صحت

اخروٹ اور بادام کا تفصیلی موازنہ: صحت کے لیے کون سا خشک میوہ زیادہ فائدہ مند؟

اخروٹ اور بادام کا تفصیلی موازنہ: صحت کے لیے کون سا خشک میوہ زیادہ فائدہ مند؟

خشک میوہ جات صدیوں سے صحت بخش غذا کا حصہ رہے ہیں۔ اخروٹ اور بادام نہ صرف ذائقے میں منفرد ہیں بلکہ غذائیت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق روزانہ مناسب مقدار میں خشک میوہ جات کا استعمال جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے اور کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، اخروٹ اور بادام کے فوائد ایک جیسے نہیں بلکہ دونوں کی خصوصیات مختلف ہیں، اسی لیے ان کا موازنہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ غذائی اجزاء کے لحاظ سے اخروٹ اور بادام میں نمایاں فرق اخروٹ میں صحت بخش چکنائیاں، خاص طور پر اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جسم میں سوزش کم کرنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخروٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز سے محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب بادام پروٹین، فائبر، وٹامن ای، کیلشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہی اجزاء ہڈیوں کو مضبوط بنانے، عضلات کو طاقت دینے اور جسمانی کمزوری دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دماغی صحت اور یادداشت بہتر بنانے میں اخروٹ یا بادام: کون زیادہ مؤثر؟ اخروٹ کو دماغی غذا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی شکل بھی دماغ سے مشابہ ہوتی ہے۔ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دماغی خلیات کو مضبوط کرتے ہیں، یادداشت بہتر بناتے ہیں اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ طلبہ اور ذہنی کام کرنے والے افراد کے لیے اخروٹ کو خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔ بادام بھی دماغی کمزوری دور کرنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے۔ دودھ کے ساتھ بادام کا استعمال توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے، تاہم دماغی صحت کے معاملے میں اخروٹ کو قدرے برتری حاصل ہے۔ دل کی صحت، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر پر اخروٹ اور بادام کے اثرات دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اخروٹ اور بادام دونوں کو مفید مانا جاتا ہے۔ اخروٹ خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے دل کے دورے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ بادام دل کی شریانوں کو مضبوط بناتا ہے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود میگنیشیم اور پوٹاشیم دل کی دھڑکن کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزن کم کرنے اور پیٹ بھرے رہنے کے لیے اخروٹ یا بادام: بہتر انتخاب کون سا؟ وہ افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بادام زیادہ فائدہ مند ہو سکتے ہیں کیونکہ اس میں فائبر اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دیر تک بھوک نہیں لگنے دیتی۔ محدود مقدار میں بادام کھانے سے غیر ضروری اسنیکس سے بچا جا سکتا ہے۔ اخروٹ میں کیلوریز زیادہ ہونے کی وجہ سے اگر حد سے زیادہ استعمال کیا جائے تو وزن بڑھنے کا خدشہ ہو سکتا ہے، تاہم مناسب مقدار میں اخروٹ بھی توانائی فراہم کرتا ہے اور جسم کو متحرک رکھتا ہے۔ جلد کی خوبصورتی اور بالوں کی مضبوطی میں اخروٹ اور بادام کے فوائد بادام میں موجود وٹامن ای جلد کے لیے نہایت مفید ہے، جو جلد کو نرم، چمکدار اور صحت مند بناتا ہے۔ بادام کا تیل بالوں کی جڑوں کو مضبوط کر کے بالوں کے گرنے کو کم کرتا ہے۔ اخروٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو بڑھاپے کے اثرات کم کرنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخروٹ بالوں کی خشکی دور کرنے میں بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔  روزمرہ خوراک میں اخروٹ اور بادام کا درست انتخاب کیا ہونا چاہیے؟ ماہرینِ صحت کے مطابق اخروٹ اور بادام دونوں ہی صحت کے لیے مفید ہیں، مگر بہترین نتائج کے لیے دونوں کا متوازن استعمال ضروری ہے۔ اگر دماغی صحت اور دل کی حفاظت اولین مقصد ہو تو اخروٹ کو ترجیح دی جا سکتی ہے، جبکہ جسمانی طاقت، خوبصورت جلد اور وزن کنٹرول کے لیے بادام بہتر انتخاب ہے۔ روزانہ چند بادام اور ایک سے دو اخروٹ کھانا صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔

سردیوں میں انڈے زیادہ فائدہ مند؟ حقیقت کیا ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

سردیوں میں انڈے زیادہ فائدہ مند؟ حقیقت کیا ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

سردیوں کے موسم میں اکثر یہ بات سننے میں آتی ہے کہ انڈے کھانے سے جسم گرم رہتا ہے اور طاقت ملتی ہے۔ گھروں میں بزرگوں سے لے کر نوجوانوں تک یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ سردیوں میں انڈوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انڈے سردیوں میں زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں یا یہ صرف ایک عام خیال ہے؟ ماہرینِ صحت اس بارے میں کیا کہتے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔ سردیوں میں انڈے کیوں زیادہ کھائے جاتے ہیں؟ ماہرینِ غذائیت کے مطابق انڈے پروٹین، صحت مند چکنائی، وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور منرلز سے بھرپور غذا ہیں۔ سردیوں میں جسم کو زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے تاکہ وہ ٹھنڈے موسم کا مقابلہ کر سکے۔ انڈے جسم کو حرارے (کیلوریز) فراہم کرتے ہیں، جو توانائی بڑھانے اور جسم کو گرم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کیا انڈے واقعی جسم کو گرم رکھتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے براہِ راست جسم کو "گرم" نہیں کرتے، لیکن ان میں موجود پروٹین اور چکنائی ہاضمے کے دوران جسم میں حرارت پیدا کرتی ہے، جس سے سردی کا احساس کم ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سردیوں میں انڈے کھانے کے بعد جسم زیادہ متحرک اور گرم محسوس کرتا ہے۔ سردیوں میں انڈے کھانے کے اہم فوائد انڈوں کا استعمال سردیوں میں کئی حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے: انڈے جسمانی طاقت اور توانائی میں اضافہ کرتے ہیں قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں، جس سے نزلہ، زکام سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے وٹامن ڈی کی فراہمی میں مدد دیتے ہیں، جو سردیوں میں دھوپ کم ملنے کی وجہ سے اہم ہو جاتا ہے پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط کرتے ہیں بچوں اور بزرگوں کے لیے مفید غذا سمجھے جاتے ہیں کیا سردیوں میں انڈے کھانے کے نقصانات بھی ہیں؟ ماہرین کے مطابق اگر انڈے مناسب مقدار میں استعمال کیے جائیں تو یہ نقصان دہ نہیں ہوتے۔ تاہم حد سے زیادہ انڈے کھانے سے بعض افراد کو مسائل ہو سکتے ہیں: کولیسٹرول کے مریضوں کو احتیاط کرنی چاہیے زیادہ انڈے کھانے سے بدہضمی یا معدے میں جلن ہو سکتی ہے جن افراد کو انڈے سے الرجی ہو، انہیں انڈے سے پرہیز کرنا چاہیے سردیوں میں کتنے انڈے کھانا مناسب ہے؟ ماہرینِ صحت کے مطابق صحت مند افراد کے لیے روزانہ ایک سے دو انڈے کافی ہوتے ہیں۔ جسمانی محنت کرنے والے یا ورزش کرنے والے افراد اپنی ضرورت کے مطابق مقدار بڑھا سکتے ہیں، مگر اعتدال ضروری ہے۔ انڈے کیسے کھائیں تاکہ زیادہ فائدہ ہو؟ سردیوں میں انڈے اُبال کر، آملیٹ یا ہلکے تیل میں پکا کر کھانا زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ انڈوں کو سبزیوں جیسے پالک، ٹماٹر اور پیاز کے ساتھ ملا کر کھانے سے ان کی غذائیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حقیقت یا محض عام خیال؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ انڈے سردیوں میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔ انڈے کوئی جادوئی غذا نہیں، مگر ان کی غذائیت سردیوں میں جسم کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ درست مقدار اور متوازن غذا کے ساتھ انڈوں کا استعمال واقعی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

سردیوں میں پھٹے ہونٹ؟ جانیں وٹامن بی 12 کیوں ضروری ہے

سردیوں میں پھٹے ہونٹ؟ جانیں وٹامن بی 12 کیوں ضروری ہے

سردیوں کے موسم میں خشک جلد اور پھٹے ہوئے ہونٹ ایک عام مسئلہ بن جاتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کی جلد پہلے ہی خشک ہوتی ہے۔ خشک ہونٹ نہ صرف تکلیف دیتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سردیوں میں یہ مسئلہ صرف موسم کی سختی کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں غذائی اجزاء، خاص طور پر وٹامن بی 12 کی کمی کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ سردیوں میں ہونٹ کیوں پھٹتے ہیں ڈاکٹر آشا سکلانی، ماہر امراضِ جلد، کہتی ہیں کہ وٹامن بی 12 کی کمی سے ہونٹ زیادہ خشک ہو جاتے ہیں اور جلد میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ یہ وٹامن خون کے سرخ خلیات بنانے اور ڈی این اے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمی کی صورت میں خون کی کمی، بے حسی، جھنجھناہٹ اور یادداشت میں کمزوری جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ہونٹوں کی جلد بہت نازک اور حساس ہوتی ہے، اور سردیوں میں ہوا میں نمی کی کمی کی وجہ سے یہ جلد فوری خشک ہو جاتی ہے۔ پھٹے ہونٹ کیسے بچائیں 1. پانی زیادہ پئیں: سردیوں میں لوگ اکثر کم پانی پیتے ہیں، جس کی وجہ سے جسم اور ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں۔ دن بھر مناسب پانی پینا ہونٹوں کی نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 2. غذائیت سے بھرپور خوراک کھائیں: وٹامنز، پروٹین اور معدنیات سے بھرپور غذا ہونٹوں اور جلد کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر وٹامن بی 12 کی کمی ہونٹوں کے خشک ہونے اور پھٹنے کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ 3. وٹامن بی 12 کی کمی کا علاج کریں: اگر آپ کے ہونٹ بار بار پھٹ رہے ہیں یا خشک رہتے ہیں، تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ وٹامن بی 12 سپلیمنٹ یا غذا کے ذریعے اس کمی کو دور کرنا ہونٹوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ 4. ہونٹوں کو بار بار نہ چاٹیں: سردیوں میں لوگ ہونٹوں کی خشکی دور کرنے کے لیے انہیں چاٹتے ہیں، لیکن تھوک وقتی طور پر نمی دینے کے بعد ہونٹ اور زیادہ خشک ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہونٹوں کو چاٹنے سے گریز کریں۔ 5. لپ بام یا ہونٹوں کے مرہم کا استعمال کریں: قدرتی لپ بام یا مرہم ہونٹوں کی نمی برقرار رکھتا ہے اور سرد ہوا اور دھوپ سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دن میں کئی بار لگانا مفید رہتا ہے۔

سُپر فلو کیا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کیوں ضروری ہے؟

سُپر فلو کیا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کیوں ضروری ہے؟

سُپر فلو کیا ہے؟ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق این ایچ ایس کی نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میگھنا پنڈت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس پر غیر معمولی دباؤ، ایمبولینسز کی ریکارڈ طلب اور ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی متوقع ہڑتال کے باعث فلو کی موجودہ لہر این ایچ ایس کے لیے رواں موسمِ سرما کی سب سے مشکل صورتِ حال بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ فلو کا سیزن اس سال جلد شروع ہوا ہے، تاہم وائرس کے پھیلاؤ اور بیماری کی شدت اب بھی مجموعی طور پر فلو سیزن کی معمول کی حدود میں ہی سمجھی جا رہی ہے۔ ’سُپر فلو‘ کوئی نئی بیماری یا وائرس نہیں بلکہ فلو کی نسبتاً شدید لہر کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔ فلو وائرس میں تبدیلی کیوں آتی رہتی ہے؟ انفلوئنزا وائرس مسلسل اپنی ساخت تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ انسانی مدافعتی نظام سے بچ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلو ویکسین کو ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر چار سے پانچ برس بعد وائرس میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض برسوں میں فلو زیادہ شدید شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس سال فلو کی غالب قسم انفلوئنزا اے (H3N2) ہے، جو 1968 سے موجود ہے اور اب تک اس میں متعدد بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اسی بنا پر وقتاً فوقتاً ’سُپر فلو‘ جیسی صورتِ حال سامنے آتی رہتی ہے۔ کم عمر افراد میں فلو کے کیسز زیادہ کیوں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اور نوجوان سکولوں اور تعلیمی اداروں میں زیادہ میل جول کے باعث فلو کا شکار جلد ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایسی جگہوں پر وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ کم عمر افراد کا مدافعتی نظام فلو وائرس کا کم تجربہ رکھتا ہے۔ بالغ افراد میں انفیکشن کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے، تاہم 64 برس سے زائد عمر کے افراد میں پہلے سے موجود بیماریوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث شدید فلو کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ مدافعتی نظام کے کمزور ہونے کے عمل کو امیونوسینیسنس کہا جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچے بھی فلو کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔ کیا بزرگ افراد کے لیے فلو ویکسین ضروری ہے؟ اعدادوشمار کے مطابق فلو ویکسین بزرگ افراد میں فلو کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو 30 سے 40 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ شرح بعض دیگر بیماریوں کی ویکسینز کے مقابلے میں کم ہے، تاہم فلو کے حوالے سے اسے مؤثر اور اہم سمجھا جاتا ہے۔ مختلف عمر کے گروپس میں ویکسین کا اثر کیوں مختلف ہے؟ رواں سیزن کی فلو ویکسین شدید بیماری کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ویکسین لگوانے والے بچوں میں فلو کے باعث ہسپتال جانے کا خطرہ 70 سے 75 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جبکہ بالغ افراد میں یہ کمی 30 سے 40 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔ بچوں کو فلو ویکسین ناک کے ذریعے سپرے کی صورت میں دی جاتی ہے، جبکہ بالغوں کو انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ناک کے ذریعے دی جانے والی ویکسین بچوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ فلو ہونے کی صورت میں کیا احتیاط کریں؟ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر فلو کی علامات ظاہر ہوں تو گھر پر رہیں، مکمل آرام کریں اور وائرس کو دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اگرچہ فلو ایک ناخوش گوار بیماری ہے، مگر اوسطاً ہر شخص کو ہر پانچ برس میں ایک بار فلو ہو سکتا ہے اور زیادہ تر افراد بغیر کسی خاص طبی علاج کے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

سردیوں میں سنگھاڑے: قدرتی توانائی اور صحت بخش غذا

سردیوں میں سنگھاڑے: قدرتی توانائی اور صحت بخش غذا

سردیوں کے موسم میں غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ جسم کو توانائی ملے اور سرد موسم کے اثرات کم ہوں۔ اس حوالے سے سنگھاڑے یا Water Chestnuts ایک بہترین انتخاب ہیں۔ یہ نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہوتے ہیں بلکہ صحت کے لحاظ سے بھی بے حد مفید ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق سنگھاڑے فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں، جو سردیوں میں جسم کی قوتِ مدافعت بڑھانے، توانائی فراہم کرنے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ توانائی اور جسمانی طاقت کے لیے مفید سنگھاڑے کاربوہائیڈریٹس کا بہترین ذریعہ ہیں، جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں۔ سردیوں میں جب جسم کو حرارت پیدا کرنے اور توانائی بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے، تو سنگھاڑے کا استعمال نہایت فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ جسم کو دن بھر کے کاموں کے لیے توانائی فراہم کرتے ہیں اور تھکن کم کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور ورزش کرنے والے افراد کے لیے یہ توانائی کا قدرتی ذریعہ ہیں۔ ہاضمہ بہتر بنانے میں مددگار سنگھاڑے میں موجود فائبر ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض یا دیگر معدے کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ روزانہ چند سنگھاڑے کا استعمال معدے کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور غذا کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ معدے میں جلن اور بھاری پن کے مسائل کو بھی کم کرنے میں مؤثر ہیں۔ وزن کنٹرول اور دیر تک پیٹ بھرے رہنے میں مدد سنگھاڑے کم کیلوریز اور زیادہ فائبر رکھتے ہیں، جس سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور غیر ضروری کھانے سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق یہ خصوصیت وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے سردیوں میں خاص طور پر مفید ہے، جب زیادہ تر لوگ زیادہ کھانے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ مدافعتی نظام اور سردی سے تحفظ سنگھاڑے میں وٹامن B، وٹامن C اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مناسب مقدار موجود ہوتی ہے، جو جسم کی مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ سردیوں میں نزلہ، زکام اور انفیکشنز عام ہوتے ہیں، اور سنگھاڑے کا باقاعدہ استعمال جسم کو بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند سنگھاڑے میں موجود غذائی اجزاء خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے اور دل کی شریانوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک قدرتی اور صحت بخش غذا ہے۔ سنگھاڑے کیسے کھائیں؟ سنگھاڑے کو اُبال کر، بھون کر یا سلاد میں شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ انہیں ہلکے مصالحے یا میٹھے پکوان میں بھی شامل کرتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق روزانہ چند سنگھاڑے کھانا کافی ہوتا ہے تاکہ جسم کو ان کے غذائی فوائد حاصل ہوں۔ نتیجہ سردیوں میں سنگھاڑے کا استعمال صحت اور توانائی دونوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ جسم کو حرارت، مضبوط ہاضمہ، توانائی اور بہتر مدافعت فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق روزانہ چند سنگھاڑے کا استعمال سردیوں میں صحت مند رہنے اور بیماریوں سے بچنے کا آسان اور قدرتی طریقہ ہے۔

لاہور کے میو اسپتال میں ایم پاکس کے دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ

لاہور کے میو اسپتال میں ایم پاکس کے دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ

لاہور کے میو اسپتال میں ایم پاکس کے دو مریضوں میں بیماری کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ ایک خاتون مریضہ مشتبہ قرار دی گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق تینوں مریضوں کو آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔ رواں سال پاکستان میں ایم پاکس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر صحت حکام الرٹ ہیں۔

آئرن کی کمی ہمیشہ کے لیے ختم، لیکن کیسے؟

آئرن کی کمی ہمیشہ کے لیے ختم، لیکن کیسے؟

جسم میں وٹامنز اور منرلز کی موجودگی اچھی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے، انہی میں سے ایک اہم عنصر  آئرن بھی ہے۔ آئرن کی کمی اور زیادتی دونوں نقصان دہ ہوسکتی ہیں، لیکن اگر جسم میں آئرن کم ہوجائے تو مختلف بیماریوں اور کمزوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئرن ایک ایسا منرل ہے جو  خون میں ہیموگلوبن بنانے، جسم میں آکسیجن پہنچانے، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی پیدا کرنے اور مدافعتی نظام کو بہتر رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آئرن کی کمی جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ آئرن کی کمی کی بڑی وجوہات ایسی غذا کھانا جس میں آئرن کم ہو، صرف سبزیوں پر زیادہ انحصار کرنا، خون کی کمی، مسلسل تھکاوٹ، بڑھتی عمر، ہاضمے کے مسائل، جسم سے خون کا ضائع ہونا، خواتین میں ماہواری، حمل، دودھ پلانا، الکحل کا استعمال اور کچھ ادویات بھی آئرن کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔ کمزور مدافعت بھی ایک اہم وجہ ہے۔ آئرن کی کمی کی علامات آئرن کی کمی سے سانس پھولنا، تھکاوٹ، چکر آنا، جلد کا پیلا نظر آنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، سرد ہاتھ پاؤں، بال جھڑنا، کیل مہاسے، توجہ میں کمی، نید کا خراب ہونا  جیسی علامات عام پائی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق مناسب آئرن جسم میں خون بڑھانے، مدافعت مضبوط بنانے، پٹھے اور ہڈیاں مضبوط کرنے اور ذہنی کمزوری دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آئرن حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع آئرن کے بہترین قدرتی ذرائع میں لال گوشت، کلیجی، مرغی، مچھلی، پالک، میتھی، لوبیا، دالیں، چنے، کھجور، کشمش، چقندر، انڈہ، خشک میوہ جات اور گڑ  شامل ہیں۔ وٹامن سی والی غذائیں جیسے لیموں، مالٹا، کینو  آئرن کے جذب ہونے کو مزید بہتر بناتی ہیں۔ روزانہ آئرن کتنا لینا چاہیے؟ عام مردوں کو روزانہ 8–10 ملی گرام  جبکہ خواتین کو  15–18 ملی گرام  آئرن لینا ضروری ہے۔ حاملہ خواتین کی ضرورت اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انہیں بچے کی نشوونما کے لیے اضافی آئرن درکار ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بلا ضرورت آئرن سپلیمنٹ لینا درست نہیں، کیونکہ زیادہ مقدار جسم کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ آئرن کی مناسب اور متوازن مقدار  توانائی، صحت مند خون، مضبوط مدافعت اور فعال جسمانی نظام کے لیے نہایت ضروری ہے۔

کیا سوپ واقعی نزلہ زکام میں فائدہ دیتا ہے؟ حقیقت جانیں

کیا سوپ واقعی نزلہ زکام میں فائدہ دیتا ہے؟ حقیقت جانیں

سردیوں میں نزلہ زکام کی علامات ظاہر ہوں تو گھروں میں سب سے پہلا مشورہ یہی دیا جاتا ہے کہ گرم سوپ پی لیا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سوپ واقعی بیماری کو ٹھیک کر سکتا ہے یا یہ صرف وقتی آرام دینے والا گھریلو ٹوٹکا ہے؟ ماہرین صحت کے مطابق سوپ نزلہ زکام کا مکمل علاج تو نہیں، لیکن یہ جسم کو بہتر محسوس کرانے اور صحت یابی کے عمل کو آسان بنانے میں ضرور مدد کرتا ہے۔ گرم سوپ سے اٹھنے والی بھاپ کچھ دیر کے لیے ناک میں جمی ہوئی رکاوٹ کو نرم کر دیتی ہے، جس سے سانس لینے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ نزلہ زکام کے دوران جسم میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے جس سے گلے کی خراش، تھکاوٹ اور سر درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سوپ میں موجود پانی، نمک اور بعض اوقات الیکٹرولائٹس جسم کو ہائیڈریٹ رکھتے ہیں اور کمزوری کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کی حالت میں بھاری غذا کھانا مشکل ہوتا ہے، جبکہ سوپ ہلکا، غذائیت سے بھرپور اور آسانی سے ہضم ہونے والا کھانا ہے، جو جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ چکن سوپ کے فائدے چکن سوپ کو خاص اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس میں ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو سہارا دیتے ہیں۔ چکن پروٹین فراہم کرتا ہے، جبکہ لہسن اور ادرک سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ سبزیوں سے وٹامن اے، سی اور اینٹی آکسیڈینٹس جسم کو مضبوط بناتے ہیں۔ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق چکن سوپ خون کے سفید خلیوں کی حرکت کو کچھ دیر کے لیے سست کر سکتا ہے، جس سے گلے کی خراش اور سوزش میں وقتی آرام محسوس ہوتا ہے۔ حتمی بات یاد رہے کہ یہ سوپ چاہے سبزیوں کا ہو یا چکن کا، یہ بیماری کو ختم نہیں کر سکتا۔ سوپ نہ جراثیم مار سکتا ہے اور نہ ہی علاج کی جگہ لے سکتا ہے۔ تاہم، یہ جسم کو سہارا دینے، طاقت بحال کرنے اور بیماری کے دنوں میں راحت پہنچانے کے لیے ایک بہترین انتخاب ضرور ہے۔

بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کا کلیدی پیشنٹ سیفٹی ایریاز پر ایک روزہ اورینٹیشن سیشن

بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کا کلیدی پیشنٹ سیفٹی ایریاز پر ایک روزہ اورینٹیشن سیشن

کوئٹہ میں بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کے افسران کے لیے مریضوں کی حفاظت کے کلیدی شعبوں پر ایک روزہ اورینٹیشن سیشن منعقد کیا۔ سیشن کا مقصد صحت کے مراکز میں معیاری خدمات اور عالمی معیار کے مطابق مریضوں کے تحفظ کو فروغ دینا تھا۔

ڈاکٹرز بیماری میں چاول اور بڑا گوشت کیوں منع کرتے ہیں؟ اصل وجہ جانیں

ڈاکٹرز بیماری میں چاول اور بڑا گوشت کیوں منع کرتے ہیں؟ اصل وجہ جانیں

بیماری کے دوران اکثر ڈاکٹرز چاول اور بڑے گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، اور اس کی وجوہات صرف گھریلو ٹوٹکے نہیں بلکہ سائنسی اور میڈیکل بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیماری میں جسم کمزور ہو جاتا ہے، ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور جسم کو ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہوں اور جسم پر بوجھ نہ ڈالیں۔ چاول کیوں منع کیے جاتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول اگرچہ جلد ہضم ہو جاتے ہیں، مگر ان میں فائبر کی کمی ہوتی ہے، جس کے باعث خون میں شوگر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر شوگر کے مریض یا کمزوری کے شکار افراد کے لیے یہ مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چاول جسم میں نمی بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے بخار، نزلہ، کھانسی یا انفیکشن کے دوران اکثر ڈاکٹر چاول نہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق چاول وزن بڑھانے یا جسم کو سست بنانے کا باعث بھی بنتے ہیں، جو بیماری میں مناسب نہیں ہوتا۔ بڑے گوشت (بیف) سے پرہیز کیوں؟ ڈاکٹرز کے مطابق بڑا گوشت ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور کمزور جسم پر اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ بیف میں چکنائی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے اور دل کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ بیمار جسم پہلے ہی انفیکشن اور سوزش سے لڑ رہا ہوتا ہے، اس لیے بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والی غذا مزید سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بخار، جوڑوں کے درد، تھکن یا کسی بھی انفیکشن میں بیف سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ حتمی بات چاول اور بیف نقصان دہ غذا نہیں ہیں، لیکن بیماری کے دوران جسم کی حالت کے مطابق ان سے پرہیز بہتر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے ہی صحت بہتر ہو، ڈاکٹر کے مشورے سے انہیں آہستہ آہستہ دوبارہ غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

عام نمک بمقابلہ ہمالین پنک سالٹ: صحت کے لیے کون سا بہتر؟

عام نمک بمقابلہ ہمالین پنک سالٹ: صحت کے لیے کون سا بہتر؟

آج کل کھانے کے حوالے سے لوگوں میں ایک نیا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور وہ ہے ہمالین پنک سالٹ کا استعمال۔ بہت سے لوگ اسے عام سفید نمک سے زیادہ صحت بخش قرار دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پنک سالٹ اتنا فائدہ مند ہے یا یہ صرف ایک ٹرینڈ ہے؟ ماہرین کے مطابق عام نمک اور ہمالین پنک سالٹ دونوں بنیادی طور پر سوڈیم کلورائیڈ ہی ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پنک سالٹ میں کچھ اضافی منرلز پائے جاتے ہیں، جنہیں اس کا رنگ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ منرلز فائدہ تو رکھتے ہیں، لیکن ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ پنک سالٹ کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ یہ عام نمک کے مقابلے میں زیادہ قدرتی، کم پروسیسڈ اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم غذائی ماہرین کے مطابق یہ معدنیات اتنی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ صحت پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔ صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نمک چاہے عام ہو یا پنک سالٹ، زیادہ مقدار میں استعمال دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔ خون کا دباؤ بڑھنے، دل کے مسائل اور گردوں پر بوجھ جیسے خطرات دونوں ہی نمکیات کے زیادہ استعمال سے وابستہ ہیں۔ البتہ ذائقے اور شکل کے لحاظ سے پنک سالٹ کو ترجیح دی جا سکتی ہے، جبکہ عام نمک قیمت میں کم اور باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں نمکوں کا استعمال محفوظ ہے، لیکن اعتدال سب سے ضروری ہے۔ آج کل کھانے کے حوالے سے لوگوں میں ایک نیا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور وہ ہے ہمالین پنک سالٹ کا استعمال۔ بہت سے لوگ اسے عام سفید نمک سے زیادہ صحت بخش قرار دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پنک سالٹ اتنا فائدہ مند ہے یا یہ صرف ایک ٹرینڈ ہے؟ ماہرین کے مطابق عام نمک اور ہمالین پنک سالٹ دونوں بنیادی طور پر  سوڈیم کلورائیڈ  ہی ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پنک سالٹ میں کچھ اضافی منرلز پائے جاتے ہیں، جنہیں اس کا رنگ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ منرلز فائدہ تو رکھتے ہیں، لیکن ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ پنک سالٹ کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ یہ عام نمک کے مقابلے میں زیادہ قدرتی، کم پروسیسڈ اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم غذائی ماہرین کے مطابق یہ معدنیات اتنی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ صحت پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔ صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نمک چاہے عام ہو یا پنک سالٹ، زیادہ مقدار میں استعمال دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔ خون کا دباؤ بڑھنے، دل کے مسائل اور گردوں پر بوجھ جیسے خطرات دونوں ہی نمکیات کے زیادہ استعمال سے وابستہ ہیں۔ البتہ ذائقے اور شکل کے لحاظ سے پنک سالٹ کو ترجیح دی جا سکتی ہے، جبکہ عام نمک قیمت میں کم اور باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں نمکوں کا استعمال محفوظ ہے، لیکن اعتدال سب سے ضروری ہے۔

پپیتا رات کو کھانا: فائدہ مند یا نقصان دہ؟

پپیتا رات کو کھانا: فائدہ مند یا نقصان دہ؟

پپیتا ایک ایسا پھل ہے جو وٹامنز، غذائی اجزاء اور انہضامی اینزائمر سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر ہاضمے، قوت مدافعت اور مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ پپیتے میں وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وزن کنٹرول رہتا ہے اور یہ پروٹین کو ہضم کرنے میں مددگار بھی ہے۔ سائنس نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ رات کو پپیتا کھانا نقصان دہ ہے یا فائدہ مند۔ زیادہ تر باتیں روایتی مشاہدے اور عام تجربات پر مبنی ہیں۔ اگر آپ کا معدہ حساس ہے، پپیتا کچا ہے یا آپ نے زیادہ مقدار میں کھا لیا ہے تو معدے میں جلن، بدہضمی یا گیس کی شکایت ہو سکتی ہے۔ صحت مند افراد اعتدال میں رات کو پکا ہوا پپیتا آرام سے کھا سکتے ہیں، جبکہ ہاضمے کے مسائل والے افراد کے لیے بہتر ہے کہ دن میں پپیتا کھائیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق پپیتا کھانے کے لیے وقت سے زیادہ اہم ہے مقدار، پکا ہونا اور فرد کی صحت۔

وزن کم کرنے والے انجیکشن پٹھوں کو نقصان پہنچا کر عمر 10 سال بڑھا سکتے ہیں، ماہرین کا انتباہ

وزن کم کرنے والے انجیکشن پٹھوں کو نقصان پہنچا کر عمر 10 سال بڑھا سکتے ہیں، ماہرین کا انتباہ

وزن کم کرنے والے مشہور انجیکشنز کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کا استعمال جسمانی عمر کو 10 سال تک بڑھا سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ دوائیں وزن تو کم کرتی ہیں لیکن اس عمل میں پٹھوں کا تیز نقصان ہوتا ہے، جو درمیانی عمر اور بزرگ افراد میں کمزوری اور گرنے کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کینیڈین محققین کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں پٹھوں کو ہونے والا نقصان موٹاپے کی سرجری، کینسر کے علاج یا 10 سال کی قدرتی عمر بڑھنے کے برابر پایا گیا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق کچھ مطالعات میں جسمانی ماس کا تقریباً 11 فیصد تک کم ہونا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیگر تحقیقات میں وزن کم ہونے کے 20 سے 50 فیصد حصے کو پٹھوں کے گھٹنے سے منسوب کیا گیا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ انجیکشن استعمال کرنے والوں کے لیے ہفتے میں 2 سے 3 بار طاقت بڑھانے والی مشقیں اور تقریباً 150 منٹ کی معتدل یا سخت ورزش کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف پٹھوں اور ہڈیوں کا ماس برقرار رہتا ہے بلکہ وزن دوبارہ بڑھنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں وزن کم کرنے والی ان ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ جسمانی تربیت کو بھی معمول بنایا جائے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ورزش انجیکشن کے استعمال کے دوران اور اسے ترک کرنے کے بعد بھی پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے افراد ہفتے میں کم از کم 2 سے 3 مرتبہ باقاعدہ مزاحمتی ایکسرسائز ضرور کریں۔

گڑ یا چینی: غذائی ماہرین کے مطابق کون زیادہ فائدہ مند ہے؟

گڑ یا چینی: غذائی ماہرین کے مطابق کون زیادہ فائدہ مند ہے؟

گڑ اور چینی کے درمیان بحث ہمیشہ جاری رہتی ہے، لیکن غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسیس شدہ چینی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جبکہ گڑ کئی غذائی فوائد فراہم کرتا ہے۔ آج کے مصروف دور میں، جہاں بیٹھے رہنے کی عادت، آلودگی اور صاف پانی کی کمی عام ہے، اپنی خوراک میں بہتر انتخاب کرنا بہت ضروری ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہر غذائیت دیویا کور نے بتایا کہ اگرچہ چینی اور گڑ دونوں میں کیلوریز تقریباً برابر ہیں۔ (چینی: 387 کلو کیلوری، گڑ: 382 کلو کیلوری)، مگر چینی خالص کاربوہائیڈریٹ ہے اور اس میں کوئی غذائیت نہیں۔ اس کے برعکس، گڑ میں آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، کاپر، فاسفورس اور وٹامنز پائے جاتے ہیں اور یہ گٹھیا جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔ چینی خون میں گلوکوز کی سطح کو اچانک بڑھا دیتی ہے جبکہ گڑ آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتا ہے اور آپ کو زیادہ دیر تک متحرک رکھتا ہے۔ مزید برآں، گڑ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے، جسم میں الیکٹرولائٹس کو متوازن رکھتا ہے، نظام ہاضمہ کو صاف کرتا ہے، فائبر فراہم کرتا ہے اور جسم کو ڈیٹاکس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گڑ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس ہاضمے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بھنے ہوئے چنے اور گڑ کو ملا کر کھائیں تو یہ امتزاج پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے، نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور خوراک کو زیادہ صحت مند بناتا ہے۔ اگلی بار جب آپ بیکنگ کریں یا کوئی مشروب تیار کریں تو چینی کے بجائے گڑ کا انتخاب کریں۔ اس سے نہ صرف ذائقہ بہتر رہتا ہے بلکہ آپ کی ڈیزرٹس قدرے صحت مند بھی ہو جاتی ہیں۔

نائٹرس آکسائیڈ (ہنسانے والی گیس) شدید ڈپریشن میں فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہے: نئی تحقیق

نائٹرس آکسائیڈ (ہنسانے والی گیس) شدید ڈپریشن میں فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہے: نئی تحقیق

ایک نئی طبی تحقیق میں حیران کن طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ  نائٹرس آکسائیڈ (Nitrous Oxide)، جسے عام طور پر ہنسانے والی گیس کہا جاتا ہے، شدید ڈپریشن میں انتہائی تیز رفتار ریلیف  فراہم کر سکتی ہے اور اثرات صرف ایک دن کے اندر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ای بائیو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، نائٹرس آکسائیڈ  فاسٹ ایکٹنگ اینٹی ڈپریسنٹ  کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ تحقیق میں 7 کلینیکل ٹرائلز اور 4 پروٹوکول پیپرز کا جائزہ لیا گیا، جس میں میجر ڈپریسیو ڈس آرڈر (MDD)، ٹریٹمنٹ ریزسٹنٹ ڈپریشن (TRD) اور بائی پولر ڈپریشن کے مریض شامل تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 50 فیصد مریضوں میں نائٹرس آکسائیڈ کی ایک خوراک نے مختصر مدت کے لیے نمایاں بہتری دکھائی۔ اثر عام طور پر ایک ہفتے تک برقرار رہا، تاہم متعدد ہفتوں پر مشتمل بار بار سیشنز زیادہ دیرپا نتائج فراہم کرتے ہیں، جو بتاتا ہے کہ طویل مدتی علاج ضروری ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، نائٹرس آکسائیڈ گلوٹا میٹ ریسیپٹرز کو متاثر کرتی ہے، جو وہی میکانزم ہے جو کیٹامائن میں پایا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے یہ موڈ پر فوری مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ابتدائی تحقیق میں ہلکے مضر اثرات جیسے چکر آنا اور متلی  دیکھے گئے جو جلد ختم ہو گئے، اور کسی قسم کے سنگین قلیل مدتی خطرات سامنے نہیں آئے۔ اس پیش رفت کے بعد، ماہرین این ایچ ایس کے پہلے کلینیکل ٹرائل کی تیاری کر رہے ہیں  تاکہ جانچا جا سکے کہ آیا نائٹرس آکسائیڈ کو ڈپریشن کے محفوظ اور مؤثر علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں

بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں اضافہ، شعور اور علاج کی فوری ضرورت۔

بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں اضافہ، شعور اور علاج کی فوری ضرورت۔

بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبے میں 260 مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1500 سے زائد رجسٹریشن سے باہر ہیں۔ حکومت ہر ماہ 50 مریضوں کا علاج کر رہی ہے اور جدید Hemlibra انجیکشن بھی مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ 17 اپریل کو ورلڈ ہیموفیلیا ڈے منایا جاتا ہے تاکہ اس مرض کے بارے میں شعور اور بروقت علاج کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔

بلوچستان کے تمام اضلاع میں DHIS-2 کا مکمل نفاذ، کور کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ

بلوچستان کے تمام اضلاع میں DHIS-2 کا مکمل نفاذ، کور کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ

بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کے تحت DHIS-2 کا نفاذ مکمل ہو چکا ہے۔ AI FRAMS کے ذریعے حاضری کا نظام فعال ہے اور ہیلتھ انفارمیشن سسٹمز کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ یونیسف اور HISP پاکستان کے تعاون سے صحت کی خدمات کی شفافیت اور معیار بہتر ہوا ہے۔

کوئٹہ بلاک میں پولیو کی صورتحال کا جائزہ، کمشنر کی خصوصی ہدایات

کوئٹہ بلاک میں پولیو کی صورتحال کا جائزہ، کمشنر کی خصوصی ہدایات

کوئٹہ ڈویژن میں پولیو کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پولیو کیسز، ٹیموں کی کارکردگی، مانیٹرنگ سسٹم اور ہائی رسک یونین کونسلز پر خصوصی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ پولیو مہم ہر صورت مؤثر، شفاف اور فول پروف بنائی جائے اور گردی پنکی میں رکاوٹ ڈالنے والے اسٹاف کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے۔

چائلڈ پروٹیکشن اور ایم ایچ پی ایس ایس پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

چائلڈ پروٹیکشن اور ایم ایچ پی ایس ایس پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف سائیکائٹری اینڈ بیہیویئرل سائنسز نے یونیسف کے تعاون سے چائلڈ پروٹیکشن اور مینٹل ہیلتھ اینڈ سائیکو سوشل سپورٹ پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں مختلف اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں کیس مینجمنٹ، ریفرل میکنزم، قانونی حقوق، اور بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق اہم نکات پر تربیت دی گئی۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے بلوچستان کی قیادت کو ایکسی لینس ایوارڈ

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے بلوچستان کی قیادت کو ایکسی لینس ایوارڈ

اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بلوچستان کے وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن کو ہیلتھ سروسز ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا۔ یہ اعزاز صوبے میں صحت کے شعبے میں بہتر گورننس، اصلاحات اور موثر اقدامات کے اعتراف میں دیا گیا۔