گوادر میں آر سی ڈی کونسل اور محکمۂ کلچر کے زیرِ اہتمام دسویں کتب میلہ کا آغاز ہوا، جسے نامور بلوچی ادیب و محقق سید ظہور شاہ ہاشمی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور کتاب و علم کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ میلے میں مختلف سیشنز، کتابوں کی رونمائی، تھیٹر پیشکش اور فلموں کی نمائش کے ساتھ 56 اسٹالز قائم کیے گئے، جو علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے
کوئٹہ میں نان فنکشنل اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر مہراللّٰہ بادینی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مرحلہ وار بحالی، کم طلبہ والے اسکولوں کی منتقلی اور نئی عمارتوں کی تعمیر پر غور کیا گیا۔
جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر آصف سجاد کی جانب سے تیار کردہ جدید شمسی کشیدگی یونٹ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ یہ منصوبہ صاف پانی کی کمی جیسے اہم مسئلے کے حل کے لیے ایک مؤثر، پائیدار اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پیش کرتا ہے، جو بلوچستان سمیت دیگر پسماندہ علاقوں کے لیے مثبت اور دیرپا تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں قومی تعلیمی نصاب 2022 کو سال 2026 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریڈ 1 سے 9 تک کی درسی کتابوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے، جن میں کلائمٹ چینج، ماحولیات، صحت اور سوشل میڈیا آگاہی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ نئی کتابوں کی طباعت اور بہتر معیار کے ساتھ بروقت فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں آرٹیفشل انٹیلیجنس کو بھی نصاب کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
محکمہ تعلیم بلوچستان نے شدید سردی اور متوقع بارشوں کے باعث سمر زون اضلاع میں جماعت ہشتم کے امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔ ملتوی شدہ امتحانات اب 6 فروری 2026ء سے نئے شیڈول کے تحت منعقد کیے جائیں گے، جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ فیصلہ طلبہ کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کوئٹہ: ہزارہ ٹاؤن کی گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی ہزارہ طالبات نے ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے قوم اور صوبہ بلوچستان کا نام روشن کر دیا۔ طالبات نے انٹرپرائز چیلنج پاکستان 2025–2026 میں رنر اَپ پوزیشن حاصل کر کے قومی ایوارڈ اپنے نام کیا۔اس مقابلے میں طالبات نے بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا کاروباری آئیڈیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریئٹ، سیکریٹری تعلیم سندھ، فاطمہ فرٹیلائزر اور کوثر اف کے مالکان، اور کنگز ٹرسٹ انٹرنیشنل کے چیئرمین کے سامنے پیش کیا، جسے بے حد سراہا گیا۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس کامیابی کو طالبات کی محنت، لگن اور صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہوئے اسے بلوچستان میں معیاری تعلیم اور باصلاحیت نوجوانوں کے روشن مستقبل کی علامت قرار دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یوم تعلیم کے موقع پر عوام سے وعدہ کیا کہ بلوچستان کے تمام بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی، کوئی اسکول بند نہیں رہے گا، اور وسائل کی کمی کے باوجود ہر قابل طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نان فنکشنل اسکولوں، اساتذہ کی تعیناتیوں، حاضری، تنخواہوں اور تعلیمی نظام کی بہتری سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں نان فنکشنل اسکولوں کو فنکشنل بنانے اور ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان نے وزیرِ تعلیم راحیلہ احمد خان درانی اور سیکرٹری تعلیم اسفند یار کاکڑ کی ہدایات اور یورپی یونین کے تعاون سے صوبے کے 14 اضلاع کے سرکاری ہائی اسکولوں میں 130 ووکیشنل اسکلز سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز میں آئی ٹی، سولر اور الیکٹریشن سمیت جدید تکنیکی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنا اور صوبے میں تکنیکی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کی نوجوان دوست پالیسیوں کے تحت نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے منعقد کیا گیا چھ روزہ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس تربیتی پروگرام میں صوبے بھر سے 38 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ یہ پروگرام مشیر وزیراعلیٰ برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی سرپرستی میں محکمہ امورِ نوجوانان حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان یوتھ سوشیو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عملی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔ چھ روزہ تربیت کے دوران نوجوانوں کو کمیونیکیشن اسکلز، انٹرپرسنل اسکلز، انٹرپرینیورشپ، لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ، کیریئر کاؤنسلنگ، سی وی رائٹنگ اور انٹرویو اسکلز جیسے اہم موضوعات پر تربیت دی گئی۔ مختلف سیشنز معروف اور تجربہ کار ٹرینرز نے لیے، جن میں کمیونیکیشن اسکلز پر سید شاہ محمد، انٹرپرسنل اسکلز پر عبدالوسے، انٹرپرینیورشپ پر وسیم صادق، لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ پر قدرت اللہ، کیریئر کاؤنسلنگ و سی وی رائٹنگ پر ملائکہ اعظم جبکہ انٹرویو اور موک انٹرویو سیشنز رائمہ بشیر نے منعقد کیے۔ تربیتی پروگرام کے دوران مختلف عملی سرگرمیاں بھی شامل رہیں، جن میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ پروگرام کے اختتام پر منعقدہ تقریب میں شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر نوجوانوں نے پروگرام کو انتہائی مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تربیتی اقدامات ان کے اعتماد، مہارتوں اور مستقبل کے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی اور مشیر وزیراعلیٰ محترمہ مینا مجید بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور روزگار کے لیے سنجیدہ اور قابلِ تحسین اقدامات کر رہی ہے۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام نہ صرف نوجوانوں کو بااختیار بناتے ہیں بلکہ صوبے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے لسبیلہ یونیورسٹی کے پانچویں کانووکیشن میں 45 گولڈ میڈلسٹس کیلئے ایک ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ تقریب میں چار سو سے زائد گریجویٹس، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کو اسناد دی گئیں۔ گورنر نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو قومی ترقی میں کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
یہ تحریر پاکستان میں نوجوانوں کو درپیش تعلیمی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام جدید تقاضوں، عملی مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں، جس کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ غربت، سماجی و ثقافتی رکاوٹیں، صنفی عدم مساوات اور ناقص تعلیمی معیار تعلیم سے دوری کی بڑی وجوہات ہیں۔ تحریر اس امر پر زور دیتی ہے کہ نصاب کی اصلاح، اساتذہ کی تربیت، فنی و ڈیجیٹل تعلیم، اور لڑکے لڑکیوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کر کے ہی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ نہ صرف خود بااختیار ہوں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گولڈ میڈلز حاصل کرنے والے گریجویٹس کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ انہوں نے تربت یونیورسٹی کو جنوبی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن حکومت بلوچستان کے تحت PMU-BESP کے منصوبے کے ذریعے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بی ایم سی کالونی میں جدید سائنسی لیبارٹری اور بحال شدہ کلاس رومز قائم کیے گئے ہیں۔ ان سہولیات سے طالبات کو عملی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی دلچسپی، حاضری اور سیکھنے کے معیار میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ یہ اقدام بلوچستان میں معیاری اور جدید تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
حکومتِ بلوچستان کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (BESP) نے ورلڈ بینک کے تعاون سے صوبے میں پہلی مرتبہ ونٹر اسکول کیمپ کا آغاز کیا ہے۔ یہ کیمپ کوئٹہ میں 5 جنوری سے 13 فروری تک جاری رہے گا، جس میں 2000 سے زائد طلباء بنیادی خواندگی اور عددی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پروگرام کا مقصد موسمِ سرما میں بچوں کو مؤثر اور منظم تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑے رکھنا ہے۔
بلوچستان میں طالب علموں کے اسکول چھوڑنے کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے محکمہ تعلیم نے ارلی وارننگ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ یہ نظام ABC ماڈل پر مبنی ہے: A – تعلیمی کارکردگی، B – رویہ، C – مسلسل غیر حاضری۔ اس کا مقصد وقت پر طلبہ کی مشکلات کی نشاندہی کرنا اور ہدفی معاونت فراہم کرنا ہے، جس سے بچے اسکول میں شامل رہیں اور تعلیمی معیار بہتر ہو۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت اجلاس میں نان فنکشنل اسکولوں کو تعطیلات کے فوراً بعد فعال بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔
بلوچستان میں سال 2025 کے دوران 4,000 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ 1,200 نئے اساتذہ کی تعیناتی بھی مکمل ہو چکی ہے۔ ان اقدامات سے تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ، دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی میں بہتری اور والدین کے اعتماد کی بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ مرحلے میں مزید اسکولوں کی بحالی اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔
یونیورسٹی آف تربت میں آئی جی ایف سی کی جانب سے مستحق طلبہ میں اسکالرشپس کی تقسیم کے لیے خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شعبہ قانون اور دیگر شعبہ جات کے طلبہ کے لیے مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے کے اسکالرشپ چیکس دیے گئے۔ اسکالرشپ کی بحالی کا مقصد ہونہار اور مالی مشکلات کا شکار طلبہ کی تعلیمی معاونت ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ نے تعلیم کے فروغ میں ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے کردار کو سراہا۔
اوتھل/کوئٹہ: لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر عبدالرزاق ریکی نے دستخط کیے۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الٰہی بخش مرغزانی، رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ رشید اور فیکلٹی آف ایگریکلچر کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد راشد بھی موجود تھے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد دوںوں یونیورسٹیوں کے درمیان زراعت، پانی اور سمندری علوم کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تحقیقی منصوبوں، وسائل کے اشتراک اور مہارت کے تبادلے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ یادداشت کے مطابق دونوں ادارے لیبارٹری تکنیکی ماہرین کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی مواقع فراہم کریں گے، جبکہ پی ایچ ڈی ہولڈرز کے تبادلے کے پروگراموں کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے تاکہ مشترکہ تحقیق اور علم کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔اس کے علاوہ، تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ سرگرمیوں جیسے ورکشاپس، سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ معاہدہ صوبے میں زرعی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔