چکن عموماً سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں چکنائی کم اور پروٹین زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے، فٹنس اور ورزش کے شوقین افراد چکن کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرتے ہیں۔
تاہم حالیہ تحقیق نے اس عام تاثر پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اطالوی سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد ہفتے میں 300 گرام سے زیادہ چکن کھاتے ہیں، ان میں معدے اور آنتوں کے کچھ بیماریوں کے خطرے میں اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ چکن استعمال کرنے والوں میں مجموعی طور پر موت کا خطرہ 27 فیصد زیادہ تھا، جبکہ مردوں میں یہ خطرہ تقریباً 2.6 گنا تک بڑھ گیا۔
چکن اور صحت کے تعلق کی تفصیل
ماہرین کہتے ہیں کہ چکن بذاتِ خود بیماری پیدا نہیں کرتا، بلکہ زیادہ کھانے اور پکانے کے طریقے اہم ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت پر چکن کو بھوننے یا گرل کرنے سے ایسے کیمیائی مرکبات بن سکتے ہیں جو جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور طویل مدت میں خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
زیادہ خطرہ پیدا کرنے والے عوامل
زیادہ درجہ حرارت پر پکانا: گرل یا تلی ہوئی چکن میں نقصان دہ مرکبات پیدا ہو سکتے ہیں۔
پراسیس شدہ گوشت: زیادہ نمک اور کیمیکلز صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
غیر متوازن غذا: روزانہ چکن کھانے سے سبزیاں اور فائبر کی کمی ہو سکتی ہے۔
پولٹری فارمنگ کے اثرات: اینٹی بائیوٹکس اور ہارمونز جسم میں تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
چکن کھانا چھوڑنا ضروری ہے؟
ماہرین چکن کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ اعتدال پر زور دیتے ہیں۔ ہفتے میں 300 گرام تک چکن کھانا نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ چکن کے بجائے مچھلی، انڈے اور دالیں بھی خوراک میں شامل کی جائیں۔ چکن کو ابلی ہوئی یا ہلکی پکی شکل میں کھانا بہتر ہے اور سبز پتوں والی سبزیوں اور فائبر کا استعمال بڑھانا چاہیے۔
چکن پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن اسے روزانہ یا واحد خوراک بنانا طویل مدت میں نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، تنوع اور اعتدال سب سے اہم حکمت عملی ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے غذائی الرجی کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
مطالعے کے مطابق، 2015 میں جاری شدہ طبی ہدایات میں تجویز دی گئی کہ بچوں کو چار ماہ کی عمر سے تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی دی جائے۔ اس کے بعد 0 سے 3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد کم ہوئی، اور 2017 میں سفارشات میں توسیع کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے بھی زیادہ دیکھی گئی۔
فلاڈیلفیا کے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر ڈیوڈ ہِل نے کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو مونگ پھلی الرجی کے شکار بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔ ان کے مطابق، اب تک تقریباً 60 ہزار بچوں کو غذائی الرجی سے بچایا جا چکا ہے، جن میں سے 40 ہزار وہ بچے ہیں جو مونگ پھلی الرجی کے شکار ہو سکتے تھے۔
مونگ پھلی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام مونگ پھلی کے پروٹینز کو نقصان دہ سمجھ کر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خارش، سانس لینے میں دشواری یا بعض اوقات جان لیوا اینافلیکسیس جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں تک ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ بچوں کو مونگ پھلی تین سال کی عمر تک نہ دی جائے، لیکن 2015 میں لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر گیڈون لیک کی تحقیق LEAP (Learning Early About Peanut Allergy) نے یہ نظریہ بدل دیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے مستقبل میں غذائی الرجی کا خطرہ 80 فیصد کم ہو جاتا ہے، اور یہ تحفظ تقریباً 70 فیصد بچوں میں بلوغت تک برقرار رہتا ہے۔
قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں جن میں پھل سرفہرست ہیں۔ لیچی اور چیری ایسے ہی غذائیت سے بھرپور پھل ہیں جو نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
لیچی کے حیرت انگیز فوائد
لیچی کا باقاعدہ استعمال وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق لیچی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو کینسر جیسی مہلک بیماریوں سے بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
یہ پھل ہاضمے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ خون کی روانی کو بھی متوازن رکھتا ہے۔ لیچی جلد کو سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچانے میں مددگار ہے جبکہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی مفید مانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لیچی ہرپس جیسے وائرل انفیکشنز کے خلاف بھی حفاظتی کردار ادا کرتی ہے۔
چیری: جوڑوں کے درد اور دل کی صحت کی محافظ
چیری میں موجود پوٹاشیئم بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یورک ایسڈ کم کرکے جوڑوں کے درد میں آرام پہنچاتا ہے۔ چیری میں شامل پیکٹن خون میں موجود مضر کولیسٹرول کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چیری کا استعمال بینائی کو تیز اور جلد کو تروتازہ بناتا ہے کیونکہ اس میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چیری وٹامن سی، وٹامن اے، میگنیشیم، کیلشیئم اور فاسفورس سے بھرپور ہوتی ہے جو جسمانی کمزوری دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔
طبی تحقیق کے مطابق چیری میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کینسر کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں اور دماغی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر روزمرہ غذا میں لیچی اور چیری کو شامل کر لیا جائے تو متعدد بیماریوں سے قدرتی طور پر بچا جا سکتا ہے اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
کیا انڈے کھانے سے واقعی کولیسٹرول بڑھتا ہے؟ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی حالیہ تحقیق نے اس حوالے سے برسوں سے قائم تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ہارورڈ ہیلتھ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خوراک میں موجود کولیسٹرول خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) پر اتنا اثر انداز نہیں ہوتا جتنا ماضی میں سمجھا جاتا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دل کی صحت پر اصل اثر سیر شدہ چکنائی (Saturated Fat) ڈالتی ہے، نہ کہ غذائی کولیسٹرول۔
تحقیق کی تفصیلات
اس تحقیق میں 48 بالغ افراد کو تین مختلف غذائی گروپس میں تقسیم کیا گیا:
پہلے گروپ کو ایسی غذا دی گئی جس میں کولیسٹرول زیادہ لیکن سیر شدہ چکنائی کم تھی، اس گروپ میں روزانہ دو انڈے شامل تھے۔
دوسرے گروپ کو کم کولیسٹرول مگر زیادہ سیر شدہ چکنائی والی غذا دی گئی۔
تیسرے گروپ کو ایسی غذا دی گئی جس میں کولیسٹرول اور سیر شدہ چکنائی دونوں زیادہ تھیں، اس میں روزانہ ایک انڈا شامل تھا۔
حیران کن نتائج
تحقیق کے نتائج سے واضح ہوا کہ خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح کا تعلق زیادہ تر سیر شدہ چکنائی کی مقدار سے ہے، نہ کہ انڈوں یا غذائی کولیسٹرول سے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ افراد جو روزانہ دو انڈے کھاتے تھے اور اپنی مجموعی غذا میں سیر شدہ چکنائی کم رکھتے تھے، ان کے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ کچھ افراد میں کمی بھی دیکھی گئی۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت کے مطابق دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافے کا سبب زیادہ تر پراسیسڈ گوشت، سرخ گوشت، مکھن، پنیر اور دیگر سیر شدہ چکنائی سے بھرپور غذائیں بنتی ہیں، نہ کہ انڈے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈے ایک مکمل اور غذائیت سے بھرپور غذا ہیں اور متوازن خوراک کے ساتھ انہیں روزمرہ غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) میں شائع ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے کی جدید ادویات جیسے Semaglutide اور Tirzepatide علاج کے دوران مؤثر ثابت ہوتی ہیں، تاہم علاج بند کرنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نئی ادویات چھوڑنے کے بعد اوسطاً 0.8 کلوگرام فی مہینہ وزن بڑھتا ہے اور تقریباً 18 ماہ میں وزن دوبارہ پہلے جیسا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ادویات موٹاپے کا مستقل علاج نہیں بلکہ طویل مدتی مینجمنٹ کا حصہ ہیں۔
کوئٹہ میں ای پی آئی کا ماہانہ جائزہ اجلاس دسمبر 2025 میں آغا خان یونیورسٹی کے صوبائی دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب حسین کاکڑ نے کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈپٹی ہیلتھ آفیسر، پروگرام منیجر، ایس آر آئی پی کوآرڈینیٹر، اسسٹنٹ ویکسینیٹرز اور تحصیل مانیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ویکسین کوریج، ڈیٹا کی درستگی، فیلڈ مانیٹرنگ اور کمیونٹی انگیجمنٹ بہتر بنانے پر بات ہوئی۔
سمجھ گیا ?
میں اسے **نیوز سے کاپی کیے بغیر**، صرف خیال لے کر **نئے الفاظ اور الگ انداز** میں لکھ رہا ہوں:
---
جنگلی حیات میں زخمی ہونا ایک عام بات ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جانور بغیر کسی ڈاکٹر یا دوا کے اپنے زخموں کا خیال خود رکھتے ہیں۔ قدرت نے انہیں یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنا علاج خود کر سکیں۔
جب کوئی جانور زخمی ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ شور اور خطرے سے دور کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرتا ہے تاکہ آرام کر سکے۔ اس کے بعد وہ ایسے پودوں اور جڑی بوٹیوں کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس کے زخم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ بندر زخمی ہونے پر مخصوص پودے چباتے ہیں اور ان کا رس زخموں پر لگاتے ہیں۔ ان پودوں میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو سوزش کم کرتے ہیں اور زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ ایک اورنگوٹان نے چہرے پر لگے زخم کے علاج کے لیے خود ہی ایک پودے کے پتے چبائے، ان کا رس زخم پر لگایا اور کچھ دیر تک وہ پتے زخم پر رکھے۔ چند دنوں میں اس کا زخم کافی حد تک بہتر ہو گیا۔
اسی طرح بعض جانور اپنے زخموں کو بیرونی گندگی سے بچانے کے لیے قدرتی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پہاڑی چوہے درختوں کا گوند زخم پر لگا لیتے ہیں جبکہ ریچھ زخم صاف کرنے کے بعد مٹی یا گوند سے اسے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ انفیکشن نہ ہو۔
پرندوں میں بھی یہ فطری صلاحیت پائی جاتی ہے۔ کچھ پرندے ٹوٹی ہوئی ہڈی یا زخم پر گیلی مٹی یا باریک جڑوں سے حفاظتی تہہ بنا لیتے ہیں اور مخصوص جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں، جس سے وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ان مشاہدات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جانور فطرت کے دیے گئے علم سے بخوبی واقف ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ابتدائی علم انہی جانوروں کو دیکھ کر حاصل کیا ہوگا۔
---
اگر آپ چاہیں تو میں:
* اسے **بالکل نیوز اسٹائل** میں
* یا **مختصر سوشل میڈیا پوسٹ**
* یا **ہیڈنگ کے ساتھ مکمل خبر**
جنگلی حیات میں زخمی ہونا ایک عام بات ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جانور بغیر کسی ڈاکٹر یا دوا کے اپنے زخموں کا خیال خود رکھتے ہیں۔ قدرت نے انہیں یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنا علاج خود کر سکیں۔
جب کوئی جانور زخمی ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ شور اور خطرے سے دور کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرتا ہے تاکہ آرام کر سکے۔ اس کے بعد وہ ایسے پودوں اور جڑی بوٹیوں کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس کے زخم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ بندر زخمی ہونے پر مخصوص پودے چباتے ہیں اور ان کا رس زخموں پر لگاتے ہیں۔ ان پودوں میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو سوزش کم کرتے ہیں اور زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ ایک اورنگوٹان نے چہرے پر لگے زخم کے علاج کے لیے خود ہی ایک پودے کے پتے چبائے، ان کا رس زخم پر لگایا اور کچھ دیر تک وہ پتے زخم پر رکھے۔ چند دنوں میں اس کا زخم کافی حد تک بہتر ہو گیا۔
اسی طرح بعض جانور اپنے زخموں کو بیرونی گندگی سے بچانے کے لیے قدرتی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ پہاڑی چوہے درختوں کا گوند زخم پر لگا لیتے ہیں جبکہ ریچھ زخم صاف کرنے کے بعد مٹی یا گوند سے اسے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ انفیکشن نہ ہو۔
پرندوں میں بھی یہ فطری صلاحیت پائی جاتی ہے۔ کچھ پرندے ٹوٹی ہوئی ہڈی یا زخم پر گیلی مٹی یا باریک جڑوں سے حفاظتی تہہ بنا لیتے ہیں اور مخصوص جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں، جس سے وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ان مشاہدات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جانور فطرت کے دیے گئے علم سے بخوبی واقف ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ابتدائی علم انہی جانوروں کو دیکھ کر حاصل کیا ہوگا۔
روزانہ ایک پیاز کھانا، خاص طور پر کچی پیاز، صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ پیاز میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز، منرلز اور سلفر والے اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پیاز کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
پیاز دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا کولیسٹرول کو قابو میں رکھتے ہیں اور بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
پیاز جسم کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے سلفر اجزا بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف مؤثر ہوتے ہیں اور نزلہ، زکام اور فلو سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
یہ مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ پیاز میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
پیاز بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں بھی مددگار ہے۔ روزانہ ایک پیاز کھانا شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ یہ انسولین کے اثر کو بہتر بناتا ہے۔
پیاز دماغی صحت کے لیے بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا یادداشت اور توجہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی کمزوری کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔
بالوں اور جلد کے لیے بھی پیاز فائدہ مند ہے۔ پیاز کا استعمال بالوں کو مضبوط کرتا ہے اور جلد کو جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ پیاز ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔ اس میں موجود فائبر آنتوں کے نظام کو درست رکھتا ہے اور قبض جیسے مسائل میں کمی لاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیاز کو روزمرہ غذا میں مناسب مقدار میں شامل کرنا مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
نو عمر نوجوان اکثر چہرے پر نکلنے والے کیل مہاسوں کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ اب ان کے لیے ایک خوشخبری ہے کہ صرف ایک آلو کے استعمال سے اس مسئلے میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق آلو میں ایسے قدرتی اجزا ہوتے ہیں جو چہرے کے دانوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آلو ہمارے گھروں میں عام استعمال ہونے والی سبزی ہے اور بچوں میں بھی بہت پسند کی جاتی ہے۔
آلو غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور اسے مختلف طریقوں سے پکایا جا سکتا ہے۔ اگر آلو مناسب مقدار میں اور صحت مند طریقے سے کھایا جائے تو یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
آلو میں موجود وٹامن سی اور اسٹارچ جلد کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر آلو کا رس چہرے پر لگایا جائے تو کیل مہاسے جلد خشک ہو سکتے ہیں اور جلد صاف نظر آنے لگتی ہے۔
آلو کا رس معدے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ یہ معدے کی جلن، گیس اور السر میں آرام دیتا ہے اور قدرتی اینٹی ایسڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس کے علاوہ آلو آنکھوں کی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ کچے آلو کے قتلے آنکھوں پر رکھنے سے سوجن اور سیاہ حلقوں میں کمی آ سکتی ہے، کیونکہ آلو میں قدرتی سفید کرنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔
کوئٹہ: ای پی آئی ہیڈکوارٹر بلوچستان میں کمیونٹی بیسڈ سرویلنس سے متعلق ایک اسکوپنگ اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری عوامی صحت کے ردِعمل کے لیے کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانا تھا۔
اجلاس کی صدارت ڈاکٹر آفتاب حسین، صوبائی کوآرڈینیٹر (پی سی) ای پی آئی بلوچستان نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر آصف بتینی، مسٹر ذیشان، ڈاکٹر رابیہ بلوچ، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر رحمت اللہ کاکڑ، یونیسیف کے ڈاکٹر نور حسین گچکی، ڈاکٹر ظفر اقبال خوستی (ای پی آئی)، ڈاکٹر احسان لارک، ڈی پی سی ای پی آئی کے علاوہ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی بیسڈ سرویلنس بیماریوں کے پھیلاؤ کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے، خصوصاً دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں۔ اجلاس میں مختلف شراکت داروں کے مابین رابطہ کاری کو بہتر بنانے، کمیونٹی سطح پر رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنے اور سی بی ایس کو موجودہ عوامی صحت کے نظام میں شامل کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کمیونٹی کی مؤثر شمولیت، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت سازی اور بروقت معلومات کا تبادلہ بلوچستان میں بیماریوں کی نگرانی اور عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نئی تحقیق کے مطابق صرف چند سیکنڈ کے لیے سجدہ کرنا دماغ کی سرگرمی پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ نتائج امریکی سائنسدانوں کی ایک پائلٹ اسٹڈی میں سامنے آئے ہیں جو PubMed Central میں شائع ہوئی ہے۔
مطالعے میں تین خواتین اور دو مرد رضاکار شامل تھے، جن کے دماغی سگنلز کھلی اور بند آنکھوں کی حالت میں ریکارڈ کیے گئے۔ شرکاء کے بارے میں یہ باتیں نوٹ کی گئی ہیں:
کسی قسم کے نفسیاتی امراض کی تاریخ نہیں
سر یا ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ یا سرجری نہیں
باقاعدہ نیورو سائیکولوجیکل ادویات استعمال نہیں
نماز باقاعدگی سے ادا کرنے کی عادت
نتائج سے معلوم ہوا کہ خواتین میں سجدے کے دوران کچھ دماغی سگنلز میں کمی دیکھنے کو ملی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کچھ حد تک پرسکون یا مختلف انداز سے کام کر رہا تھا۔ مردوں میں بعض دماغی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی اسٹڈی سجدے کے دماغی اثرات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور مستقبل میں اس پر مزید تفصیلی مطالعات کی ضرورت ہے۔
سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا کہ صرف 10 سیکنڈ کے سجدے سے دماغی سرگرمی میں تبدیلی ممکن ہے اور یہ اثر مرد اور خواتین میں مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق نماز کے جسمانی اور ذہنی فوائد کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
سردیوں کے موسم میں جلد کی خشکی، پھٹنا اور بے رونقی ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے، ایسے میں ایلو ویرا کے استعمال سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں کہ آیا اسے سردیوں میں استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق، ایلو ویرا میں قدرتی نمی، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جلد کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ سردیوں میں اگر ایلو ویرا کا درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ جلد کی خشکی، خارش اور جلن کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں صرف ایلو ویرا جیل لگانے کے بجائے اسے کسی موئسچرائزر، ناریل کے تیل یا زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند رہتا ہے، کیونکہ خالص ایلو ویرا بعض افراد کی جلد کو مزید خشک بھی کر سکتا ہے۔
جلد کے ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ حساس جلد والے افراد سردیوں میں ایلو ویرا کے استعمال سے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کریں تاکہ کسی قسم کی الرجی یا جلن سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، ایلو ویرا نہ صرف جلد بلکہ ہونٹوں، ہاتھوں اور پیروں کی خشکی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا استعمال اعتدال میں اور درست طریقے سے کرنا ضروری ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سردیوں میں جلد کی حفاظت کے لیے متوازن غذا، مناسب پانی کا استعمال اور معیاری اسکن کیئر مصنوعات کے ساتھ ایلو ویرا کو معاون کے طور پر استعمال کیا جائے۔
چائے پاکستان میں روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ زیادہ تر لوگ دن کا آغاز دودھ والی چائے سے کرتے ہیں، جبکہ کئی افراد کام کے بعد سبز چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ ایسے میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ روزانہ استعمال کے لیے کون سی چائے صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق، دودھ والی چائے میں موجود دودھ بعض اوقات چائے کے فائدہ مند اجزا کے اثر کو کم کر دیتا ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی نہ ہو تو دودھ والی چائے نقصان دہ نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ دودھ میں کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دودھ والی چائے کھانے کے فوراً بعد پینے کے بجائے کھانوں کے درمیان پی جائے۔
کالی چائے عموماً بغیر دودھ یا بہت کم دودھ کے ساتھ پی جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ قدرے تیز ہوتا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ غذائی لحاظ سے دودھ والی اور سبز چائے کے درمیان ایک متوازن انتخاب ہے۔ کالی چائے میں موجود اجزا خون کی روانی بہتر بنانے اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، تاہم اسے بھی کھانے کے ساتھ پینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ غذا کے جذب ہونے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
سبز چائے کو صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سبز چائے وزن کم کرنے، جسم میں چکنائی گھٹانے اور نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سبز چائے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر چائے کے اپنے فوائد ہیں، اصل بات اعتدال اور درست وقت پر استعمال کی ہے۔ اگر چائے مناسب مقدار میں اور درست انداز سے پی جائے تو یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
بلوچستان ہیلتھ منجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BHMIS) اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے صوبائی کوآرڈینیٹرز نے PPHI بلوچستان کے سی ای او سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں صحت کے ڈیٹا کے مؤثر استعمال، بیماریوں کی بروقت تشخیص، اور بنیادی صحت کی سہولیات کی بہتری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ٹی بی تشخیص، ڈیٹا انضمام اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، بی ایچ یو لیول پر ٹی بی سہولیات کی وسعت، اور جدید معیار کے مطابق مراکز قائم کرنے پر زور دیا گیا۔
بلوچستان کی صحت اور تعلیم کے شعبے میں عالمی تعاون کا آغاز، آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے امریکہ کی یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس شراکت کے ذریعے صوبے میں طبی تعلیم، تحقیق اور معیاری علاج کی سہولیات کو فروغ دیا جائے گا، خاص طور پر کینسر اور ماں و بچے کی صحت کے شعبے میں۔
کوئٹہ میں وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے نئے تعمیر شدہ ٹرامہ سینٹر میں حکومت کی پیپر لیس پالیسی کے تحت نصب جدید سافٹ ویئر کا جائزہ لیا۔ صوبائی کوآرڈینیٹر BHMIS ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے مریضوں کے اندراج، تشخیص، علاج اور فالو اپ کے ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر صحت نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام سے مریضوں کی سہولت، ہسپتالوں کی کارکردگی اور وسائل کی بچت میں اضافہ ہوگا، اور ہدایت دی کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کو مرحلہ وار HMIS سسٹم پر منتقل کیا جائے۔
کوئٹہ: بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اسپرنگ سیشن 2026 کے لیے مختلف الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرامز میں داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
بولان یونیورسٹی بلوچستان کی واحد سرکاری میڈیکل یونیورسٹی ہے جو صوبے میں طبی تعلیم، کلینیکل تربیت اور تحقیق کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کے تمام تعلیمی پروگرامز تدریسی ہسپتالوں سے منسلک ہیں تاکہ طلبہ کو عملی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا سکے۔
اعلان کے مطابق ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی، میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی، میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی، اینستھیزیا ٹیکنالوجی، آپٹومیٹری، نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹٹیشن، کارڈیک ٹیکنالوجی، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، نرسنگ اور دیگر متعلقہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرامز میں داخلے دستیاب ہیں۔
داخلے کے لیے اہل امیدواروں کا ایف ایس سی پری میڈیکل یا اس کے مساوی امتحان میں کم از کم 50 فیصد نمبرز کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق آن لائن داخلہ پورٹل 5 جنوری 2026 سے کھولا جائے گا جبکہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔ انٹری ٹیسٹ اور انٹرویو کی تاریخوں کا اعلان بعد ازاں یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر کیا جائے گا۔
پاکستان میں خون کی کمی (انیمیا) ایک سنگین مگر خاموش مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں ہر دوسری خاتون آئرن کی کمی کا شکار ہے، خاص طور پر 15 سے 49 سال کی خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق 41 فیصد خواتین انیمیا میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال لاکھوں حاملہ خواتین اس بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی کمی کی عام علامات میں مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، سانس پھولنا، چکر آنا اور جسم میں توانائی کی کمی شامل ہیں۔ حمل کے دوران انیمیا ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بار بار حمل، بچوں میں کم وقفہ اور مناسب غذا کی کمی خواتین کے جسم میں آئرن کے ذخائر ختم کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق غربت اور بڑھتی آبادی بھی اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ گھروں میں وسائل محدود ہوتے ہیں، ماں سب کو کھلاتی ہے مگر خود مناسب خوراک نہیں لے پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں بھی خون کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر سال لاکھوں بچوں میں انیمیا کی تشخیص ہو رہی ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے آئرن والی غذا، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، گوشت اور آئرن سپلیمنٹس کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا بھی بے حد اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی پر قابو پا کر ہی صحت مند مائیں، مضبوط بچے اور بہتر مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
مون سون کے موسم میں نمی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے آنکھوں کا انفیکشن، جسے آشوب چشم بھی کہتے ہیں، تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کے عام علامات میں آنکھوں کی سرخی، خارش اور پانی یا دیگر مادے کا خارج ہونا شامل ہے۔ بیکٹیریل اور وائرل انفیکشن خاص طور پر گنجان آباد علاقوں، اسکولوں اور دفاتر میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق درست احتیاطی تدابیر اپنانے سے آنکھوں کے انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہاتھ اور چہرے کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ آنکھوں یا چہرے کو چھونے سے پہلے ہمیشہ ہاتھ صابن اور پانی سے دھوئیں کیونکہ گندے ہاتھ انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ ساتھ ہی تولیہ، آئی ڈراپس، تکیہ، میک اپ وغیرہ کسی اور کے ساتھ شیئر نہ کریں اور جو چیزیں آپ زیادہ استعمال کرتے ہیں انہیں صاف رکھیں۔ آلودگی، دھول اور تیز ہواؤں سے آنکھوں کو بچانے کے لیے دھوپ کے چشمے پہنیں اور ضرورت سے زیادہ آئی ڈراپس، کاجل یا آئی لائنر استعمال کرنے سے گریز کریں۔ عوامی سوئمنگ پولز یا قدرتی پانی میں جراثیم موجود ہو سکتے ہیں، اس لیے تیراکی کے بعد آنکھوں کو صاف پانی سے دھوئیں۔ ٹی وی یا موبائل سکرین پر زیادہ وقت آنکھوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اس لیے ہر 20 منٹ کے بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور دیکھیں۔ آنکھوں کے قطروں یا دیگر ادویات کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کریں اور اگر سرخی، درد یا دھندلا پن برقرار رہے تو فوراً آنکھوں کے ماہر سے رابطہ کریں۔ ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے نہ صرف آپ اپنی آنکھوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ دیگر افراد کو بھی انفیکشن سے بچا سکتے ہیں۔
سال 2025 کے دوران بلوچستان کے صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی مؤثر پالیسیوں، اصلاحاتی اقدامات اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری میں واضح اضافہ، صوبے کا پولیو فری رہنا، ڈیجیٹل صحت کے نظام کا نفاذ، ہسپتالوں میں جدید سہولیات کی فراہمی اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے ذریعے مفت علاج جیسے اقدامات نے عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔