صحت

 موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

 موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

ماہرینِ صحت کے مطابق موسم کی تبدیلی کے دوران موسمی بیماریوں میں اضافہ ایک سائنسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب درجۂ حرارت اور نمی (humidity) میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو انسانی جسم کا مدافعتی نظام (immune system) کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے جسم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق سرد اور مرطوب موسم میں وائرس زیادہ دیر تک ہوا میں زندہ رہ سکتے ہیں، خاص طور پر نزلہ، زکام اور فلو کے وائرس۔ اس کے علاوہ موسم کی تبدیلی سے ناک اور گلے کی جھلیاں (mucous membranes) خشک یا حساس ہو جاتی ہیں، جس سے جراثیم کے داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی اور گرد و غبار بھی الرجی اور سانس کی بیماریوں کو بڑھاتا ہے، کیونکہ یہ ذرات پھیپھڑوں میں جا کر سوزش (inflammation) پیدا کرتے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں چونکہ مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے، اس لیے وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق متوازن غذا، وٹامن سی اور ڈی کا مناسب استعمال، صاف پانی، مناسب نیند اور ہاتھوں کی صفائی جیسے اقدامات مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیمار افراد سے فاصلہ رکھنا اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت علاج نہایت ضروری ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر کو سائنسی بنیادوں پر اپنایا جائے تو موسمی بیماریوں سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

فِٹ جسم، تیز اور جوان دماغ

فِٹ جسم، تیز اور جوان دماغ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر انسان کا جسم فِٹ رہے تو اس کا دماغ بھی زیادہ عرصے تک تیز، متحرک اور جوان رہتا ہے۔ اس تعلق کو باڈی برین کنکشن کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کو مضبوط بناتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ تک زیادہ آکسیجن اور غذائی توانائی پہنچتی ہے۔ اس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے، توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش، خاص طور پر تیز چہل قدمی، دوڑ اور سائیکل چلانا، دماغ میں ایسے مفید کیمیکلز پیدا کرتی ہے جو نئے دماغی خلیات بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس عمل کو نیورو جینیسس کہا جاتا ہے، جو دماغ کو جوان رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ورزش ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کو کم کرتی ہے جبکہ خوشی کا احساس دینے والے کیمیکلز میں اضافہ کرتی ہے۔ اس سے ڈپریشن اور بے چینی میں کمی آتی ہے اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فِٹ جسم اچھی نیند میں بھی مدد دیتا ہے۔ اچھی نیند دماغ کو تازہ کرتی ہے، جس سے یادداشت، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور سیکھنے کی طاقت بہتر ہوتی ہے۔ طویل عرصے تک باقاعدہ ورزش کرنے سے دماغی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ صرف 30 منٹ کی واک بھی دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ صحت مند جسم انسان کے موڈ اور حوصلے کو بہتر بناتا ہے، جس کے نتیجے میں دماغ زیادہ فعال اور چاق و چوبند رہتا ہے۔

خالی پیٹ پھل کھانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

خالی پیٹ پھل کھانا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ خالی پیٹ پھل کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق اس کا جواب ہر فرد کے ہاضمے پر منحصر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کا نظامِ ہاضمہ درست ہو تو خالی پیٹ پھل کھانا نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ بھی دے سکتا ہے۔ پھل جلد ہضم ہو جاتے ہیں، جسم کو پانی فراہم کرتے ہیں اور ہلکی پھلکی توانائی بھی دیتے ہیں، اس لیے انہیں دن کے کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق صحت مند ہاضمے والے افراد کے لیے صبح خالی پیٹ پھل کھانا دن کی شروعات کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔ اس سے توانائی ملتی ہے اور جسم میں پانی کی کمی بھی پوری ہوتی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ کچھ افراد جن کا معدہ حساس ہوتا ہے، انہیں خالی پیٹ پھل کھانے سے گیس، تیزابیت یا پیٹ میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد عام طور پر خالی پیٹ پھل کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق کچھ پھل، خاص طور پر ترش یا زیادہ ریشہ دار پھل، خالی پیٹ کھانے سے معدے میں جلن یا تکلیف پیدا کر سکتے ہیں۔ معدے کی حساسیت، سوزش یا اسہال کے مریضوں کو خالی پیٹ پھل کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق خالی پیٹ کھانے کے لیے نسبتاً محفوظ پھلوں میں پپیتا، تربوز، کیلا، سیب اور بیریز شامل ہیں، جبکہ سنگترہ، انناس، امرود اور ناشپاتی جیسے پھل احتیاط سے کھانے چاہییں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل کھانے کا کوئی ایک مقررہ وقت نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کے ردِعمل کو سمجھے۔ اگر خالی پیٹ پھل کھانے سے توانائی اور سکون محسوس ہو تو یہ فائدہ مند ہے، لیکن اگر معدے میں بے آرامی ہو تو بہتر ہے کہ پھل کھانے سے پہلے ہلکا ناشتہ کر لیا جائے۔

مکئی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

مکئی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

مکئی دنیا بھر میں ایک قدیم اور مقبول اناج ہے جو اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے بہت سے ممالک کی خوراک کا حصہ ہے۔ یہ فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق مکئی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، بلکہ صحیح مقدار اور مناسب طریقے سے استعمال کرنے پر یہ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔ ذیابیطس کے مریض مکئی کو مختلف طریقوں سے کھا سکتے ہیں، جیسے کہ گرل یا اُبال کر، سلاد یا ہلکی تلی ہوئی سبزیوں کے ساتھ، سوپ یا اسٹو میں پکاکر، یا سبزیوں کے ساتھ روسٹ کر کے۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں کا رس، ہلکی جڑی بوٹیاں یا مصالحے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پروسس شدہ یا میٹھے مکئی کے پکوان خون میں شکر کی سطح جلد بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔ فائبر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے مکئی چاول کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہے کیونکہ یہ دیرپا توانائی فراہم کرتا ہے اور گلیسیمک لوڈ بھی کم ہوتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریض مکئی کو اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے پہلے مقدار اور استعمال کے طریقے پر توجہ دیں اور معالج کی ہدایت کو ترجیح دیں

زیتون کا تیل: دل کی بیماری اور موٹاپے سے بچاؤ، ہڈیوں کے لیے بھی فائدہ مند

زیتون کا تیل: دل کی بیماری اور موٹاپے سے بچاؤ، ہڈیوں کے لیے بھی فائدہ مند

زیتون کا تیل انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور یہ واحد تیل ہے جو جسم میں چربی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق زیتون کا تیل استعمال کرنے والے افراد دل کی بیماریوں اور موٹاپے سے محفوظ رہتے ہیں۔ زیتون کا تیل نہ صرف دل کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد، سانس کی بیماریوں، کولیسٹرول کے مسائل، بلڈ پریشر، گردوں کے امراض اور فالج سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔ ہڈیوں کے لیے زیتون کا تیل خاص طور پر ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل ہڈیوں کی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کے قدرتی اجزاء ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں، ہڈیوں کے گھلنے کو روکتے ہیں اور آسٹیوپوروسس جیسے مرض کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں موجود پولی فینولز اور اولیک ایسڈ ہڈیوں کے خلیوں کی سرگرمی بڑھاتے ہیں اور نئی ہڈی بنانے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس ہڈیوں کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں اور ہڈیوں کے بکھرنے (Bone Resorption) کے عمل کو روکتے ہیں۔ مزید برآں، زیتون کے تیل میں موجود اولیوکینتھال سوزش کم کرنے والا ایک قدرتی مرکب ہے جو جوڑوں کے درد اور آسٹیوپوروسس میں فائدہ مند ہے۔ یہ آنتوں میں کیلشیم کے جذب کو بھی بہتر بناتا ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ میڈیٹرینین ڈائٹ، جس میں زیتون کا تیل اہم جزو ہوتا ہے، عمر رسیدہ افراد میں ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ ایک تحقیق میں روزانہ 50 ملی لیٹر ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل استعمال کرنے والے افراد کی ہڈیوں کی کثافت میں خاطر خواہ بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر وہ لوگ جو پہلے سے آسٹیوپوروسس کے شکار تھے۔

موسم سرما میں گُڑ کے فوائد اور احتیاطی تدابیر

موسم سرما میں گُڑ کے فوائد اور احتیاطی تدابیر

 گُڑ ایک قدرتی اور روایتی میٹھا ہے جو گنے کے رس سے تیار کیا جاتا ہے اور پاکستان میں صدیوں سے مٹھائیوں، کھیر، حلوے اور چائے میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ سردیوں میں گُڑ کا استعمال خاص طور پر بڑھ جاتا ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ جسم میں حرارت پیدا کرنے اور نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق گُڑ سفید چینی کے مقابلے میں کم پراسیس شدہ ہوتا ہے اور اس میں وٹامن بی ون، بی ٹو، بی سکس، وٹامن سی کے علاوہ آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم جیسے منرلز موجود ہوتے ہیں۔ 100 گرام گُڑ میں تقریباً 380 سے 390 کیلوریز پائی جاتی ہیں اور یہ توانائی فراہم کرنے کا اچھا ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گُڑ خون میں شوگر کی سطح کو چینی کے مقابلے میں آہستہ بڑھاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔ سردیوں میں محدود مقدار میں گُڑ کا استعمال جسم کو گرم رکھنے، قوتِ مدافعت بڑھانے، ہیموگلوبن کی سطح بہتر بنانے، ہاضمے کو سہارا دینے اور گلے کی خراش یا کھانسی میں آرام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زیادہ مقدار میں گُڑ کا استعمال وزن بڑھا سکتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کو اس میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ بعض افراد میں گُڑ الرجی یا معدے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہتر یہی ہے کہ چینی کی جگہ گُڑ کو محدود اور اعتدال سے استعمال کیا جائے تاکہ صحت کے فوائد حاصل ہو سکیں۔

بچوں کے دماغ کی نشوونما: ابتدائی عمر میں درست پرورش کیوں ضروری ہے؟

بچوں کے دماغ کی نشوونما: ابتدائی عمر میں درست پرورش کیوں ضروری ہے؟

بچوں کی ذہنی نشوونما ان کی زندگی کے مستقبل کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک کا عرصہ دماغی ترقی کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ تیزی سے سیکھنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق بچے کا دماغ ماحول، والدین کے رویّے، خوراک اور جذباتی توجہ سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیار، توجہ اور مثبت گفتگو بچے کے دماغی خلیات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ سخت رویہ اور ذہنی دباؤ بچے کی ذہنی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق بچوں کے ساتھ کہانیاں سنانا، سوال جواب کرنا، کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیاں ان کی یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ متوازن غذا، خاص طور پر دودھ، پھل، سبزیاں اور پروٹین دماغی نشوونما کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی بھی بچوں کے دماغ پر منفی اثر ڈالتی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سونے اور جاگنے کا ایک باقاعدہ نظام بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور اسکرین ٹائم کو محدود رکھنا بھی ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر بچوں کی ابتدائی عمر میں ذہنی، جذباتی اور تعلیمی ضروریات کا خیال رکھا جائے تو وہ نہ صرف بہتر سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ایک متوازن اور پُراعتماد شخصیت کے حامل بنتے ہیں۔

بنا جم اور سخت ڈائٹنگ: وزن کم کرنے کا اسمارٹ اور سائنسی طریقہ

بنا جم اور سخت ڈائٹنگ: وزن کم کرنے کا اسمارٹ اور سائنسی طریقہ

اکثر لوگ وزن کم کرنے کا نام سنتے ہی پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں سخت ورزشیں اور بھوکا رہنا آتا ہے۔ لیکن جدید میڈیکل سائنس اب "اسمارٹ ویٹ لاس" پر یقین رکھتی ہے۔ آپ اپنی پسند کا کھانا کھاتے ہوئے بھی خود کو فٹ کر سکتے ہیں، بس آپ کو اپنا انداز بدلنا ہوگا۔ ذیل میں وہ جدید فارمولا ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتا ہے: 1. پلیٹ کو ترتیب دیں: 80/20 کا جادوئی تناسب آپ کو اپنی پسندیدہ بریانی یا روٹی چھوڑنے کی ضرورت نہیں، بس اس کی مقدار کو بیلنس کرنا سیکھیں۔ اپنی پلیٹ کے 80 فیصد حصے کو پروٹین (جیسے گوشت، انڈے، مچھلی) اور تازہ سبزیوں سے بھریں، جبکہ باقی 20 فیصد میں اپنی پسند کی کاربوہائیڈریٹ (روٹی، چاول یا میٹھا) رکھیں۔     فائدہ: اس سے آپ کا معدہ دیر تک بھرا محسوس کرے گا اور خون میں شوگر لیول متوازن رہے گا، جس سے چربی بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ 2. سورج کے ساتھ اپنا کھانا جوڑیں (Circadian Fasting) سخت روزوں کے بجائے ایک سادہ اصول اپنائیں: "سورج غروب، کھانا بند"۔ رات سات بجے تک اپنا آخری کھانا کھا لیں اور پھر اگلے دن صبح آٹھ بجے ناشتہ کریں۔  سائنس: یہ 12 سے 14 گھنٹے کا وقفہ آپ کے جسم کو "سیلف کلیننگ" موڈ پر لے جاتا ہے جہاں وہ توانائی کے لیے اسٹور شدہ چربی کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔ 3. میٹابولک واک: کم وقت، زیادہ فائدہ جم میں گھنٹوں دوڑنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ دو تبدیلیاں لائیں:     پوسٹ میل واک: ہر بار کھانے کے بعد صرف 10 منٹ کی چہل قدمی کریں۔ یہ خون میں موجود گلوکوز کو فوری استعمال کر لیتی ہے اور اسے پیٹ کی چربی بننے سے روکتی ہے۔  حرکت میں برکت (NEAT): سستی چھوڑیں! فون پر بات کرتے ہوئے چلیں، لفٹ کے بجائے سیڑھیاں چڑھیں اور گھر کے چھوٹے موٹے کام خود کریں۔ یہ "غیر محسوس ورزش" جم کی تھکا دینے والی ٹریننگ سے زیادہ کارگر ہے۔ 4. وزن گھٹانے والا قدرتی ٹانک (ACV) سیب کا سرکہ (Apple Cider Vinegar) وزن کم کرنے کی دوڑ میں ایک بہترین ساتھی ہے۔  طریقہ استعمال: ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ سرکہ ملا کر دن میں ایک بار (ناشتے سے پہلے یا دوپہر کے کھانے سے پہلے) پی لیں۔ یہ آپ کے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا کر ضدی چربی پگھلاتا ہے۔ حرفِ آخر وزن کم کرنا کوئی سزا نہیں بلکہ خود سے محبت کا نام ہے۔ جب آپ کافی نیند لیتے ہیں، پانی کا استعمال بڑھاتے ہیں اور ان سادہ اصولوں پر عمل کرتے ہیں، تو آپ کا جسم خود بخود فٹنس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں، چھوٹی تبدیلیاں ہی بڑے نتائج لاتی ہیں

مٹی میں کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے بہترین ہے

مٹی میں کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے بہترین ہے

حالیہ طبی تحقیقات نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ جو بچے مٹی، مٹیالے میدانوں اور فطرت کے قریب کھیلتے ہیں، وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو ہر وقت جراثیم سے پاک (Sanitized) ماحول میں بند رہتے ہیں۔ اس خبر کے اہم اور معلوماتی پہلو:     مضبوط مدافعتی نظام: مٹی میں موجود قدرتی اور بے ضرر جراثیم جب بچے کے جسم کے رابطے میں آتے ہیں، تو اس کا مدافعت کا نظام (Immune System) تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ یہ نظام مستقبل میں الرجی، دمہ (Asthma) اور پیٹ کی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے قابل بن جاتا ہے۔     ذہنی تناؤ میں کمی: ماہرین کے مطابق مٹی میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا (Mycobacterium vaccae) پایا جاتا ہے جو انسانی دماغ میں 'سیروٹونن' (خوشی کا ہارمون) پیدا کرتا ہے، جس سے بچوں کا موڈ خوشگوار رہتا ہے اور ان کی بے چینی کم ہوتی ہے۔     سیکھنے کی صلاحیت: فطرت کے قریب کھیلنے سے بچوں کے مشاہدے کی طاقت بڑھتی ہے۔ کیڑے مکوڑے، پودے اور مٹی کی مختلف ساختیں ان کے تجسس کو ابھارتی ہیں۔ والدین کے لیے پیغام: والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بالکل صاف ستھرا رکھنے کی دھن میں انہیں باہر کی دنیا سے دور نہ کریں۔ ہفتے میں چند بار انہیں پارک یا کسی ایسی جگہ ضرور لے جائیں جہاں وہ مٹی اور گھاس سے کھیل سکیں۔ ایک اور مختصر مگر اہم خبر: "بچوں کی نیند اور قد کا تعلق" جدید تحقیق کے مطابق بچوں کے قد بڑھنے والے ہارمونز (Growth Hormones) سب سے زیادہ اس وقت خارج ہوتے ہیں جب بچہ رات کی گہری نیند میں ہوتا ہے۔ اگر بچہ رات دیر تک جاگتا ہے، تو اس کی جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انگور: سبز یا سیاہ، کون سا زیادہ مفید ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

انگور: سبز یا سیاہ، کون سا زیادہ مفید ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

انگور اپنی غذائیت اور ذائقے کی وجہ سے سب کی پسندیدہ پھلوں میں شامل ہے۔ اس وقت انگور کا موسم عروج پر ہے اور بازار میں مختلف رنگوں اور اقسام کے انگور دستیاب ہیں، جن میں سبز، سرخ اور سیاہ انگور شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سبز اور سیاہ انگور دونوں صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن سیاہ انگور میں اینٹی آکسیڈنٹس، آئرن اور وٹامنز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دل، دماغ اور جلد کے لیے خاص طور پر مفید ہیں۔ سبز انگور میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جو نظامِ ہاضمہ کے لیے بہتر ہے۔ دونوں اقسام دل کی صحت بہتر بنانے، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے اور خون کی کمی دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ایک کپ سیاہ انگور میں تقریباً 104 گرام کیلوریز، 27.3 گرام کاربوہائیڈریٹ اور 1.1 گرام پروٹین ہوتا ہے، جبکہ اس میں وٹامن سی، وٹامن کے، تھائیامن، رائبوفلاون، وٹامن بی سکس، پوٹاشیم، کاپر اور میگنیز کی بھی معقول مقدار موجود ہوتی ہے۔ سیاہ انگور میں ریسویراٹرول اور فلیوونائڈز جیسے اینٹی آکسیڈنٹس بھی زیادہ ہوتے ہیں، جو جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں اور مختلف امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سیاہ انگور جگر کو زہریلے مادوں سے پاک کرنے اور جگر کے فعل کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہیں، جس سے جسم کی مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔ انگور کھاتے وقت احتیاط ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں، تو انگور زیادہ مقدار میں کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ گردے کے مسائل والے افراد کے لیے بھی زیادہ انگور نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انگور کی زیادہ مقدار سردرد، متلی اور قے کا سبب بن سکتی ہے۔ انگور کے زیادہ فوائد کے لیے سفید انگور کی بجائے سرخ یا سیاہ انگور کھانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران 3 ہزار والدین کا قطرے پلانے سے انکار

بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران 3 ہزار والدین کا قطرے پلانے سے انکار

بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد سامنے آ گئی ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے حکام کے مطابق صوبے بھر میں پولیو کے خلاف مہم 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہی۔ ای او سی حکام کا کہنا ہے کہ سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران 99 فیصد ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود صوبے کے مختلف اضلاع میں 3 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ حکام کے مطابق انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے آگاہی اور فالو اپ سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ ہر بچے کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

ایک سفید بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جاتے ہیں؟ سائنسی حقیقت کیا ہے

ایک سفید بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جاتے ہیں؟ سائنسی حقیقت کیا ہے

بالوں میں سفیدی کو عموماً بڑھتی عمر کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن آج کل کم عمر افراد میں بھی سفید بال عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی، فضائی آلودگی اور جینیاتی مسائل شامل ہیں۔ ایسے میں جب سر پر پہلا سفید بال نظر آتا ہے تو اکثر لوگ گھبرا کر اسے توڑ دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں اس سے مزید بال سفید نہ ہو جائیں۔ ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر شیوانگی رانا کے مطابق یہ بات محض ایک غلط فہمی ہے کہ ایک سفید بال توڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سر کے ہر بال کا فولیکل الگ ہوتا ہے، اس لیے ایک بال نکالنے سے دوسرے بالوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم بار بار بال توڑنے کی عادت نقصان دہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے بالوں کی جڑ کمزور ہو جاتی ہے اور اس جگہ بال پتلے ہو سکتے ہیں یا اُگنا بند بھی ہو سکتے ہیں۔ بالوں کا قدرتی رنگ میلانین نامی مادے سے بنتا ہے، جو خاص خلیات تیار کرتے ہیں۔ عمر بڑھنے یا طرزِ زندگی کے منفی اثرات کی وجہ سے جب یہ خلیات کمزور ہو جاتے ہیں تو میلانین بننا کم ہو جاتا ہے اور بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک بار بال سفید ہو جائے تو وہ دوبارہ قدرتی طور پر سیاہ نہیں ہو سکتا، البتہ اچھی عادات اپنا کر مزید بالوں کے سفید ہونے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ سفید بالوں سے بچاؤ کے لیے اچھی نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور ڈاکٹر کے مشورے سے ضروری وٹامنز کا استعمال کیا جائے۔ مختصر یہ کہ ایک سفید بال توڑنے سے مزید بال سفید نہیں ہوتے، اصل مسئلہ ہماری عمر اور طرزِ زندگی ہے، جس پر توجہ دینا سب سے زیادہ ضروری ہے۔

موسمِ سرما میں جلد کی خشکی سے بچاؤ: آسان اور مؤثر گھریلو طریقے

موسمِ سرما میں جلد کی خشکی سے بچاؤ: آسان اور مؤثر گھریلو طریقے

موسمِ سرما خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ جلد کے لیے کئی مسائل بھی لے آتا ہے۔ ٹھنڈی اور خشک ہوا جلد کی قدرتی نمی کو کم کر دیتی ہے، جس سے جلد خشک، کھردری اور بے رونق نظر آنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے سردیوں میں جلد کی مناسب دیکھ بھال نہایت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ جلد صحت مند اور تروتازہ رہے۔ ماہرین کے مطابق سرد موسم میں جلد کی صفائی نرمی سے کرنا بہت اہم ہے۔ ایسے فیس واش یا کلینزر کا استعمال بہتر رہتا ہے جو جلد کے قدرتی تیل کو محفوظ رکھے۔ سخت صابن یا کیمیکل والے کلینزر جلد کو مزید خشک کر سکتے ہیں، اس لیے ہلکے اور ہائیڈریٹنگ کلینزر زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ جلد کی خشکی سے بچنے کے لیے موئسچرائزر کا باقاعدہ استعمال لازمی ہے۔ ایسا موئسچرائزر منتخب کریں جو جلد میں نمی کو برقرار رکھے اور اسے نرم و ملائم بنائے۔ نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے کیونکہ اس وقت جلد نمی کو بہتر طریقے سے جذب کرتی ہے۔ سردیوں میں جلد کی تازگی بحال رکھنے کے لیے سیرم کا استعمال بھی مفید ہے۔ ہلکا اور پانی پر مبنی سیرم جلد کو اندر سے غذائیت فراہم کرتا ہے اور خشکی کے اثرات کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہفتے میں ایک یا دو بار ہلکی ایکسفولیئشن کرنے سے مردہ جلد صاف ہو جاتی ہے اور چہرہ نکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر لوگ سردیوں میں سن اسکرین کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ دھوپ کی نقصان دہ شعاعیں اس موسم میں بھی جلد کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے باہر نکلتے وقت سن اسکرین لگانا نہ بھولیں۔ مختصر یہ کہ صفائی، نمی، مناسب دیکھ بھال اور احتیاط سے سردیوں میں جلد کو خشکی سے بچا کر صحت مند اور چمکدار رکھا جا سکتا ہے۔

مہاسے کیوں ہوتے ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ ماہرین کی وضاحت

مہاسے کیوں ہوتے ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ ماہرین کی وضاحت

مہاسے ایک عام جلدی مسئلہ ہیں جو زیادہ تر نوجوانوں میں نظر آتا ہے، لیکن بعض اوقات بڑوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام خیال ہے کہ چکنی یا زیادہ تیل والی غذائیں جیسے برگر اور پیزا مہاسوں کی وجہ بنتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ بالکل درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق مہاسوں کی سب سے بڑی وجہ جسم میں اینڈروجن ہارمون کا بڑھ جانا ہے۔ یہ ہارمون بلوغت کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں بڑھتا ہے، جس سے جلد میں تیل (سیبم) زیادہ بننے لگتا ہے۔ جب یہ تیل مردہ جلد کے خلیات کے ساتھ مل جاتا ہے تو مسام بند ہو جاتے ہیں، اور اس ماحول میں بیکٹیریا بڑھ کر دانے یا مہاسے پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہارمونی تبدیلیاں جیسے پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) یا بعض مانع حمل ادویات بھی مہاسوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور ماحولیاتی عوامل بھی جلد کی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیادہ میٹھی اشیاء اور سادہ کاربوہائیڈریٹس مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ مہاسوں کو کنٹرول کرنے کے آسان طریقے: صفائی کا خیال رکھیں: جلد کو دن میں دو بار ہلکے کلینزر سے صاف کریں تاکہ مسام بند نہ ہوں۔ موئسچرائزر استعمال کریں: ہلکا، پانی پر مبنی موئسچرائزر جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے اور تیل کے توازن میں مدد دیتا ہے۔ متوازن غذا: سبزیاں، پھل، پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور غذا مہاسوں کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ اسٹریس کم کریں: ذہنی دباؤ جلد پر برا اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے مراقبہ، ورزش یا ہلکی سرگرمیاں فائدہ مند ہیں۔ ہارمونی مسائل کا علاج: اگر مہاسے مسلسل رہیں تو ماہرِ جلد سے رجوع کریں تاکہ ہارمونی یا دیگر طبی مسائل کا علاج کیا جا سکے۔ زیادہ میٹھی اور تیز غذا سے پرہیز: ریفائنڈ شوگر اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والے کھانے مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مہاسے صرف چکنی غذا کی وجہ سے نہیں بلکہ ہارمونز، جینیات اور طرزِ زندگی کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ مناسب صفائی، متوازن غذا، ذہنی سکون اور طبی رہنمائی کے ذریعے انہیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ہر نمک صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، ماہرین نے بتایا کون سا نمک بہتر ہے

ہر نمک صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، ماہرین نے بتایا کون سا نمک بہتر ہے

روزانہ کے کھانوں میں استعمال ہونے والا نمک صرف ذائقہ بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے، لیکن تمام نمک یکساں نہیں ہوتے۔ ماہرین کے مطابق مختلف نمکوں کے فوائد اور نقصانات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے درست انتخاب بہت ضروری ہے۔ ٹیبل نمک: عام ٹیبل نمک سب سے زیادہ پروسیس شدہ ہوتا ہے۔ اس میں آیوڈین شامل ہوتی ہے جو تھائرائیڈ کے لیے ضروری ہے، لیکن اس میں قدرتی معدنیات کم ہوتی ہیں اور بعض کیمیائی اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ہمالیائی گلابی نمک: یہ نمک قدرتی معدنیات جیسے کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم پر مشتمل ہوتا ہے اور ذائقے میں بھی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں آیوڈین موجود نہیں ہوتی، اس لیے اسے واحد نمک کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کالا نمک: ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے اور چٹپٹے کھانوں میں ذائقہ بڑھاتا ہے، تاہم اس کی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے اسے محدود مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ سمندری نمک: قدرتی معدنیات برقرار رکھتا ہے، لیکن بعض غیر معیاری اقسام میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین معیاری اور مستند برانڈز کے نمک استعمال کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ نمک کے استعمال کا اصول: ماہرین صحت کہتے ہیں کہ روزانہ نمک کی مقدار 5 گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ زیادہ نمک کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے نمک کا محتاط اور متوازن استعمال ضروری ہے، اور ہر قسم کے نمک کے فوائد اور نقصانات کو جان کر انتخاب کرنا چاہیے۔

چاول یا روٹی: صحت کے لیے کون سی غذا بہتر؟

چاول یا روٹی: صحت کے لیے کون سی غذا بہتر؟

پاکستان سمیت برصغیر میں چاول اور روٹی صدیوں سے بنیادی خوراک کا حصہ رہے ہیں، لیکن آج کے دور میں صحت کے بڑھتے مسائل کے باعث یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ آخر چاول بہتر ہیں یا روٹی۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں کاربوہائیڈریٹس کا اہم ذریعہ ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کے اثرات انسان کی عمر، طرزِ زندگی اور صحت کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ روٹی، خاص طور پر آٹے یا چکی کی روٹی، فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے روٹی نسبتاً بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس چاول، خصوصاً سفید چاول، جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے محنت مزدوری یا زیادہ جسمانی کام کرنے والے افراد انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چاول براؤن رائس کی صورت میں استعمال کیے جائیں تو یہ بھی فائبر اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر روٹی کو مناسب مقدار میں سبزی، دال یا سالن کے ساتھ کھایا جائے تو یہ ایک متوازن غذا بن جاتی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی ایک غذا کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ دونوں کا استعمال صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ آخر میں ماہرینِ صحت یہی مشورہ دیتے ہیں کہ چاول یا روٹی کا انتخاب ذاتی صحت، روزمرہ سرگرمیوں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اچھی صحت کی ضمانت ہے۔

دن بھر نیند کی طلب: کیا آپ بھی رات کی نیند کے بعد تھکے تھکے رہتے ہیں؟

دن بھر نیند کی طلب: کیا آپ بھی رات کی نیند کے بعد تھکے تھکے رہتے ہیں؟

کیا آپ کو رات بھر گہری نیند لینے کے باوجود دن بھر نیند محسوس ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ ممکنہ طور پر ایک نایاب نیند کے مسئلے ایڈیو پیتھک ہائپرسومنیا (Idiopathic Hypersomnia, IH) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے میں مبتلا افراد کو معمول سے کہیں زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنی نیند لینے کے باوجود بھی وہ تازگی محسوس نہیں کرتے اور دن بھر الجھن یا تھکن کا شکار رہتے ہیں۔ برطانیہ کی خیراتی تنظیم Hyper Somnolence UK کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً 25 ہزار افراد میں سے ایک سے بھی کم فرد اس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ اکثر افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس نایاب مسئلے کا شکار ہیں کیونکہ متعدد کیسز میں تشخیص نہیں ہوتی۔ ماضی کے مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیفیت مرگی یا بائی پولر ڈس آرڈر جیسی عام بیماریوں کے ساتھ مشابہت رکھ سکتی ہے۔ فی الحال اس مسئلے کے اسباب مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اعصابی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، اس وقت اس کا کوئی مستقل علاج دستیاب نہیں ہے۔ یہ مسئلہ نایاب ہونے کے باوجود متاثرین کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے نیند کی مقدار کے باوجود توانائی اور توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز کا درست استعمال کیسے کریں؟

وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز کا درست استعمال کیسے کریں؟

چیا سیڈز، جیسے عام طور پر تخمِ شربتی کہا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں وزن کم کرنے والوں میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ کوئی انہیں صبح نہار منہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتا ہے تو کوئی دودھ میں ملا کر مکمل ناشتہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اکثر افراد اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز پانی میں بہتر ہیں یا دودھ میں؟  ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں طریقے فائدہ مند ہیں، مگر ان کا اثر جسم کی ضروریات، ہاضمے اور روزمرہ روٹین کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چیا سیڈز کو اکثر  تخمِ بالنگا  سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں بیج دیکھنے میں ملتے جلتے ہونے کے باوجود غذائی افادیت اور اثرات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق چیا سیڈز فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو وزن کم کرنے کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں، آنتوں کی صفائی میں معاون ہوتے ہیں اور پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلا کر غیر ضروری کھانے سے بچاتے ہیں۔ چیا سیڈز پانی میں بھیگنے کے بعد جیل جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور پیٹ کے پھولنے کی شکایت میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح ان میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس جلد اور بالوں کی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ چیا سیڈز کو پانی میں استعمال کرنے کا طریقہ ان افراد میں زیادہ مقبول ہے جو دن کی شروعات ہلکی اور کم کیلوری خوراک سے کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چیا واٹر جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بھوک کم محسوس ہوتی ہے اور بار بار کھانے کی عادت میں کمی آتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ مشروب خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ کھانے سے کچھ دیر پہلے اس کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری جانب چیا سیڈز کو دودھ میں بھگو کر استعمال کرنے سے یہ پُڈنگ جیسی ساخت اختیار کر لیتے ہیں، جو نہ صرف ذائقے میں بہتر ہوتی ہے بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتی ہے۔ دودھ میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامن بی 12 جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث یہ ناشتہ یا شام کے صحت مند اسنیک کے طور پر بہترین انتخاب مانا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والے افراد فل فیٹ دودھ کے بجائے کم چکنائی والا دودھ استعمال کریں تاکہ اضافی کیلوریز سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق چیا واٹر ان افراد کے لیے بہتر ہے جو کم کیلوری غذا، ہلکا آغاز اور ہائیڈریشن چاہتے ہیں، جبکہ چیا دودھ ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور توانائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں۔ یوں وزن میں کمی کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے، اس کا انحصار فرد کے طرزِ زندگی اور جسمانی ضروریات پر ہوتا ہے۔ غذائی ماہرین روزانہ 1 سے 2 کھانے کے چمچ (تقریباً 15 سے 30 گرام) چیا سیڈز استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ابتدا میں کم مقدار سے آغاز کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ جسم فائبر کا عادی ہو سکے۔ ماہرین صحت اس بات پر بھی خبردار کرتے ہیں کہ چیا سیڈز کو کبھی بھی خشک حالت میں نہیں کھانا چاہیے۔ یہ بیج اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ پانی جذب کر لیتے ہیں، اور اگر انہیں بغیر بھگوئے استعمال کیا جائے تو یہ غذائی نالی میں پھول کر مسائل پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو نگلنے میں دشواری محسوس کرتے ہوں۔

انڈا یا دودھ: پروٹین حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ؟

انڈا یا دودھ: پروٹین حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ؟

پروٹین صحت مند جسم کے لیے نہایت ضروری غذائی جزو ہے، جو پٹھوں کی مضبوطی، جسمانی نشوونما اور توانائی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں عام طور پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انڈا بہتر ہے یا دودھ۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں اپنی جگہ مفید ہیں، تاہم ان کے فوائد مختلف ہیں۔ انڈا کو مکمل پروٹین کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔ ایک درمیانے سائز کے انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو پٹھوں کی تعمیر اور طاقت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ورزش کرنے والے افراد، نوجوانوں اور طلبہ کے لیے انڈا خاص طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ یہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس بھی دیتا ہے۔ دوسری جانب دودھ نہ صرف پروٹین بلکہ کیلشیم، وٹامنز اور معدنیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ ایک گلاس دودھ میں تقریباً 8 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ بچوں، خواتین اور بزرگ افراد کے لیے روزمرہ استعمال میں زیادہ موزوں ہے کیونکہ یہ مجموعی غذائیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر مقصد صرف پروٹین حاصل کرنا ہو تو انڈا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مجموعی صحت، ہڈیوں کی مضبوطی اور غذائیت کے لیے دودھ بہتر انتخاب ہے۔ دونوں غذاؤں کو اعتدال کے ساتھ روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ہی صحت مند زندگی کی اصل کنجی ہے۔

 سردیوں میں پرانی چوٹیں زیادہ کیوں درد کرنے لگتی ہیں؟ ماہرینِ صحت نے سائنسی وجوہات

 سردیوں میں پرانی چوٹیں زیادہ کیوں درد کرنے لگتی ہیں؟ ماہرینِ صحت نے سائنسی وجوہات

سردیوں کا موسم آتے ہی بہت سے افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پرانی یا حتیٰ کہ معمولی چوٹیں بھی شدید درد کا باعث بننے لگتی ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ کیفیت محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے متعدد  طبی اور موسمی عوامل  کارفرما ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں جسم کی خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے زخمی حصے تک خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ خون کی روانی میں کمی کے باعث پٹھوں اور جوڑوں میں سختی پیدا ہو جاتی ہے، جو درد کو بڑھا دیتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو فریکچر، موچ یا جوڑوں کی تکلیف کا شکار رہ چکے ہوں۔ ماہرین کے مطابق سردیوں میں جسم کی مجموعی لچک کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے پٹھے جلد کھنچاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوا کے دباؤ اور نمی میں تبدیلی بھی جوڑوں اور پرانی چوٹوں میں درد اور سوجن کو بڑھا سکتی ہے۔ طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سرد موسم میں جسم کم متحرک ہو جاتا ہے، جس سے متاثرہ حصے کے اردگرد کے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں اور درد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں زخمی حصے کو گرم رکھا جائے، ہلکی پھلکی ورزش اور اسٹریچنگ کو معمول بنایا جائے اور اچانک ٹھنڈ کے اثر سے بچاؤ کیا جائے۔ اگر درد مسلسل بڑھتا جائے یا سوجن میں اضافہ ہو تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط اور درست طرزِ زندگی اپنا کر سردیوں میں چوٹوں کے درد کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔