزیاں اور پھل نہ صرف جسم کو توانائی دیتے ہیں بلکہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں یوں قدرتی نگہداشت اور صحت بخش غذا کا حسین امتزاج سردیوں میں بالوں کی خوبصورتی، چمک اور زندگی کو برقرار رکھنے کی بہترین ضمانت ہے۔ سردیوں میں بالوں کی حفاظت دراصل خود سے محبت اور اپنی فطری خوبصورتی کا احترام ہے۔ اگر ہم قدرتی طریقوں کو اپنائیں، مصنوعی کیمیکل سے بچیں اور اپنی غذا کو متوازن بنائیں تو بال نہ صرف موسم کی سختی برداشت کر سکتے ہیں بلکہ اپنی قدرتی چمک، نرمی اور جان بھی برقرار رکھتے ہیں۔ یہ موسم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوبصورتی کا تعلق صرف ظاہری سنوار سے نہیں بلکہ روزمرہ کی دیکھ بھال، قدرتی عادات اور مثبت طرزِ زندگی سے بھی ہے۔ لہٰذا اس سرد موسم میں اپنے بالوں کو وہ توجہ دیں جس کے وہ مستحق ہیں — کیونکہ جب بال صحت مند ہوں تو شخصیت خود بخود نکھر جاتی ہے۔

نایاب معدنیات: اکیسویں صدی کی طاقت کا نیا مرکز

نایاب معدنیات: اکیسویں صدی کی طاقت کا نیا مرکز

مشہور فرانسیسی فلسفی مشل فوکو نے کہا تھا کہ “انسان ہمیشہ سے طاقت کا بھوکا رہا ہے۔ تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ بقاء کی جنگ کے بعد انسان نے ہمیشہ طاقت کے حصول کے لیے جدوجہد کی۔ وقت کے ساتھ طاقت کا مفہوم بدلتا گیا ۔  کبھی زمین طاقت کی علامت تھی، کبھی سرمایہ، اور آج کے دور میں نایاب معدنیات  نے طاقت کا نیا روپ دھار لیا ہے۔  زراعتی دور میں طاقتور وہ سمجھا جاتا تھا جس کے پاس زمین اور جاگیریں زیادہ ہوں۔ پھر صنعتی انقلاب آیا اور کارخانوں، مشینوں اور سرمایہ داری نے طاقت کا نیا معیار طے کیا۔بیسویں صدی میں تیل (Petroleum) نے دنیا کی معیشت اور سیاست پر قبضہ جما لیا۔ اسی لیے اسے “تیل کی صدی” کہا جاتا ہے۔ جس ملک کے پاس تیل کے ذخائر تھے، وہ عالمی سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی پر حاوی تھا۔ لیکن اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے ،  اکیسویں صدی کا دور نایاب معدنیات کا دور ہے۔ نایاب معدنیات (Rare Earth Minerals) دراصل 17 دھاتوں کا ایک مخصوص گروہ ہیں جو زمین کی تہہ میں پائی جاتی ہیں۔ یہ معدنیات مقدار میں بہت کم اور حاصل کرنے میں مشکل ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں “نایاب” کہا جاتا ہے۔ نایاب معدنیات میں  اہم عناصر یہ ہیں: لیمیتھینیم (Lanthanum)، سیریم (Cerium)، نیوڈیمیم (Neodymium)، پرسیوڈیمیم (Praseodymium)، یورپیئم (Europium)، ڈیسپروسیئم (Dysprosium)، ٹربیئم (Terbium) وغیرہ شامل ہیں۔  یہ دھاتیں بظاہر عام نظر نہیں آتیں، مگر جدید دنیا کی تقریباً ہر ٹیکنالوجی انہی پر چل رہی ہے۔ یہ دھاتیں اکیسویں صدی کی معیشت اور طاقت کا انجن بن چکی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیاں (EVs) اور بیٹریز انہی معدنیات کے بغیر ممکن نہیں۔ ونڈ ٹربائنز اور سولر پینلز میں یہی عناصر توانائی پیدا کرنے کا بنیادی حصہ ہیں۔ موبائل فونز، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر چپس، فائبر آپٹکس اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام بھی ان دھاتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فوجی ٹیکنالوجی  جیسے لڑاکا طیارے، میزائل سسٹمز اور ریڈار  میں بھی ان کا استعمال لازمی ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ معدنیات “اکیسویں صدی کا طاقت کا سہارا” بن چکی ہیں۔ دنیا بھر میں ان معدنیات کی پیداوار پر چند ہی ممالک کا کنٹرول ہے۔ ان میں چین، امریکہ، آسٹریلیا، اور افریقہ کے بعض ممالک شامل ہیں۔ فی الحال چین سب سے آگے ہے جو دنیا کی تقریباً 60 تا 70 فیصد پیداوار برآمد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اس میدان میں “طاقت کا مرکز” بن چکا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ وہ چین پر اپنا انحصار کم کریں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر نایاب معدنیات کے شعبے میں برتری حاصل نہ کی گئی تو ٹیکنالوجی اور دفاع میں اس کی سپرمیسی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان نایاب معدنیات کے شعبے میں تعاون کے معاہدے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں ان قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہوسکتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو سائنسی اور پائیدار انداز میں دریافت کیا گیا تو پاکستان اس خطے میں معاشی و تکنیکی طاقت بن سکتا ہے۔ دنیا کی تاریخ ہمیشہ وسائل کے گرد گھومتی رہی ہے ۔ کبھی زمین، کبھی تیل، اور اب نایاب معدنیات۔ اگر بیسویں صدی تیل کی تھی تو اکیسویں صدی یقیناً نایاب معدنیات کی صدی ہوگی۔ آج جس کے پاس یہ وسائل ہیں، کل وہی دنیا کی معیشت، ٹیکنالوجی اور سیاست کی سمت متعین کرے گا۔

نئی نسل کی خاموش بیماری: اسکرین ایڈکشن

نئی نسل کی خاموش بیماری: اسکرین ایڈکشن

اگر ہم 1990 کی دہائی کا ایک عام مڈل کلاس گھر دیکھیں تو ایک خوبصورت منظر سامنے آتا ہے۔ شام کا وقت ہے، پاپا صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں، امی اُن کے ساتھ دنیا بھر کی خبریں شیئر کر رہی ہیں۔ دس سال کی بیٹی ہوم ورک کرتے ہوئے میتھ کے سوالات والدین سے پوچھ رہی ہے، جبکہ تین سال کا بیٹا فرش پر بیٹھ کر اپنے کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ ہنسی مذاق، بات چیت، اور ایک مضبوط خاندانی رشتہ اس ماحول کو مکمل کر رہا ہے۔ سب ایک ہی جگہ، ایک دوسرے کے ساتھ ذہنی و جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اب ذرا 2025 کی شام دیکھیے ، وہی گھر، وہی افراد، مگر منظر بالکل بدل چکا ہے۔ پاپا موبائل میں نیوز اسکرول کر رہے ہیں، امی کسی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر سیریز دیکھنے میں مصروف ہیں، بیٹی انسٹاگرام کی اسٹوریز چیک کر رہی ہے، اور تین سال کا بیٹا یوٹیوب کے شورٹس میں گم ہے۔ چاروں ایک ہی جگہ موجود ہیں مگر ذہنی طور پر چار الگ دنیاؤں میں کھوئے ہوئے کوئی گفتگو نہیں، کوئی مسکراہٹ نہیں ،صرف موبائل اسکرین کی نیلی روشنی جو ان کے چہروں پر پڑتی ہے اور ان کے بیچ بڑھتی دوریوں کو واضح کرتی ہے۔ یہ منظر بظاہر عام لگتا ہے مگر درحقیقت یہ موبائل ایڈکشن کے بڑھتے اثرات کی ایک خاموش مگر تلخ تصویر ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں دنیا کو ایک کلک پر سمیٹ لیا ہے۔ وہی موبائل فون کا زیادہ استعمال ہمارے بچوں کی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ اس اسکرین کے پیچھے چھپے رنگ برنگے کارٹونز اور گیمز ہمارے بچوں کے دماغ کو بیمار کر رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں موبائل فون زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب بچے بھی ہر وقت اسکرین کے سامنے نظر آتے ہیں۔ کبھی گیمز کھیلتے ہیں، کبھی ویڈیوز دیکھتے ہیں یا سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون کا یہ زیادہ استعمال بچوں کے دماغ پر کیا اثر ڈال رہا ہے؟ ٹیکنالوجی اور بچپن -ترقی اور تنہائی کا سفر ٹیکنالوجی نے بچوں کے بچپن کی معصوم دنیا کو جدت کے رنگوں میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلےزمانے میں بچے گلیوں میں کھلی فضا میں کھیلتے ، دوستوں سے میل جول رکھتے اور ہنسی مذاق میں وقت گزارتے تھے، وہیں اب ان کا زیادہ وقت موبائل، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزرنے لگا ہے۔ کھیل کے میدانوں کی جگہ آن لائن گیمز نے لے لی ہے، اور حقیقی میل جول کی جگہ ورچوئل چیٹ نے۔جس سے ان کی معاشرتی صلاحیتیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ اس تبدیلی نے بچوں کے سیکھنے اور سوچنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے نئے دروازے کھولتی ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے استعمال میں توازن رکھا جائے تاکہ بچپن کی معصومیت اور تخلیقی صلاحیتیں برقرار رہ سکیں۔۔ زہنی نشوونما میں کمی اسکرین کا زیادہ استعمال سے بچے کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ جب بچہ کھیلنے، سیکھنے اور دوسروں سے بات کرنے کے بجائے صرف اسکرین دیکھتا ہے تو اس کے دماغ کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے 70 ہزار سے زائد والدین پر کی گئی تحقیق کے مطابق 66 فیصد سے زیادہ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں۔ 58 فیصد والدین نے یہ بتایا کہ اس عادات کی وجہ سے بچوں میں غصہ اور چڑچڑاپن بڑھ گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization) کی تفشش کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں کو بالکل بھی اسکرین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دو سے چار سال کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم دن میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ ہونا چاہیے۔ 2. مجازی یا ورچوئل آٹزم (Virtual Autism) اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں "ورچوئل آٹزم" جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یہ بچے دوسروں سے نظری رابطہ نہیں رکھتے، آوازوں پر کم ردِعمل دیتے ہیں، اور اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ وہ اصل دنیا کے لوگوں کے بجائے صرف کارٹونز اور ویڈیوز سے بات چیت کرتے ہیں، اس لیے ان کی سماجی اور جذباتی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ جب بچے ہر وقت موبائل پر ویڈیوز دیکھتے ہیں تو وہ صرف سننے کے عادی ہو جاتے ہیں، بولنے یا دوسروں سے بات کرنے کی مشق نہیں کرتے۔ والدین کے ساتھ گفتگو کم ہونے سے ان کا ذخیرہ الفاظ (vocabulary) نہیں بڑھتا۔ اسی وجہ سے بہت سے بچے دیر سے بولتے ہیں یا الفاظ ٹھیک طرح ادا نہیں کر پاتے۔ موٹاپا (Obesity) زیادہ اسکرین استعمال کرنے والے بچوں میں موٹاپے کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے باہر جا کر کھیلنے یا کسی جسمانی سرگرمی (ایکٹیویٹی) میں حصہ نہیں لیتے۔ وہ زیادہ تر وقت گھر میں بیٹھ کر موبائل، ٹی وی یا کمپیوٹر کی اسکرین دیکھتے رہتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ (یو کے) میں ایک ہزار بچوں پر کیے گئے سروے میں جب پوچھا گیا کہ وہ کھیل کود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، تو 23 فیصد بچوں نے کہا کہ کمپیوٹر پر گیم کھیلنا بھی ایک ورزش (ایکسسرسائز) ہے۔ کھانا کھاتے وقت بھی والدین اکثر بچوں کو موبائل دکھاتے ہیں تاکہ وہ آرام سے کھانا کھا لیں۔ مگر تحقیق کے مطابق جو بچے کھانے کے دوران اسکرین دیکھتے ہیں، وہ زیادہ کیلوریز (Calories) کھاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھانے پر توجہ نہیں دیتے اور انہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنا کھا چکے ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکرین دیکھتے ہوئے بچے کھانا اچھی طرح چباتے نہیں، جس کی وجہ سے دانتوں میں کیویٹی (cavity) ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ یعنی زیادہ اسکرین ٹائم نہ صرف جسمانی سرگرمی کو کم کرتا ہے بلکہ بچوں میں موٹاپے، غیر صحت مند کھانے کی عادت اور دانتوں کی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ . نظر کی کمزوری (Myopia) بچوں کی آنکھیں ابھی نازک ہوتی ہیں۔جب اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کے باعث بچے باہر کھیلنے یا قدرتی روشنی میں وقت گزارنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب وہ موبائل کی اسکرین کو قریب سے اور زیادہ دیر تک دیکھتے ہیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔دن کی دھوپ اور رات کی قدرتی روشنی سے کم واسطہ ہونے کی وجہ سے ان میں مایوپیا (یعنی دور کی نظر کا کمزور ہونا) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مایوپیا تیزی سے ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینز کے زیادہ استعمال سے دنیا میں مایوپیا کے کیسز میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2050 تک دنیا کے 50 فیصد بچوں کو مایوپیا لاحق ہونے کا خطرہ ہے، اور اکثر بچوں کو چشمہ لگانا پڑے گا۔ یہ مسئلہ اب بہت عام ہو چکا ہے، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں میں۔ نیند اور جسمانی صحت آج کے بچے نیند سے زیادہ موبائل کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔رات کو سونے کے بجائے وہ دیر تک اسکرین کے سامنے لگے رہتے ہیں۔ گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے چمکتے رنگ ان کی آنکھوں اور دماغ کو جاگتا رکھتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق پانچ سے سترہ سال کی عمر کے بچوں پر کی گئی 67 مختلف اسٹڈیز سے پتا چلا کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی نیند کے دورانیے کو کم کر دیتا ہے۔ فن لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق میں تین سے چھ سال کے 736 بچوں کو شامل کیا گیا۔ اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ جب بچوں کا اسکرین ٹائم ایک گھنٹہ بڑھتا ہے تو ان کی نیند کا دورانیہ تقریباً دس منٹ کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چین میں کی گئی ایک اور تحقیق میں بھی یہی نتیجہ سامنے آیا کہ جن بچوں کا اسکرین ٹائم زیادہ ہوتا ہے، ان میں نیند کی خرابی (Sleep Disorder) کا خطرہ تقریباً 12 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ میلٹونن (Melatonin) نامی ہارمون ہے، جو نیند لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ہارمون تب بنتا ہے جب ہمارے آس پاس روشنی کم ہو، یعنی جب رات ہوتی ہے اور لائٹس بند کی جاتی ہیں تو جسم خود کو سونے کے لیے تیار کرتا ہے۔ لیکن موبائل اور دوسری الیکٹرانک ڈیوائسز سے نکلنے والی نیلی روشنی اس ہارمون کی پیداوار کو روک دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو نیند آنے میں دیر لگتی ہے اور ان کی نیند کا نظام بگڑ جاتا ہے۔