بیماری کے دوران اکثر ڈاکٹرز چاول اور بڑے گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، اور اس کی وجوہات صرف گھریلو ٹوٹکے نہیں بلکہ سائنسی اور میڈیکل بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیماری میں جسم کمزور ہو جاتا ہے، ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور جسم کو ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہوں اور جسم پر بوجھ نہ ڈالیں۔
چاول کیوں منع کیے جاتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول اگرچہ جلد ہضم ہو جاتے ہیں، مگر ان میں فائبر کی کمی ہوتی ہے، جس کے باعث خون میں شوگر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر شوگر کے مریض یا کمزوری کے شکار افراد کے لیے یہ مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ چاول جسم میں نمی بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے بخار، نزلہ، کھانسی یا انفیکشن کے دوران اکثر ڈاکٹر چاول نہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق چاول وزن بڑھانے یا جسم کو سست بنانے کا باعث بھی بنتے ہیں، جو بیماری میں مناسب نہیں ہوتا۔
بڑے گوشت (بیف) سے پرہیز کیوں؟
ڈاکٹرز کے مطابق بڑا گوشت ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور کمزور جسم پر اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ بیف میں چکنائی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے اور دل کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
چونکہ بیمار جسم پہلے ہی انفیکشن اور سوزش سے لڑ رہا ہوتا ہے، اس لیے بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والی غذا مزید سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بخار، جوڑوں کے درد، تھکن یا کسی بھی انفیکشن میں بیف سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
حتمی بات
چاول اور بیف نقصان دہ غذا نہیں ہیں، لیکن بیماری کے دوران جسم کی حالت کے مطابق ان سے پرہیز بہتر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے ہی صحت بہتر ہو، ڈاکٹر کے مشورے سے انہیں آہستہ آہستہ دوبارہ غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
آج کل کھانے کے حوالے سے لوگوں میں ایک نیا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور وہ ہے ہمالین پنک سالٹ کا استعمال۔ بہت سے لوگ اسے عام سفید نمک سے زیادہ صحت بخش قرار دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پنک سالٹ اتنا فائدہ مند ہے یا یہ صرف ایک ٹرینڈ ہے؟
ماہرین کے مطابق عام نمک اور ہمالین پنک سالٹ دونوں بنیادی طور پر سوڈیم کلورائیڈ ہی ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پنک سالٹ میں کچھ اضافی منرلز پائے جاتے ہیں، جنہیں اس کا رنگ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ منرلز فائدہ تو رکھتے ہیں، لیکن ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
پنک سالٹ کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ یہ عام نمک کے مقابلے میں زیادہ قدرتی، کم پروسیسڈ اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم غذائی ماہرین کے مطابق یہ معدنیات اتنی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ صحت پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔
صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نمک چاہے عام ہو یا پنک سالٹ، زیادہ مقدار میں استعمال دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔ خون کا دباؤ بڑھنے، دل کے مسائل اور گردوں پر بوجھ جیسے خطرات دونوں ہی نمکیات کے زیادہ استعمال سے وابستہ ہیں۔
البتہ ذائقے اور شکل کے لحاظ سے پنک سالٹ کو ترجیح دی جا سکتی ہے، جبکہ عام نمک قیمت میں کم اور باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں نمکوں کا استعمال محفوظ ہے، لیکن اعتدال سب سے ضروری ہے۔
آج کل کھانے کے حوالے سے لوگوں میں ایک نیا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور وہ ہے ہمالین پنک سالٹ کا استعمال۔ بہت سے لوگ اسے عام سفید نمک سے زیادہ صحت بخش قرار دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پنک سالٹ اتنا فائدہ مند ہے یا یہ صرف ایک ٹرینڈ ہے؟
ماہرین کے مطابق عام نمک اور ہمالین پنک سالٹ دونوں بنیادی طور پر سوڈیم کلورائیڈ ہی ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پنک سالٹ میں کچھ اضافی منرلز پائے جاتے ہیں، جنہیں اس کا رنگ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ منرلز فائدہ تو رکھتے ہیں، لیکن ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
پنک سالٹ کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ یہ عام نمک کے مقابلے میں زیادہ قدرتی، کم پروسیسڈ اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم غذائی ماہرین کے مطابق یہ معدنیات اتنی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ صحت پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔
صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نمک چاہے عام ہو یا پنک سالٹ، زیادہ مقدار میں استعمال دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔ خون کا دباؤ بڑھنے، دل کے مسائل اور گردوں پر بوجھ جیسے خطرات دونوں ہی نمکیات کے زیادہ استعمال سے وابستہ ہیں۔
البتہ ذائقے اور شکل کے لحاظ سے پنک سالٹ کو ترجیح دی جا سکتی ہے، جبکہ عام نمک قیمت میں کم اور باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں نمکوں کا استعمال محفوظ ہے، لیکن اعتدال سب سے ضروری ہے۔
پپیتا ایک ایسا پھل ہے جو وٹامنز، غذائی اجزاء اور انہضامی اینزائمر سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر ہاضمے، قوت مدافعت اور مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ پپیتے میں وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وزن کنٹرول رہتا ہے اور یہ پروٹین کو ہضم کرنے میں مددگار بھی ہے۔
سائنس نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ رات کو پپیتا کھانا نقصان دہ ہے یا فائدہ مند۔ زیادہ تر باتیں روایتی مشاہدے اور عام تجربات پر مبنی ہیں۔
اگر آپ کا معدہ حساس ہے، پپیتا کچا ہے یا آپ نے زیادہ مقدار میں کھا لیا ہے تو معدے میں جلن، بدہضمی یا گیس کی شکایت ہو سکتی ہے۔ صحت مند افراد اعتدال میں رات کو پکا ہوا پپیتا آرام سے کھا سکتے ہیں، جبکہ ہاضمے کے مسائل والے افراد کے لیے بہتر ہے کہ دن میں پپیتا کھائیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق پپیتا کھانے کے لیے وقت سے زیادہ اہم ہے مقدار، پکا ہونا اور فرد کی صحت۔
وزن کم کرنے والے مشہور انجیکشنز کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کا استعمال جسمانی عمر کو 10 سال تک بڑھا سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ دوائیں وزن تو کم کرتی ہیں لیکن اس عمل میں پٹھوں کا تیز نقصان ہوتا ہے، جو درمیانی عمر اور بزرگ افراد میں کمزوری اور گرنے کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کینیڈین محققین کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں پٹھوں کو ہونے والا نقصان موٹاپے کی سرجری، کینسر کے علاج یا 10 سال کی قدرتی عمر بڑھنے کے برابر پایا گیا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق کچھ مطالعات میں جسمانی ماس کا تقریباً 11 فیصد تک کم ہونا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیگر تحقیقات میں وزن کم ہونے کے 20 سے 50 فیصد حصے کو پٹھوں کے گھٹنے سے منسوب کیا گیا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ انجیکشن استعمال کرنے والوں کے لیے ہفتے میں 2 سے 3 بار طاقت بڑھانے والی مشقیں اور تقریباً 150 منٹ کی معتدل یا سخت ورزش کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف پٹھوں اور ہڈیوں کا ماس برقرار رہتا ہے بلکہ وزن دوبارہ بڑھنے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں وزن کم کرنے والی ان ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ جسمانی تربیت کو بھی معمول بنایا جائے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ورزش انجیکشن کے استعمال کے دوران اور اسے ترک کرنے کے بعد بھی پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے افراد ہفتے میں کم از کم 2 سے 3 مرتبہ باقاعدہ مزاحمتی ایکسرسائز ضرور کریں۔
گڑ اور چینی کے درمیان بحث ہمیشہ جاری رہتی ہے، لیکن غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسیس شدہ چینی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جبکہ گڑ کئی غذائی فوائد فراہم کرتا ہے۔ آج کے مصروف دور میں، جہاں بیٹھے رہنے کی عادت، آلودگی اور صاف پانی کی کمی عام ہے، اپنی خوراک میں بہتر انتخاب کرنا بہت ضروری ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہر غذائیت دیویا کور نے بتایا کہ اگرچہ چینی اور گڑ دونوں میں کیلوریز تقریباً برابر ہیں۔ (چینی: 387 کلو کیلوری، گڑ: 382 کلو کیلوری)، مگر چینی خالص کاربوہائیڈریٹ ہے اور اس میں کوئی غذائیت نہیں۔ اس کے برعکس، گڑ میں آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، کاپر، فاسفورس اور وٹامنز پائے جاتے ہیں اور یہ گٹھیا جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔
چینی خون میں گلوکوز کی سطح کو اچانک بڑھا دیتی ہے جبکہ گڑ آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتا ہے اور آپ کو زیادہ دیر تک متحرک رکھتا ہے۔ مزید برآں، گڑ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے، جسم میں الیکٹرولائٹس کو متوازن رکھتا ہے، نظام ہاضمہ کو صاف کرتا ہے، فائبر فراہم کرتا ہے اور جسم کو ڈیٹاکس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گڑ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس ہاضمے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بھنے ہوئے چنے اور گڑ کو ملا کر کھائیں تو یہ امتزاج پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے، نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور خوراک کو زیادہ صحت مند بناتا ہے۔ اگلی بار جب آپ بیکنگ کریں یا کوئی مشروب تیار کریں تو چینی کے بجائے گڑ کا انتخاب کریں۔ اس سے نہ صرف ذائقہ بہتر رہتا ہے بلکہ آپ کی ڈیزرٹس قدرے صحت مند بھی ہو جاتی ہیں۔
ایک نئی طبی تحقیق میں حیران کن طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ نائٹرس آکسائیڈ (Nitrous Oxide)، جسے عام طور پر ہنسانے والی گیس کہا جاتا ہے، شدید ڈپریشن میں انتہائی تیز رفتار ریلیف فراہم کر سکتی ہے اور اثرات صرف ایک دن کے اندر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ای بائیو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، نائٹرس آکسائیڈ فاسٹ ایکٹنگ اینٹی ڈپریسنٹ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ تحقیق میں 7 کلینیکل ٹرائلز اور 4 پروٹوکول پیپرز کا جائزہ لیا گیا، جس میں میجر ڈپریسیو ڈس آرڈر (MDD)، ٹریٹمنٹ ریزسٹنٹ ڈپریشن (TRD) اور بائی پولر ڈپریشن کے مریض شامل تھے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 50 فیصد مریضوں میں نائٹرس آکسائیڈ کی ایک خوراک نے مختصر مدت کے لیے نمایاں بہتری دکھائی۔ اثر عام طور پر ایک ہفتے تک برقرار رہا، تاہم متعدد ہفتوں پر مشتمل بار بار سیشنز زیادہ دیرپا نتائج فراہم کرتے ہیں، جو بتاتا ہے کہ طویل مدتی علاج ضروری ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، نائٹرس آکسائیڈ گلوٹا میٹ ریسیپٹرز کو متاثر کرتی ہے، جو وہی میکانزم ہے جو کیٹامائن میں پایا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے یہ موڈ پر فوری مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ابتدائی تحقیق میں ہلکے مضر اثرات جیسے چکر آنا اور متلی دیکھے گئے جو جلد ختم ہو گئے، اور کسی قسم کے سنگین قلیل مدتی خطرات سامنے نہیں آئے۔
اس پیش رفت کے بعد، ماہرین این ایچ ایس کے پہلے کلینیکل ٹرائل کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ جانچا جا سکے کہ آیا نائٹرس آکسائیڈ کو ڈپریشن کے محفوظ اور مؤثر علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں
بلوچستان میں ہیموفیلیا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبے میں 260 مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1500 سے زائد رجسٹریشن سے باہر ہیں۔ حکومت ہر ماہ 50 مریضوں کا علاج کر رہی ہے اور جدید Hemlibra انجیکشن بھی مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ 17 اپریل کو ورلڈ ہیموفیلیا ڈے منایا جاتا ہے تاکہ اس مرض کے بارے میں شعور اور بروقت علاج کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔
بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کے تحت DHIS-2 کا نفاذ مکمل ہو چکا ہے۔ AI FRAMS کے ذریعے حاضری کا نظام فعال ہے اور ہیلتھ انفارمیشن سسٹمز کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ یونیسف اور HISP پاکستان کے تعاون سے صحت کی خدمات کی شفافیت اور معیار بہتر ہوا ہے۔
کوئٹہ ڈویژن میں پولیو کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پولیو کیسز، ٹیموں کی کارکردگی، مانیٹرنگ سسٹم اور ہائی رسک یونین کونسلز پر خصوصی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ پولیو مہم ہر صورت مؤثر، شفاف اور فول پروف بنائی جائے اور گردی پنکی میں رکاوٹ ڈالنے والے اسٹاف کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے۔
بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف سائیکائٹری اینڈ بیہیویئرل سائنسز نے یونیسف کے تعاون سے چائلڈ پروٹیکشن اور مینٹل ہیلتھ اینڈ سائیکو سوشل سپورٹ پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں مختلف اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں کیس مینجمنٹ، ریفرل میکنزم، قانونی حقوق، اور بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق اہم نکات پر تربیت دی گئی۔
اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بلوچستان کے وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن کو ہیلتھ سروسز ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا۔ یہ اعزاز صوبے میں صحت کے شعبے میں بہتر گورننس، اصلاحات اور موثر اقدامات کے اعتراف میں دیا گیا۔
سردیوں میں سنترے نہ صرف آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں بلکہ یہ صحت کے لیے بے حد مفید غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق روزانہ ایک سنترہ کھانے سے جسمانی صحت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ سنترہ وٹامن C، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو مدافعتی نظام مضبوط بنانے، جلد و بالوں کی حفاظت اور دل و ہاضمے کی صحت کے لیے مفید ہے۔
بلوچستان میں سنترے زیادہ تر کوئٹہ، پشین، ژوب، نوشکی اور خضدار کے علاقوں سے منگوائے جاتے ہیں۔ یہاں کے سرد موسم میں مقامی مارکیٹس اور سبزی منڈیوں میں سنترے بڑے آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں، اور لوگ انہیں روزانہ کی خوراک میں شامل کر کے صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
1. مدافعتی نظام میں اضافہ
سنترے میں موجود وٹامن C سردیوں میں نزلہ، زکام اور دیگر انفیکشن سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ سفید خون کے خلیات کی فعالیت بڑھاتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔
2. ہاضمہ اور وزن پر اثر
سنترے میں موجود فائبر ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، قبض اور بدہضمی کے مسائل کم کرتا ہے اور طویل عرصے تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دیتا ہے، جس سے وزن کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
3. جلد اور بالوں کی حفاظت
وٹامن C اور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کی خشکی دور کرتے ہیں، کولیجن کی پیداوار میں مدد دیتے ہیں اور سردیوں کی خشک ہوا کے اثرات سے جلد اور بالوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
4. دل اور بلڈ پریشر کی صحت
سنترے کا باقاعدہ استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزاء بلڈ ویسلز کو مضبوط رکھتے ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
5. ہڈیوں، آنکھوں اور توانائی کے لیے فوائد
سنترے میں شامل دیگر وٹامنز اور معدنیات آنکھوں کی صحت بہتر بنانے، جسمانی توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی قوتِ برداشت بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
بلوچستان میں سردیوں کے دوران سنترے نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ یہ مقامی فصلوں اور تجارتی مارکیٹوں کا اہم حصہ بھی ہیں، جہاں لوگ تازہ سنترے خرید کر اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرتے ہیں۔
سردیوں کے موسم میں چائے اور کافی دونوں ہی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، مگر اکثر لوگ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ان دونوں میں سے صحت کے لیے بہتر کون سا مشروب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں مشروبات میں کیفین موجود ہوتا ہے، لیکن ان کے جسم پر اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ اعتدال میں استعمال کیے جائیں تو چائے اور کافی دونوں فائدہ دیتی ہیں، مگر حد سے زیادہ مقدار نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
چائے کے فوائد اور نقصانات
چائے میں کیفین کی مقدار کافی سے کم ہوتی ہے، اسی وجہ سے یہ دل پر کم دباؤ ڈالتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو سوزش سے بچانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ ہری چائے وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تاہم زیادہ چائے پینا جسم میں آئرن کے جذب ہونے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، جس سے خون کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چائے کا زیادہ استعمال گیس، تیزابیت اور پیٹ کے مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
کافی کے فائدے اور ممکنہ نقصان
کافی ذہنی چوکناہٹ بڑھانے اور توانائی فراہم کرنے میں مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود کیفین میٹابولزم تیز کرتا ہے، جس سے کیلوریز تیزی سے جلتی ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق مناسب مقدار میں کافی پینے سے دل کے امراض اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ لیکن ضرورت سے زیادہ کافی دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہے، بےچینی بڑھا سکتی ہے اور نیند کے نظام کو خراب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد میں کافی تیزابیت بھی بڑھا دیتی ہے۔
کون سا مشروب بہتر ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو زیادہ کیفین برداشت نہیں ہوتی یا دل کا مسئلہ ہے تو چائے ایک محفوظ انتخاب ہو سکتی ہے، جبکہ اگر ذہنی توجہ یا فوری توانائی درکار ہو تو کافی زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ لیکن دونوں مشروبات کا استعمال روزانہ 2 سے 3 کپ تک محدود رکھنا صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اعتدال میں استعمال دونوں کو ہی فائدہ مند بناتا ہے۔
بلوچستان میں صحت کا شعبہ مسائل سے دوچار ہے، جہاں بیماریوں کا بوجھ قومی اوسط سے دوگنا ہے۔ ملیریا، ڈینگی، ہیپاٹائٹس، غذائی قلت، آلودگی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں نے عوامی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومت، بین الاقوامی اداروں اور مقامی ٹیموں کی موجودہ کوششوں کے باوجود صحت مراکز، صاف پانی، ماں و بچے کی صحت، غذائیت اور ویکسینیشن جیسے شعبوں میں ابھی بہتری کی بڑی گنجائش باقی ہے۔ مستقل حکمتِ عملی اور مؤثر اقدامات ہی صوبے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ساگ سردیوں کی وہ پسندیدہ سبزی ہے جو نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہوتی ہے بلکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی بے مثال ہے۔ صدیوں سے یہ سبزی برصغیر کے کھانوں کا اہم حصہ رہی ہے، اور جدید تحقیق بھی اس کے حیرت انگیز غذائی فوائد کی تصدیق کرتی ہے۔
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ ساگ جسم کو توانائی فراہم کرنے، خون صاف رکھنے، ہاضمہ بہتر بنانے اور قوتِ مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
غذائیت سے بھرپور خزانہ
ساگ میں وٹامن اے، سی، کے، کیلشیم، آئرن، پوٹاشیم، فولک ایسڈ اور فائبر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ وٹامن اے نظر کو تیز کرتا ہے، وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے جبکہ فولک ایسڈ خون کے نئے خلیات بنانے کے لیے ضروری ہے۔ کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
خون کی کمی دور کرنے میں مؤثر
ساگ آئرن کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جس سے تھکن، کمزوری اور سانس پھولنے جیسے مسائل میں کمی آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ساگ کا باقاعدہ استعمال آئرن کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
مدافعتی نظام مضبوط کرے
ساگ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن سی جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی قدرتی طاقت فراہم کرتے ہیں۔ موسمِ سرما کی عام بیماریوں جیسے نزلہ، زکام اور کھانسی سے بچاؤ کے لیے یہ بہترین غذا ہے۔
ہاضمہ بہتر بنائے
فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ساگ نظامِ ہاضمہ کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔ یہ قبض سے نجات دینے، آنتوں کی کارکردگی بہتر کرنے اور معدے کی تیزابیت کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ جگر کو صاف رکھنے میں بھی معاون ہے۔
دل کی صحت کے لیے مفید
ساگ میں موجود فائبر اور پوٹاشیم دل کی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ پوٹاشیم بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ فائبر کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ اسی لیے ماہرین دل کے مریضوں کو ساگ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی
وٹامن کے اور کیلشیم کی موجودگی ساگ کو ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بہترین غذا بناتی ہے۔ یہ بچوں، خواتین اور بزرگوں میں ہڈیوں کی مضبوطی اور جوڑوں کے درد میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جلد اور بالوں کے لیے فائدہ مند
ساگ کے وٹامنز جلد کو تروتازہ رکھتے ہیں اور بالوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جلد سے داغ دھبے کم کرتا ہے اور بالوں کی کمزوری میں بھی کمی لاتا ہے۔
وزن کم کرنے والوں کے لیے بہترین
کم کیلوریز اور زیادہ فائبر ہونے کی وجہ سے ساگ وزن کم کرنے والوں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ فائبر زیادہ دیر تک بھوک محسوس نہیں ہونے دیتا، جس سے وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین غذائیت کے مطابق ساگ کو زیادہ دیر پکانے سے اس کی غذائیت کم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے ہلکی آنچ پر تیار کرنا بہتر ہے۔ دیسی گھی یا مکھن کی تھوڑی مقدار شامل کرنے سے اس کے غذائی اجزاء جسم میں بہتر جذب ہوتے ہیں۔
ساگ نہ صرف سستی اور آسانی سے دستیاب سبزی ہے بلکہ موسمِ سرما میں قدرتی طور پر ملنے والا ایک مکمل غذائی خزانہ بھی ہے، جسے ہر عمر کے افراد کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔
سردیوں میں پانی کم پینا صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی
سردی شروع ہوتے ہی عام طور پر لوگ پانی پینا کم کر دیتے ہیں، کیونکہ ٹھنڈ کے موسم میں پیاس کم لگتی ہے۔ مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ عادت جسم کی صحت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔ جسم کو جتنی پانی کی ضرورت گرمیوں میں ہوتی ہے، تقریباً اتنی ہی مقدار سردیوں میں بھی ضروری ہے۔
پانی کی کمی کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن، سر درد، تھکاوٹ، قبض اور سرچکرانے جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ قوتِ مدافعت کم ہونے سے نزلہ اور زکام جیسے موسمِ سرما کے امراض بھی جلدی لاحق ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی پانی کم پینے سے گردوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور ہونٹوں کا خشک ہونا، جلد کا کھردری ہونا اور پیشاب کا پیلا ہونا بھی اسی کمی کی واضح علامات ہیں۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ سردیوں میں ہمارے جسم کے وہ سگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں جو دماغ کو پانی پینے کا پیغام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی نالیوں میں سکراہٹ آنے کے باعث دل پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ موسم کی وجہ سے میٹابولزم سست ہونے کے باعث وزن بڑھنا بھی عام ہے۔
اگرچہ پانی کا کوئی مکمل متبادل نہیں، مگر کچھ غذائیں پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ مالٹا، انگور، انار اور کینو پانی سے بھرپور پھل ہیں، جبکہ گاجر، شملہ مرچ، ٹماٹر اور کھیرا بھی جسم کی ہائیڈریشن بہتر بنانے میں مؤثر ہیں۔ اسی طرح سوپ اور یخنی سردیوں میں بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں
ذیابیطس تیزی سے عالمی صحت کا ایک بڑا بحران بنتی جا رہی ہے۔ تازہ عالمی تخمینوں کے مطابق اس وقت دنیا میں 589 ملین بالغ افراد (20–79 سال) اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ہر 9 میں سے 1 شخص شوگر کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050 تک مریضوں کی تعداد 853 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان میں ذیابیطس کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بالغ افراد میں ذیابیطس کا پھیلاؤ 31.4 فیصد ہے ۔یعنی تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس شرح کے باعث پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں ذیابیطس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔
ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی شوگر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہسپتالوں کی او پی ڈیز اور وارڈز میں ڈایابیٹک فٹ، اعصابی بیماری (نیوروپیتھی) اور گردوں کے مسائل کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ میڈیکل او پی ڈی میں 10 ہزار سے زائد مریض ذیابیطس کے باقاعدہ فالو اپ پر ہیں، اور یہ تعداد ہر ماہ مسلسل بڑھ رہی ہے، جو مستقبل میں صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اکتوبر سے نومبر 2025 کے دوران مختلف میڈیکل اداروں نے پروفیسر ڈاکٹر شِفات خاتون کی سربراہی میں آگاہی اور تعلیمی پروگرام منعقد کیے جن میں تعلیمی اداروں میں آگاہی سیشنز، پری کانفرنس ورکشاپس اور ورلڈ ڈایابیٹیز ڈے 2025 کی مرکزی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان پروگراموں میں طرزِ زندگی کی بہتری، ’اے آئی اِن میڈیسن‘ تربیت، پینل مباحثے، کلیدی تقاریر اور عوامی آگاہی کے سیشنز منعقد کیے گئے۔
مزید یہ کہ مختلف شعبوں کے ماہرین نے مشترکہ آگاہی پروگرام میں متوازن غذا، کم چینی کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی اور معمول کی اسکریننگ جیسے احتیاطی اقدامات پر زور دیا۔
یہ تمام سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے بڑے طبی ادارے بڑھتی ہوئی ذیابیطس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے احتیاطی تعلیم، کمیونٹی انگیجمنٹ، بروقت تشخیص اور جدید تربیت کے ذریعے مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ڈیرہ بگٹی میں او جی ڈی سی ایل، ایف سی بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تین روزہ فری آئی اینڈ میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں مریضوں کا مفت معائنہ، علاج اور سرجریز کی گئیں۔ دور دراز علاقوں کے لوگوں نے اسے بڑا ریلیف قرار دیا۔