کوئٹہ میں اساتذہ کی مبینہ غیرقانونی تقرریوں کی تحقیقات کے سلسلے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے ٹیسٹنگ سروس سی ٹی ایس پی کے سی ای او فیصل کاکڑ کو 7 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔ عدم حاضری کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کے وژن کے تحت محکمہ امور نوجوانان حکومت بلوچستان نے بلوچستان یوتھ سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مرڈین پبلک ہائی اسکول میں ایک روزہ تربیتی سرگرمی کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس سیشن کا موضوع “Dream Big, Start Early, Build Your Future” تھا جس کی قیادت ٹرینر محترمہ ملائکہ اعظم نے کی۔ تربیتی سیشن میں 86 سے زائد طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ پروگرام کا آغاز پانچ زبانوں میں خوش آمدید کہنے سے ہوا جس نے شمولیت اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کیا۔ طلبہ نے مختصر حوصلہ افزائی کی قسم اٹھائی اور مستقبل کے حوالے سے اپنی 5–10 سالہ وژن شیئر کی۔ Choosing Your Path سرگرمی نے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں اور ممکنہ کیریئر آپشنز پر غور کرنے کی ترغیب دی۔ سیشن میں کیریئر، اسکالرشپ اور فیلوشپ کے عملی رہنمائی بھی دی گئی۔ سیشن کا اختتام خود شناسی، حوصلہ افزائی اور مثبت مستقبل کے عزم کے پیغام کے ساتھ ہوا۔
جامعہ بلوچستان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے، تحقیق، تربیت اور طلباء کی عملی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت مشترکہ ورکشاپس، انٹرن شپس اور تحقیقی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
اسلام آباد: جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد باذئی نے بیوٹمز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین کے ہمراہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (ٹی ڈی ایف) کے کامیاب منصوبوں کی نمائش کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب پاک چین فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں ٹی ڈی ایف کے تحت فنڈ کیے گئے کامیاب تحقیقی و تکنیکی منصوبے پیش کیے گئے۔ جامعہ بلوچستان کی جانب سے منتخب شدہ منصوبہ پروفیسر ڈاکٹر وحید نور نے پیش کیا، جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان جی آئی ایل لیب کے دیگر منصوبے بھی نمائش کا حصہ تھے۔
وائس چانسلرز نے مختلف ٹیکنالوجی اسٹالز کا دورہ کیا، شرکاء سے ملاقات کی اور مستقبل میں باہمی تعاون اور اشتراک کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ تقریب نے جامعہ بلوچستان کی اطلاقی تحقیق، جدت طرازی اور اکیڈمیا و صنعت کے درمیان روابط کے فروغ میں بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا۔
جامعہ مکران پنجگور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر سعادت بلوچ نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید سے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کاروباری مواقع کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وائس چانسلر کو حکومتِ بلوچستان کے رائز (RISE) منصوبے سے آگاہ کیا گیا، جس میں پنجگور کے نوجوانوں کی شمولیت، ہنر مندی کی تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کو خود مختار بنانے اور پنجگور کے نوجوانوں کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے اکیسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ کانووکیشن کی تقریبات محض رسمی تقاریب نہیں ہوتیں بلکہ یہ فکری ترقی، ذاتی کامیابی اور معاشرے کی خدمت کے سفر کے اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ آج بیوٹمز سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ پاکستان اور بلوچستان کی امیدوں کے ترجمان ہیں اور علم و ترقی کے مشعل بردار کے طور پر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور ان کی ٹیم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیوٹمز مسلسل تعلیمی معیار، تحقیق اور جدت کی علامت بن کر ابھری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں بیوٹمز کو عالمی بینڈ 1500 میں شامل کیا گیا ہے، جو بلوچستان کی واحد جامعہ ہے جسے عالمی سطح پر درجہ بندی میں جگہ ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی یونیورسٹی کی معیاری تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے مستقل کوششوں کا ثبوت ہے۔
تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر بیوٹمز، دیگر سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران، والدین اور طلبہ نے شرکت کی۔ کانووکیشن کے دوران 10 پی ایچ ڈی، 685 بی ایس اور 41 ایم ایس و ایم بی اے طلبہ میں ڈگریاں اور گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے۔
گورنر بلوچستان نے اپنے خطاب میں مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے شعبوں میں سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنے کے بیوٹمز کے وژن کو سراہا اور کہا کہ ژوب اور مسلم باغ میں ذیلی کیمپسز کا قیام تعلیمی مواقع کے فروغ کی ایک اہم مثال ہے۔
خطاب کے اختتام پر گورنر نے گریجویٹس کو تلقین کی کہ وہ دیانت داری، جدت اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ اپنی برادری اور ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے تمام فارغ التحصیل طلبہ، ان کے اہل خانہ اور اساتذہ کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
جامعہ بلوچستان کا 97واں سنڈیکیٹ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد باذئی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں تعلیمی، مالی اور انتظامی امور سمیت مختلف پالیسی معاملات کی منظوری دی گئی اور جامعہ کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خضدار کے نواحی علاقے میں قائم جھونپڑی اسکول کی خستہ حالی سامنے آنے پر ضلعی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کو مسائل حل کرنے کی ہدایات دے دیں۔ اسکول میں بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کی کمی اور غیر محفوظ تعلیمی ماحول کے باعث اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ والدین اور مقامی افراد انتظامیہ کے فوری اقدام پر خوشی کا اظہار کر چکے ہیں۔
خضدار کے دور دراز پہاڑوں میں ایک چھوٹا سا جھونپڑی اسکول امید کی روشنی بن کر کھڑا ہے۔ یہ اسکول سلمیٰ نامی ایک باہمت خاتون چلا رہی ہیں جو اپنے وسائل سے بچوں کے لیے کتابیں اور کاپیاں فراہم کرتی ہیں۔ بجلی، پانی اور فرنیچر کے بغیر، یہ اسکول ثابت کرتا ہے کہ خلوص اور محنت سے تعلیم کی راہ رکھی نہیں جا سکتی۔ متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ اس خواب کو مکمل کرنے میں مدد کریں۔
کوئٹہ : جامعہ بلوچستان اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے بلدیاتی نظم و نسق میں بہتری، ادارہ جاتی مضبوطی اور جیو ٹیگنگ سروے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور لیٹر آف ایگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ جامعہ بلوچستان کے گورنمنٹ انوویشن لیب کے ذریعے طے پایا۔
معاہدے کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی املاک کا جیو ٹیگنگ سروے کیا جائے گا، جس سے بلدیاتی ریکارڈ کی درستگی، شفافیت، شہری منصوبہ بندی اور آمدن میں اضافہ ممکن ہوگا۔ معاہدے میں ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، تربیتی پروگراموں کا انعقاد، معیاری عملی طریقہ کار کی تیاری، نگرانی اور جائزہ کے فریم ورک اور ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں۔
تقریب میں پرو وائس چانسلر جامعہ بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی، ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمٰن قمبرانی، ڈائریکٹر گورنمنٹ انوویشن لیب ڈاکٹر وحید نور اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ عبدالرؤف بلوچ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ دیگر شرکاء میں ڈاکٹر ثناءاللہ، غلام فاروق بادینی اور چیف میٹروپولیٹن آفیسر نذر زہری بھی شامل تھے۔
شرکاء نے اس مع
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ:
رپورٹر : عروبہ شہزاد
دانش سکولز کے دائرہ کار کو بڑا کرنے کے لیے بلوچستان اور آذاد جموں کشمیر کے علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔کچھ ماہ پہلے اس منصوبہ کے تحت بلوچستان کے باقی اضلاع میں چھے نئے کیمپسز کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ کیمپسز قلعہ سیف اللہ، سبی، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل اور ژوب جیسے اضلاع میں قائم کیے جائیں گے، جبکہ ایک کیمپس تربت میں بھی بنایا جائے گا۔جس کی کل لاگت 19.25 بلین ہے۔ ان تعلیمی اداروں کا مقصد پسماندہ اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کو مفت، معیاری اور رہائشی تعلیم فراہم کرنا ہے۔
منصوبے کی مالی معاونت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اشتراک سے کی جائے گی، جبکہ تربت میں قائم ہونے والا دانش اسکول آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے تعاون سے بنایا جائے گا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پنجاب میں کامیابی سے چلنے والے دانش اسکول ماڈل کو بلوچستان میں متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے صوبے میں تعلیمی سہولیات میں بہتری اور محروم طبقات کو معیاری تعلیم تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
دانش اسکول مفت اور اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک میں تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طلبا و طالبات کو نہ صرف معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مفت انٹرنیٹ، جدید کمپیوٹر لیبز، کھیلوں کی سہولیات، کردار سازی اور شخصیت سازی کے پروگرامز، رہائشی ہوسٹلز، صحت کی سہولیات، درسی کتابیں، یونیفارم، آئی ٹی سہولیات اور جدید سائنسی لیبارٹریز بھی مہیا کی جاتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے طلبا و طالبات کو نہ صرف بہتر اور معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا بلکہ انہیں ایک محفوظ، منظم اور جدید تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جو ان کی گرومنگ ،ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بااختیار بنانے، تعلیم کی ناہمواری کو کم کرنے اور انہیں روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
جامعہ بلوچستان میں ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ (AS&RB) کا 192 واں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ایم فل، پی ایچ ڈی اور ایم ایس ریسرچ سے متعلق درجنوں کیسز کی منظوری دی گئی اور تحقیق کے معیار و عملی افادیت پر زور دیا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بلوچستان کے ہونہار طلبہ کے لیے ملک اور بیرونِ ملک ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں اسکالرشپس کا اعلان کیا ہے۔ اہل امیدواروں کے لیے بلوچستان کا ڈومیسائل، مقررہ عمر کی حد اور اہلیت ٹیسٹ میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اسکالرشپس کے لیے درخواستیں 13 جنوری 2026 تک جمع کرائی جا سکیں گی۔
بلوچستان میں ابتدائی بچپن کی تعلیم (ECE) کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں BUITEMS کوئٹہ میں منعقدہ پانچ روزہ مشاورتی ورکشاپ کے دوران اساتذہ، تعلیمی افسران اور پالیسی سازوں نے جامع ای سی ای پالیسی اور اساتذہ کے لیے منظم کیڈر فریم ورک پر غور کیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معیاری ابتدائی تعلیم نہ صرف بچوں کی تعلیمی بنیاد مضبوط کرتی ہے بلکہ آؤٹ آف اسکول بچوں کے مسئلے کے حل میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ اقدام بلوچستان میں ایک منصفانہ، مربوط اور پائیدار تعلیمی نظام کی جانب امید افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
کوئٹہ کے پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کینٹ میں کانووکیشن 2025 کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں طالبات، اساتذہ اور تعلیمی و سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل تھے، جبکہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی سمیت دیگر معزز مہمان بھی موجود تھے۔
کانووکیشن کے دوران مجموعی طور پر 245 طالبات میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کو گولڈ میڈلز سے بھی نوازا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم فرد کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی ترقی کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ ماں کے بغیر کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
گورنر بلوچستان نے طالبات کو درپیش سفری مشکلات کے پیش نظر کالج کے لیے دو بسیں اور ایک کوسٹر فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بی ایس پروگرام میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئے پروفیسرز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔
تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں، جبکہ طالبات نے کانووکیشن کے کامیاب انعقاد پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے جامعہ بلوچستان کا دورہ کرتے ہوئے جیوفزکس کے عملی تربیتی ورکشاپ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ دورے کے دوران انہوں نے یونیورسٹی کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا جبکہ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے گورنر کا خصوصی انٹرویو بھی کیا۔ تقریب میں مائنز اینڈ منرلز، ڈینز اور اساتذہ نے شرکت کی اور ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
بلوچستان کی 11 سرکاری جامعات کی قیادت کیلئے 3 روزہ اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ لیڈرشپ ایکسیلنس ورکشاپ NAHE نے HEC کی سرپرستی میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی خصوصی ہدایات پر منعقد کی۔ ورکشاپ میں اسٹریٹجک پلاننگ، کوالٹی ایشورنس، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور فنانشل سسٹین ایبلٹی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ قومی ماہرین نے بلوچستان کی جامعات کو درپیش مخصوص چیلنجز اور ان کے حل پر بھی روشنی ڈالی۔
کوئٹہ کے علاقے ہنہ اُڑک میں آئی ڈی ایس پی کے تحت قائم ماحول دوست کمیونٹی ڈیولپمنٹ یونیورسٹی اپنی مٹی، گھاس اور دیگر قدرتی مواد سے بنی عمارتوں، سولر و ونڈ انرجی کے استعمال اور بارش کے پانی کے ذخیرے کے نظام کے باعث نمایاں ہے۔ یہ ادارہ روایتی ڈگریوں کے بجائے نوجوانوں کو ماحول دوست تعمیرات، پائیدار طرزِ زندگی اور متبادل توانائی سے متعلق عملی تربیت فراہم کرتا ہے، اسے بلوچستان میں سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کی ایک مؤثر مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ درانی کے وژن کے تحت گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول گوادر میں سکل ایجوکیشن سینٹر کا افتتاح کیا گیا۔ اس کا مقصد طلبہ کو روایتی تعلیم کے ساتھ عملی ہنر، خصوصاً کشتی سازی (Boat Crafting)، سکھانا ہے۔ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور ضلعی افسران نے تقریب میں شرکت کی اور اسے علاقائی ترقی کے لیے اہم قدم قرار دیا۔ مقامی لوگوں نے بھی اس منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان اور ٹیک ویلی کا اشتراک، گوگل فار ایجوکیشن کے تین سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کیے جائیں گے
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ٹیک ویلی کے ساتھ ایک مفاہمتی دستاویز ات (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت صوبے بھر میں گوگل فار ایجوکیشن کے تین سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کے ذریعے 15 ہزار اساتذہ کو لیول سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق یہ شراکت داری اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ اساتذہ کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں، ضروری سہولیات اور اعتماد سے آراستہ کیا جائے، تاکہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق جدید کلاس رومز قائم کیے جا سکیں۔ اس ( MoU) سےگوگل کے جدید تعلیمی ماڈل اور حکومتِ بلوچستان کی سنجیدہ کوششوں سے صوبے میں معیاری اور جدید تعلیم کے مواقع مزید بڑھیں گے، جبکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔