صحت

صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس میں سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح

صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس میں سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح

کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا، جس کا مقصد ہسپتال کے اہم شعبوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنا ہے۔ منصوبے سے مریضوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

محکمہ صحت بلوچستان اور UNHCR کے درمیان سولرائزیشن پراجیکٹ کے لیے ایم او یو پر دستخط

محکمہ صحت بلوچستان اور UNHCR کے درمیان سولرائزیشن پراجیکٹ کے لیے ایم او یو پر دستخط

محکمہ صحت بلوچستان اور اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHCR کے درمیان صحت مراکز کی سولرائزیشن کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ منصوبے کا مقصد بلوچستان میں صحت کے مراکز کو پائیدار اور مستقل توانائی کی فراہمی یقینی بنانا، اخراجات میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا ہے۔

سینئر اقوامِ متحدہ حکام کا محکمہ صحت بلوچستان کا دورہ، ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کا جائزہ

سینئر اقوامِ متحدہ حکام کا محکمہ صحت بلوچستان کا دورہ، ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کا جائزہ

اقوامِ متحدہ کے سینئر حکام نے کوئٹہ میں محکمہ صحت بلوچستان کا دورہ کیا، جہاں صوبے میں جاری ڈیجیٹل ہیلتھ اقدامات اور جدید ہیلتھ انفارمیشن سسٹمز پر بریفنگ دی گئی۔ وفد نے ان اقدامات کو صحت کے نظام میں شفافیت، بہتری اور گورننس کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا کی کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا کی کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پولیو کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم صوبہ ہے۔ انہوں نے فرنٹ لائن ورکرز، خصوصاً خواتین ورکرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن کی بدولت گزشتہ 15 ماہ سے بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ 2 فروری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

محکمہ صحت بلوچستان میں ڈیجیٹل اصلاحات پر اعلیٰ سطحی ریویو اجلاس

محکمہ صحت بلوچستان میں ڈیجیٹل اصلاحات پر اعلیٰ سطحی ریویو اجلاس

محکمہ صحت بلوچستان کا ایک اہم ریویو اجلاس وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں چیف سیکریٹری شکیل قادر خان نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں صحت کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن، مانیٹرنگ سسٹمز اور شفافیت بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

بولان یونیورسٹی کا بلوچستان کا پہلا میڈیکل ریسرچ جرنل لانچ

بولان یونیورسٹی کا بلوچستان کا پہلا میڈیکل ریسرچ جرنل لانچ

بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ نے بلوچستان کا پہلا میڈیکل ریسرچ جرنل “بولان جرنل آف میڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز” باضابطہ طور پر لانچ کر دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی نے طبی تحقیق کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرنل نوجوان محققین کے لیے ایک مؤثر اور قابل اعتماد پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

دل کی صحت کے لیے فش آئل سپلیمنٹس کے حیرت انگیز فوائد

دل کی صحت کے لیے فش آئل سپلیمنٹس کے حیرت انگیز فوائد

کینیڈا اور آسٹریلیا کے اداروں کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ فش آئل سپلیمنٹس لینے سے دل اور قلبی امراض کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر وہ مریض جو گردوں کی ناکامی پر ڈائلائسز کروا رہے ہیں۔ نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق، فش آئل سپلیمنٹس استعمال کرنے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے اموات کے واقعات دیگر مریضوں کے مقابلے میں کم دیکھنے میں آئے۔ فش آئل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز دل کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور شدید قلبی خطرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہ سپلیمنٹس نہ صرف موجودہ دل کی بیماری کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ہیں بلکہ مریضوں کی مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج عام صحت مند افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے اور ہر شخص کو سپلیمنٹس استعمال کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق دل کی بیماریوں کے علاج اور روک تھام کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں نئے معیارات قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں اضافہ: ماہرین کی وارننگ

نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں اضافہ: ماہرین کی وارننگ

نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ جدید طرزِ زندگی، پانی کی کمی اور غیر متوازن خوراک ہے۔ پہلے یہ مرض زیادہ تر درمیانی عمر یا بزرگ افراد میں دیکھا جاتا تھا، لیکن اب کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیادہ نمکین، مسالے دار اور فاسٹ فوڈ کے ساتھ پروٹین سے بھرپور غذا جسم میں نمکیات کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔ جب پانی کم پیا جائے تو یہ نمکیات پیشاب کے ذریعے خارج ہونے کی بجائے جمع ہو کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جینیاتی عوامل، موٹاپا، میٹابولک بیماریاں اور طویل عرصے تک درد کش ادویات کا استعمال بھی اس مرض کو بڑھاوا دیتا ہے۔ گردے کی پتھری کی عام علامات میں کمر یا پہلو میں شدید درد، متلی، قے، پیشاب کے دوران جلن، بار بار واش روم جانا اور پیشاب میں خون آنا شامل ہیں۔ بعض اوقات پتھری ابتدائی مراحل میں خاموش رہتی ہے، جس سے مریض بے خبر رہتا ہے اور پتھری وقت کے ساتھ بڑی ہو جاتی ہے۔ تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین اور یورین ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ علاج پتھری کے سائز اور مقام پر منحصر ہوتا ہے: چھوٹی پتھریاں زیادہ پانی پینے اور دواؤں سے خود بخود خارج ہو جاتی ہیں، جبکہ بڑی پتھریوں کے لیے لیتھو ٹرپسی، اینڈوسکوپک یا سرجری کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاط سب سے بہتر علاج ہے۔ نوجوانوں کے لیے سفارش کی جاتی ہے کہ روزانہ کم از کم 2 سے 2.5 لیٹر پانی پیا جائے، نمک اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کیا جائے، تازہ اور متوازن غذا استعمال کی جائے، باقاعدہ ورزش کی جائے، وزن پر قابو رکھا جائے اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ کروایا جائے۔ بغیر طبی مشورے کے گھریلو ٹوٹکوں یا غیر مستند نسخوں پر انحصار خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں ہونے والی تبدیلیاں اور دلچسپ سائنسی حقائق

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں ہونے والی تبدیلیاں اور دلچسپ سائنسی حقائق

عمر بڑھنا ایک قدرتی عمل ہے جس میں جسمانی خلیات اور اعضاء آہستہ آہستہ اپنی مرمت اور تجدید کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، جسم کے خلیے کمزور یا غیر فعال ہونے لگتے ہیں۔ بڑھاپے کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بڑھاپے کی واضح علامات جلد پر جھریاں، سفید بال، اور عمر کے دھبے عام علامات ہیں۔ اندرونی طور پر عضلات اور ہڈیاں بھی کمزور ہو جاتی ہیں اور دماغ کے خلیات کی کارکردگی میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ سے یادداشت اور توجہ متاثر ہو سکتی ہے۔ جسمانی ڈھانچے میں تبدیلی عمر بڑھنے کے ساتھ کارٹلیج نرم ہو جاتی ہے، جس سے ناک اور کان کچھ بڑے لگنے لگتے ہیں۔ ہڈیاں اور پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں، جس کے باعث قد اور جسمانی طاقت میں کمی آتی ہے۔ سماعت اور بینائی پر اثرات عمر بڑھنے کے ساتھ کان اور آنکھوں کے خلیات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آنکھ کا لینس سخت اور دھندلا ہو جاتا ہے، جس سے قریب کی چیزیں دیکھنے میں دشواری (پریسبیوپیا) اور موتیابند جیسی مسائل پیدا ہو سکتی ہیں۔ بڑھاپا تیز کرنے والی عادات سورج کی شدید روشنی، آلودگی، ای سگریٹ اور غیر متوازن غذا جلد اور خلیات کی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے جلد سے کولیجن کم ہوتا ہے اور جلد اپنی لچک کھو دیتی ہے۔ عمر بڑھنے کے اہم مراحل عام طور پر عمر کے دو اہم مراحل میں جسمانی تبدیلیاں زیادہ محسوس ہوتی ہیں: 40 کے بعد اور 60 سال کی عمر کے قریب۔ 60 سال کے بعد مدافعتی نظام بھی کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بڑھاپے کی رفتار سست کرنے کے طریقے اگرچہ بڑھاپے کو روکا نہیں جا سکتا، مگر صحت مند عادات سے اس کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا (سبزیاں، پھل، پروٹین، اور سالم اناج)، مناسب نیند اور ذہنی سکون جسم اور دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے سے انسانی عمر 100 سال یا اس سے زیادہ تک بڑھائی جا سکتی ہے، اور زندگی کا معیار بہتر رکھا جا سکتا ہے۔

رکن بلوچستان اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا سی پی ایس پی ریجنل سینٹر کوئٹہ کا دورہ

رکن بلوچستان اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا سی پی ایس پی ریجنل سینٹر کوئٹہ کا دورہ

رکن بلوچستان اسمبلی و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ریجنل سینٹر کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کی کارکردگی کو سراہا اور سربراہ ریجنل سینٹر پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو قومی و بین الاقوامی اعزازات پر مبارکباد دی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج کی بندش پر نوٹس، فوری رپورٹ طلب

وزیراعلیٰ بلوچستان کا ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج کی بندش پر نوٹس، فوری رپورٹ طلب

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بعض اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج متاثر ہونے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مریض کا علاج ہرگز نہیں رکنا چاہیے اور اسپتالوں کے بقایاجات فوری ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث علاج متاثر ہوا، تاہم جلد ادائیگیاں کر کے مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔

وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی کوئٹہ کوآرڈینیٹر کا سول ہسپتال تھیلیسیمیا سینٹر کا خصوصی دورہ

وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی کوئٹہ کوآرڈینیٹر کا سول ہسپتال تھیلیسیمیا سینٹر کا خصوصی دورہ

وزیر اعظم یوتھ پروگرام کوئٹہ کی کوآرڈینیٹر فاطمہ خان نے سیول ہسپتال کے تھیلیسیمیا سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید طبی سہولیات کا جائزہ لیا، عملے کی کارکردگی کو سراہا اور متاثرہ بچوں کے لیے مزید حکومتی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔

بچوں میں زیادہ شکر ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

بچوں میں زیادہ شکر ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

برطانوی تحقیق کے مطابق بچوں کی پیدائش سے لے کر دوسری سالگرہ تک شکر کی مقدار کم رکھنا ان کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شکر کی زیادہ مقدار نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ بچے جو ابتدائی 1000 دنوں کے دوران کم شکر استعمال کرتے ہیں یا جن کی مائیں حمل کے دوران کم شکر کھاتی ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں بالترتیب 35 فیصد اور 20 فیصد کمی دیکھی گئی، اور یہ بیماریاں بھی بعد میں ظاہر ہوئیں۔ ماہرین صحت والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ حمل سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک شکر سے پرہیز کریں۔ اس دوران بچوں کو آئس کریم، میٹھے مشروبات اور دیگر میٹھے فارمولے دینے کی بجائے پانی، دودھ اور تازہ پھل دیں۔ تحقیق کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں شکر کی مقدار محدود رکھنا بچوں کی طویل المدتی صحت اور دماغی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔

ٹماٹر یا شملہ مرچ: جلد اور توانائی کے لیے کون سا پھل سبزی بہتر ہے؟

ٹماٹر یا شملہ مرچ: جلد اور توانائی کے لیے کون سا پھل سبزی بہتر ہے؟

ٹماٹر اور شملہ مرچ دونوں سردیوں میں دستیاب صحت مند سبزیاں ہیں، جو نہ صرف توانائی بڑھانے میں مددگار ہیں بلکہ جلد کی خوبصورتی اور چمک کے لیے بھی فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔ ٹماٹر میں وٹامن سی، وٹامن اے اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جلد کو صحت مند رکھنے اور جلد کی جھریوں کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ اس کے علاوہ ٹماٹر جسم میں خون کی گردش بہتر بنانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ شملہ مرچ بھی وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے، خاص طور پر سرخ شملہ مرچ میں وٹامن اے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جلد کی چمک بڑھانے اور توانائی بڑھانے میں مددگار ہے۔ شملہ مرچ کے روزانہ استعمال سے تھکن کم ہوتی ہے اور جسم میں توانائی کی سطح برقرار رہتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق، اگرچہ دونوں سبزیاں صحت مند ہیں، لیکن جلد کی چمک کے لیے ٹماٹر اور توانائی کے لیے شملہ مرچ زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ بہتر نتائج کے لیے انہیں روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہیلتھ کارڈز پر علاج کی بندش کا نوٹس لے لیا

وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہیلتھ کارڈز پر علاج کی بندش کا نوٹس لے لیا

سرفراز بگٹی نے اسپتالوں میں علاج معطل کرنے کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا   وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈز کے تحت مریضوں کے علاج معطل کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر صحت کو بھی ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ ہیلتھ کارڈ پر کسی بھی مریض کا علاج رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اسپتالوں کے بقایاجات کو فوری طور پر ادا کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان کے ہیلتھ کارڈ کے تحت 5 ارب روپے سے زائد کی رقم اب تک نجی اسپتالوں کو جاری نہیں کی جا سکی، جس کے باعث کراچی سمیت دیگر شہروں کے نجی اسپتالوں میں بلوچستان کے مریضوں کا علاج بند ہونے لگا تھا۔ نجی اسپتالوں نے علاج معطل کرنے سے قبل حکومت کو 15 دن کی مہلت دی تھی، جبکہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پر تقریباً 6 ارب روپے کے واجبات کے مقروض ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے اب تک صرف ایک ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ باقی 5 ارب روپے کی رقم 6 ماہ گزرنے کے باوجود ادا نہیں کی گئی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ فنڈز جلد ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کو جاری کر دیے جائیں گے اور بلوچستان کے نجی اسپتالوں نے علاج بند نہیں کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس مسئلے پر فوری توجہ مریضوں کی سہولت اور صحت کے شعبے میں بہتری کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔

دانتوں کی صحت آپ کی عمر کے بارے میں اہم اشارے دے سکتی ہے: جاپانی تحقیق

دانتوں کی صحت آپ کی عمر کے بارے میں اہم اشارے دے سکتی ہے: جاپانی تحقیق

جاپان میں کی گئی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دانتوں کی حالت اس کی زندگی کی مدت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے BMC Oral Health میں شائع ہوئی ہے۔ اوساکا یونیورسٹی کے محققین نے 75 سال یا اس سے زائد عمر کے تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار افراد کے طبی اور دانتوں کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا۔ ہر دانت کو صحت مند، فلنگ شدہ، خراب یا غائب کے طور پر درجہ بندی کیا گیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کے دانت صحت مند تھے یا وقت پر علاج کر کے فلنگ کی گئی تھی، ان میں زندگی کا خطرہ کم تھا۔ جبکہ جن لوگوں کے دانت خراب یا زیادہ غائب تھے، ان میں جلد موت کے امکانات زیادہ پائے گئے۔ ماہرین نے بتایا کہ صرف دانتوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی مجموعی صحت اور بروقت علاج بھی بہت اہم ہے۔ خراب یا غائب دانت جسم میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں جو دوسری بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، اور دانت نہ ہونے کی وجہ سے خوراک صحیح طرح سے نہ چبانے سے غذائی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ دانتوں کا بروقت علاج کرانا مجموعی صحت بہتر بنانے اور طویل المدتی خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

روزانہ ایک سنگترہ: کینسر اور اسٹروک سے بچاؤ کا آسان طریقہ

روزانہ ایک سنگترہ: کینسر اور اسٹروک سے بچاؤ کا آسان طریقہ

آسٹریلوی تحقیقی ادارے CSIRO کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سنگترہ اور دیگر کھٹے پھل نہ صرف کینسر کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں بلکہ اسٹروک کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر گھٹا سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق روزانہ ایک اضافی سروس سنگترہ یا دیگر کھٹے پھل کھانے سے منہ، گلے اور معدے کے کینسر کے خطرے میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹروک کے خطرے میں بھی 19 فیصد تک کمی ممکن ہے، بشرطیکہ یہ پھل پہلے سے تجویز کردہ پانچ روزانہ پھل اور سبزیوں کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔ صحت اور غذائیت کے فوائد سنگترہ و دیگر کھٹے پھل وٹامن C، بیٹا کیروٹین، فولک ایسڈ اور غذائی ریشہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ پھل دل کی بیماری، بلڈ پریشر، اسٹروک، ذیابیطس، الزائمر، پارکنسن اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔ تحقیق کے مطابق کھٹے پھل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے خلیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آسان طریقے روزانہ استعمال کے لیے تازہ نچوڑا ہوا مالٹے یا دیگر کھٹے پھل کا جوس پینا سلاد یا کھانوں میں کھٹے پھل کا رس یا گودا شامل کرنا مالٹے یا مینڈارن کے ٹکڑے بطور اسنیک کھانا ماہرین کے مطابق، یہ چھوٹے مگر آسان اقدامات روزانہ کرنے سے صحت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے اور کینسر، اسٹروک اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔

کیا زیادہ گوشت کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے؟

کیا زیادہ گوشت کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے؟

آج کے دور میں زیادہ تر لوگ گوشت کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ گوشت کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے؟ کولیسٹرول کیا ہے؟ کولیسٹرول ایک قسم کی چربی ہے جو ہمارے خون میں پائی جاتی ہے۔ یہ جسم کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ خلیات بنانے، ہارمونز بنانے اور وٹامن ڈی کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ لیکن زیادہ کولیسٹرول خون کی نالیوں میں جمع ہو کر دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ گوشت اور کولیسٹرول کا تعلق سرخ گوشت (بیف، مٹن) میں سیر شدہ چربی زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے۔ چکن اور مچھلی میں نسبتاً کم سیر شدہ چربی ہوتی ہے، اور مچھلی میں موجود اومیگا 3 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ زیادہ گوشت، خاص طور پر چکن یا مٹن کا زیادہ حصہ کھانے سے LDL کولیسٹرول (برا کولیسٹرول) بڑھ سکتا ہے، جو دل کے امراض کے لیے خطرناک ہے۔ کتنا گوشت مناسب ہے؟ ماہرین صحت کے مطابق: سرخ گوشت: ہفتے میں 2-3 بار، ہر بار 100-150 گرام کافی ہے۔ چکن اور مچھلی: ہفتے میں 3-4 بار کھائی جا سکتی ہے۔ سبزیاں، دالیں اور پھل: ہر کھانے میں شامل کریں تاکہ جسم میں کولیسٹرول کنٹرول میں رہے۔ گوشت کھانے کے صحت مند طریقے گوشت کو ابالیں، بھاپ میں پکائیں یا گرل کریں، تل کر نہیں۔ زیادہ چربی والی حصہ (چکن کی جلد یا مٹن کی زیادہ چربی) نہ کھائیں۔ کھانے میں سبزیاں اور دالیں شامل کریں تاکہ چربی جذب کم ہو۔ روزانہ ورزش کریں، کم از کم 30 منٹ تیز چلنا یا ہلکی ورزش کریں۔ نتیجہ زیادہ گوشت کھانے سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اگر گوشت زیادہ چربی والا ہو۔ لیکن متوازن خوراک اور صحت مند پکانے کے طریقے اختیار کر کے آپ کولیسٹرول کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔

بچوں میں ہائی بلڈ پریشر میں اضافہ، والدین کے لیے وارننگ

بچوں میں ہائی بلڈ پریشر میں اضافہ، والدین کے لیے وارننگ

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی نئی تحقیق میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو صحت کے لیے تشویش ناک ہے۔ تحقیق میں 21 ممالک کے 96 اسٹڈیز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 400,000 سے زائد بچوں کے اعداد و شمار شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 20 سالوں میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور اب یہ 6.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں اضافے کی بنیادی وجوہات بچوں میں موٹاپا، غیر صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی ہیں۔ زیادہ وزن یا موٹاپے والے بچوں میں بلڈ پریشر بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور یہ رجحان خاص طور پر 12 سال سے زائد لڑکوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچوں کی خوراک اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دیں تاکہ اس خطرے کو کم کیا جا سکے۔ ہائی بلڈ پریشر بچوں کے گردوں، دل اور آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گردوں کی نالیوں اور شریانوں کو نقصان پہنچنے سے ان کی فلٹرنگ صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈائلاسس یا گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں کی باریک شریانوں کو نقصان پہنچنے سے نظر میں کمی یا اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین والدین کو تاکید کرتے ہیں کہ بچوں میں بلڈ پریشر کی ابتدائی جانچ بہت ضروری ہے۔ ابتدائی بلڈ پریشر والے بچوں میں مکمل ہائی بلڈ پریشر تک پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے رجحان کے ساتھ دیگر مسائل جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، جن پر بروقت قابو پانا ضروری ہے۔

نیند کی کمی موٹاپے کی بڑی وجہ قرار، بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

نیند کی کمی موٹاپے کی بڑی وجہ قرار، بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی موٹاپے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔ روزانہ چھ گھنٹے سے کم نیند لینے والوں میں وزن بڑھنے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا جاتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث غیر ضروری کھانے اور جسمانی سرگرمی میں کمی آتی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کے لیے بھی خطرناک ہے، کیونکہ کم نیند بچوں کی نشوونما اور صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین نے صحت مند زندگی کے لیے بڑوں کو 7 سے 8 گھنٹے اور بچوں کو عمر کے مطابق 8 سے 10 گھنٹے نیند لینے کی تاکید کی ہے۔