موسمِ سرما خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ جلد کے لیے کئی مسائل بھی لے آتا ہے۔ ٹھنڈی اور خشک ہوا جلد کی قدرتی نمی کو کم کر دیتی ہے، جس سے جلد خشک، کھردری اور بے رونق نظر آنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے سردیوں میں جلد کی مناسب دیکھ بھال نہایت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ جلد صحت مند اور تروتازہ رہے۔
ماہرین کے مطابق سرد موسم میں جلد کی صفائی نرمی سے کرنا بہت اہم ہے۔ ایسے فیس واش یا کلینزر کا استعمال بہتر رہتا ہے جو جلد کے قدرتی تیل کو محفوظ رکھے۔ سخت صابن یا کیمیکل والے کلینزر جلد کو مزید خشک کر سکتے ہیں، اس لیے ہلکے اور ہائیڈریٹنگ کلینزر زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
جلد کی خشکی سے بچنے کے لیے موئسچرائزر کا باقاعدہ استعمال لازمی ہے۔ ایسا موئسچرائزر منتخب کریں جو جلد میں نمی کو برقرار رکھے اور اسے نرم و ملائم بنائے۔ نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے کیونکہ اس وقت جلد نمی کو بہتر طریقے سے جذب کرتی ہے۔
سردیوں میں جلد کی تازگی بحال رکھنے کے لیے سیرم کا استعمال بھی مفید ہے۔ ہلکا اور پانی پر مبنی سیرم جلد کو اندر سے غذائیت فراہم کرتا ہے اور خشکی کے اثرات کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہفتے میں ایک یا دو بار ہلکی ایکسفولیئشن کرنے سے مردہ جلد صاف ہو جاتی ہے اور چہرہ نکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اکثر لوگ سردیوں میں سن اسکرین کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ دھوپ کی نقصان دہ شعاعیں اس موسم میں بھی جلد کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے باہر نکلتے وقت سن اسکرین لگانا نہ بھولیں۔ مختصر یہ کہ صفائی، نمی، مناسب دیکھ بھال اور احتیاط سے سردیوں میں جلد کو خشکی سے بچا کر صحت مند اور چمکدار رکھا جا سکتا ہے۔
مہاسے ایک عام جلدی مسئلہ ہیں جو زیادہ تر نوجوانوں میں نظر آتا ہے، لیکن بعض اوقات بڑوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام خیال ہے کہ چکنی یا زیادہ تیل والی غذائیں جیسے برگر اور پیزا مہاسوں کی وجہ بنتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ بالکل درست نہیں۔
ماہرین کے مطابق مہاسوں کی سب سے بڑی وجہ جسم میں اینڈروجن ہارمون کا بڑھ جانا ہے۔ یہ ہارمون بلوغت کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں بڑھتا ہے، جس سے جلد میں تیل (سیبم) زیادہ بننے لگتا ہے۔ جب یہ تیل مردہ جلد کے خلیات کے ساتھ مل جاتا ہے تو مسام بند ہو جاتے ہیں، اور اس ماحول میں بیکٹیریا بڑھ کر دانے یا مہاسے پیدا کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ہارمونی تبدیلیاں جیسے پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) یا بعض مانع حمل ادویات بھی مہاسوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور ماحولیاتی عوامل بھی جلد کی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیادہ میٹھی اشیاء اور سادہ کاربوہائیڈریٹس مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔
مہاسوں کو کنٹرول کرنے کے آسان طریقے:
صفائی کا خیال رکھیں: جلد کو دن میں دو بار ہلکے کلینزر سے صاف کریں تاکہ مسام بند نہ ہوں۔
موئسچرائزر استعمال کریں: ہلکا، پانی پر مبنی موئسچرائزر جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے اور تیل کے توازن میں مدد دیتا ہے۔
متوازن غذا: سبزیاں، پھل، پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور غذا مہاسوں کو کم کرنے میں مددگار ہے۔
اسٹریس کم کریں: ذہنی دباؤ جلد پر برا اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے مراقبہ، ورزش یا ہلکی سرگرمیاں فائدہ مند ہیں۔
ہارمونی مسائل کا علاج: اگر مہاسے مسلسل رہیں تو ماہرِ جلد سے رجوع کریں تاکہ ہارمونی یا دیگر طبی مسائل کا علاج کیا جا سکے۔
زیادہ میٹھی اور تیز غذا سے پرہیز: ریفائنڈ شوگر اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والے کھانے مہاسوں کو بڑھا سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ مہاسے صرف چکنی غذا کی وجہ سے نہیں بلکہ ہارمونز، جینیات اور طرزِ زندگی کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ مناسب صفائی، متوازن غذا، ذہنی سکون اور طبی رہنمائی کے ذریعے انہیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ کے کھانوں میں استعمال ہونے والا نمک صرف ذائقہ بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے، لیکن تمام نمک یکساں نہیں ہوتے۔ ماہرین کے مطابق مختلف نمکوں کے فوائد اور نقصانات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے درست انتخاب بہت ضروری ہے۔
ٹیبل نمک: عام ٹیبل نمک سب سے زیادہ پروسیس شدہ ہوتا ہے۔ اس میں آیوڈین شامل ہوتی ہے جو تھائرائیڈ کے لیے ضروری ہے، لیکن اس میں قدرتی معدنیات کم ہوتی ہیں اور بعض کیمیائی اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ہمالیائی گلابی نمک: یہ نمک قدرتی معدنیات جیسے کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم پر مشتمل ہوتا ہے اور ذائقے میں بھی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں آیوڈین موجود نہیں ہوتی، اس لیے اسے واحد نمک کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
کالا نمک: ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے اور چٹپٹے کھانوں میں ذائقہ بڑھاتا ہے، تاہم اس کی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے اسے محدود مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔
سمندری نمک: قدرتی معدنیات برقرار رکھتا ہے، لیکن بعض غیر معیاری اقسام میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین معیاری اور مستند برانڈز کے نمک استعمال کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔
نمک کے استعمال کا اصول: ماہرین صحت کہتے ہیں کہ روزانہ نمک کی مقدار 5 گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ زیادہ نمک کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے نمک کا محتاط اور متوازن استعمال ضروری ہے، اور ہر قسم کے نمک کے فوائد اور نقصانات کو جان کر انتخاب کرنا چاہیے۔
پاکستان سمیت برصغیر میں چاول اور روٹی صدیوں سے بنیادی خوراک کا حصہ رہے ہیں، لیکن آج کے دور میں صحت کے بڑھتے مسائل کے باعث یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ آخر چاول بہتر ہیں یا روٹی۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں کاربوہائیڈریٹس کا اہم ذریعہ ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کے اثرات انسان کی عمر، طرزِ زندگی اور صحت کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
روٹی، خاص طور پر آٹے یا چکی کی روٹی، فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے روٹی نسبتاً بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس چاول، خصوصاً سفید چاول، جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے محنت مزدوری یا زیادہ جسمانی کام کرنے والے افراد انہیں ترجیح دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چاول براؤن رائس کی صورت میں استعمال کیے جائیں تو یہ بھی فائبر اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر روٹی کو مناسب مقدار میں سبزی، دال یا سالن کے ساتھ کھایا جائے تو یہ ایک متوازن غذا بن جاتی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی ایک غذا کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اعتدال کے ساتھ دونوں کا استعمال صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔
آخر میں ماہرینِ صحت یہی مشورہ دیتے ہیں کہ چاول یا روٹی کا انتخاب ذاتی صحت، روزمرہ سرگرمیوں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہونا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اچھی صحت کی ضمانت ہے۔
کیا آپ کو رات بھر گہری نیند لینے کے باوجود دن بھر نیند محسوس ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ ممکنہ طور پر ایک نایاب نیند کے مسئلے ایڈیو پیتھک ہائپرسومنیا (Idiopathic Hypersomnia, IH) کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے میں مبتلا افراد کو معمول سے کہیں زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنی نیند لینے کے باوجود بھی وہ تازگی محسوس نہیں کرتے اور دن بھر الجھن یا تھکن کا شکار رہتے ہیں۔
برطانیہ کی خیراتی تنظیم Hyper Somnolence UK کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً 25 ہزار افراد میں سے ایک سے بھی کم فرد اس کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ اکثر افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس نایاب مسئلے کا شکار ہیں کیونکہ متعدد کیسز میں تشخیص نہیں ہوتی۔
ماضی کے مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیفیت مرگی یا بائی پولر ڈس آرڈر جیسی عام بیماریوں کے ساتھ مشابہت رکھ سکتی ہے۔ فی الحال اس مسئلے کے اسباب مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اعصابی نظام سے متعلق ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، اس وقت اس کا کوئی مستقل علاج دستیاب نہیں ہے۔
یہ مسئلہ نایاب ہونے کے باوجود متاثرین کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے نیند کی مقدار کے باوجود توانائی اور توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
چیا سیڈز، جیسے عام طور پر تخمِ شربتی کہا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں وزن کم کرنے والوں میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ کوئی انہیں صبح نہار منہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتا ہے تو کوئی دودھ میں ملا کر مکمل ناشتہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اکثر افراد اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ وزن میں کمی کے لیے چیا سیڈز پانی میں بہتر ہیں یا دودھ میں؟ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں طریقے فائدہ مند ہیں، مگر ان کا اثر جسم کی ضروریات، ہاضمے اور روزمرہ روٹین کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چیا سیڈز کو اکثر تخمِ بالنگا سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں بیج دیکھنے میں ملتے جلتے ہونے کے باوجود غذائی افادیت اور اثرات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق چیا سیڈز فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو وزن کم کرنے کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں، آنتوں کی صفائی میں معاون ہوتے ہیں اور پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلا کر غیر ضروری کھانے سے بچاتے ہیں۔
چیا سیڈز پانی میں بھیگنے کے بعد جیل جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور پیٹ کے پھولنے کی شکایت میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح ان میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس جلد اور بالوں کی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
چیا سیڈز کو پانی میں استعمال کرنے کا طریقہ ان افراد میں زیادہ مقبول ہے جو دن کی شروعات ہلکی اور کم کیلوری خوراک سے کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چیا واٹر جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بھوک کم محسوس ہوتی ہے اور بار بار کھانے کی عادت میں کمی آتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ مشروب خاص طور پر مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ کھانے سے کچھ دیر پہلے اس کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
دوسری جانب چیا سیڈز کو دودھ میں بھگو کر استعمال کرنے سے یہ پُڈنگ جیسی ساخت اختیار کر لیتے ہیں، جو نہ صرف ذائقے میں بہتر ہوتی ہے بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتی ہے۔ دودھ میں موجود پروٹین، کیلشیم اور وٹامن بی 12 جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث یہ ناشتہ یا شام کے صحت مند اسنیک کے طور پر بہترین انتخاب مانا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والے افراد فل فیٹ دودھ کے بجائے کم چکنائی والا دودھ استعمال کریں تاکہ اضافی کیلوریز سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چیا واٹر ان افراد کے لیے بہتر ہے جو کم کیلوری غذا، ہلکا آغاز اور ہائیڈریشن چاہتے ہیں، جبکہ چیا دودھ ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور توانائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں۔ یوں وزن میں کمی کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے، اس کا انحصار فرد کے طرزِ زندگی اور جسمانی ضروریات پر ہوتا ہے۔
غذائی ماہرین روزانہ 1 سے 2 کھانے کے چمچ (تقریباً 15 سے 30 گرام) چیا سیڈز استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ابتدا میں کم مقدار سے آغاز کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ جسم فائبر کا عادی ہو سکے۔
ماہرین صحت اس بات پر بھی خبردار کرتے ہیں کہ چیا سیڈز کو کبھی بھی خشک حالت میں نہیں کھانا چاہیے۔ یہ بیج اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ پانی جذب کر لیتے ہیں، اور اگر انہیں بغیر بھگوئے استعمال کیا جائے تو یہ غذائی نالی میں پھول کر مسائل پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو نگلنے میں دشواری محسوس کرتے ہوں۔
پروٹین صحت مند جسم کے لیے نہایت ضروری غذائی جزو ہے، جو پٹھوں کی مضبوطی، جسمانی نشوونما اور توانائی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں عام طور پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انڈا بہتر ہے یا دودھ۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دونوں غذائیں اپنی جگہ مفید ہیں، تاہم ان کے فوائد مختلف ہیں۔
انڈا کو مکمل پروٹین کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔ ایک درمیانے سائز کے انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو پٹھوں کی تعمیر اور طاقت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ورزش کرنے والے افراد، نوجوانوں اور طلبہ کے لیے انڈا خاص طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ یہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس بھی دیتا ہے۔
دوسری جانب دودھ نہ صرف پروٹین بلکہ کیلشیم، وٹامنز اور معدنیات سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ ایک گلاس دودھ میں تقریباً 8 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ بچوں، خواتین اور بزرگ افراد کے لیے روزمرہ استعمال میں زیادہ موزوں ہے کیونکہ یہ مجموعی غذائیت فراہم کرتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق اگر مقصد صرف پروٹین حاصل کرنا ہو تو انڈا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مجموعی صحت، ہڈیوں کی مضبوطی اور غذائیت کے لیے دودھ بہتر انتخاب ہے۔ دونوں غذاؤں کو اعتدال کے ساتھ روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ہی صحت مند زندگی کی اصل کنجی ہے۔
سردیوں کا موسم آتے ہی بہت سے افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پرانی یا حتیٰ کہ معمولی چوٹیں بھی شدید درد کا باعث بننے لگتی ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ کیفیت محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے متعدد طبی اور موسمی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں جسم کی خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے زخمی حصے تک خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ خون کی روانی میں کمی کے باعث پٹھوں اور جوڑوں میں سختی پیدا ہو جاتی ہے، جو درد کو بڑھا دیتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو فریکچر، موچ یا جوڑوں کی تکلیف کا شکار رہ چکے ہوں۔
ماہرین کے مطابق سردیوں میں جسم کی مجموعی لچک کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے پٹھے جلد کھنچاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوا کے دباؤ اور نمی میں تبدیلی بھی جوڑوں اور پرانی چوٹوں میں درد اور سوجن کو بڑھا سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سرد موسم میں جسم کم متحرک ہو جاتا ہے، جس سے متاثرہ حصے کے اردگرد کے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں اور درد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں زخمی حصے کو گرم رکھا جائے، ہلکی پھلکی ورزش اور اسٹریچنگ کو معمول بنایا جائے اور اچانک ٹھنڈ کے اثر سے بچاؤ کیا جائے۔ اگر درد مسلسل بڑھتا جائے یا سوجن میں اضافہ ہو تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط اور درست طرزِ زندگی اپنا کر سردیوں میں چوٹوں کے درد کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گاجر نہ صرف ایک عام سبزی ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بے شمار فوائد کی حامل ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ گاجر کا استعمال جسمانی طاقت بڑھانے، بیماریوں سے بچاؤ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کی غذائی خصوصیات اتنی شاندار ہیں کہ اسے اپنی روزانہ خوراک میں شامل کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔
1. نظر کی حفاظت:
گاجر میں وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے، جو آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ خصوصیات آنکھوں کی روشنی بہتر کرتی ہیں، رات کے اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں اور عمر کے ساتھ آنے والے آنکھوں کے مسائل جیسے موتیا، دوربینی کی کمزوری اور دیگر بینائی کے مسائل کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔ بچوں اور بزرگوں کے لیے گاجر کو خوراک کا لازمی حصہ بنانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
2. مدافعتی نظام مضبوط بناتا ہے:
گاجر میں وٹامن سی اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ جسم کو وائرل اور بیکٹیریل انفیکشنز سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ سردیوں میں بار بار ہونے والی بیماریوں اور عام زکام سے بچاؤ کے لیے گاجر کا استعمال بہت مفید ہے۔ روزانہ گاجر کھانے سے جسم میں قدرتی حفاظتی طاقت بڑھتی ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
3. دل کی صحت بہتر کرتا ہے:
دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بھی گاجر نہایت فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم، فائبر اور دیگر غذائی اجزاء دل کی صحت کو برقرار رکھتے ہیں، خون کی روانی بہتر کرتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ باقاعدہ گاجر کا استعمال خون کی نالیوں میں چربی جمع ہونے سے روک کر دل کی بیماریوں کا امکان کم کر سکتا ہے۔
4. ہاضمے کے لیے مفید:
گاجر میں موجود فائبر ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور قبض جیسی شکایت کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ آنتوں کی حرکت کو معمول پر لاتا ہے، زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کرتا ہے اور مجموعی نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔ بچوں اور بوڑھوں دونوں کے لیے گاجر کا استعمال ہاضمے کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
5. کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے:
ماہرین کے مطابق گاجر میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں فری ریڈیکلز کے اثرات کم کرتے ہیں۔ فری ریڈیکلز وہ مادے ہیں جو جسم کے خلیات کو نقصان پہنچا کر کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ گاجر کا باقاعدہ استعمال جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط کر کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
6. جلد کی صحت کے لیے بہترین:
گاجر میں وٹامن اے اور دیگر غذائی اجزاء جلد کی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ یہ جلد کو تروتازہ اور ملائم بناتے ہیں، جلدی جھریوں اور دانوں کے اثرات کو کم کرتے ہیں، اور جلدی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ گاجر کے استعمال سے جلد پر قدرتی چمک آتی ہے اور یہ جلد کو باہر کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔
7. وزن کم کرنے میں مددگار:
گاجر میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بھوک کم کرتا ہے اور وزن کنٹرول میں مدد دیتا ہے۔ وزن کم کرنے یا برقرار رکھنے کے خواہشمند افراد کے لیے گاجر ایک بہترین سبزی ہے، کیونکہ یہ لمبے وقت تک پیٹ بھرا ہوا محسوس کراتی ہے اور جگر و ہاضمے کی صحت بھی بہتر بناتی ہے۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ گاجر کو کچی، ابلی ہوئی، یا جوس کی شکل میں روزانہ خوراک میں شامل کیا جائے تاکہ صحت کے تمام فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ بچوں، جوانوں اور بزرگوں سب کے لیے گاجر کا استعمال نہایت فائدہ مند اور ضروری ہے۔
سردیوں کے موسم میں غذائیت سے بھرپور سبزیوں کا استعمال صحت مند رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ سبزیاں قوتِ مدافعت بڑھانے، جسمانی توانائی فراہم کرنے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کے لیے چند ایسی موسمی سبزیوں کا ذکر کر رہے ہیں جو سردیوں میں خاص طور پر صحت کے لیے مفید ہیں۔
پالک:
سردیوں میں پالک کا استعمال نہایت مفید ہے کیونکہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، جو خون کی کمی اور تھکن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔ اس میں موجود مضبوط اینٹی آکسیڈنٹس خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
بٹرنٹ اسکواش:
یہ سبزی وٹامن اے اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے، جو ہاضمے کو بہتر بنانے اور قوتِ مدافعت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ بٹرنٹ اسکواش میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس خلیات کی حفاظت کرتے ہیں اور سوزش کو کم کرتے ہیں۔ سردیوں میں اس سبزی کو سوپ، سٹو یا سالن میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
گاجر:
گاجر میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو آنکھوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور گاجر جسم کو نزلہ، زکام اور فلو سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں گاجر کا استعمال نہ صرف غذائیت فراہم کرتا ہے بلکہ بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔
پتہ گوبھی (Kale):
پتہ گوبھی وٹامن اے، سی اور کے سے بھرپور ہوتی ہے، جو مدافعتی نظام اور ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں اور جسم میں سوزش کو کم کرتے ہیں۔ سردیوں میں پتہ گوبھی کو سالن یا سٹو میں استعمال کرنا صحت کے لیے مفید ہے۔
شکر قندی:
شکر قندی وٹامن اے اور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ہاضمے کو بہتر بناتی ہے اور مدافعتی نظام کو تقویت دیتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو سوزش اور خلیات کو نقصان پہنچنے سے بچاتے ہیں، جس سے سردیوں میں بیمار ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
برسلز اسپراؤٹ (چھوٹی بند گوبھی):
برسلز اسپراؤٹ وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے، جو ہاضمے اور مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو خلیات کی حفاظت کرتے ہیں اور جسم میں سوزش کو کم کرتی ہیں۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ سردیوں کے دوران یہ سبزیاں اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ قوتِ مدافعت مضبوط رہے اور جسمانی توانائی برقرار رہے۔
بلوچستان کے محکمہ صحت نے ملازمین کی حاضری کے لیے جدید AI نظام کا آغاز کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 13 ہزار ملازمین کی رجسٹریشن مکمل ہوئی، اور تمام ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس خودکار نظام سے حاضری کے ریکارڈ شفاف اور منظم ہو گئے ہیں اور غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی بھی اسی کے ذریعے کی جائے گی۔ محکمہ صحت کا منصوبہ ہے کہ 31 دسمبر تک باقی 23 ہزار ملازمین کی معلومات بھی شامل کر دی جائیں۔
سردیوں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی مولی کی مانگ میں واضح اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق روزمرہ غذا میں مولی کو شامل کرنا سردیوں میں صحت مند رہنے کا ایک مؤثر اور قدرتی طریقہ ہے۔ مولی نہ صرف ذائقے میں منفرد ہوتی ہے بلکہ غذائی اجزا سے بھرپور سبزی بھی سمجھی جاتی ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مولی کا باقاعدہ استعمال خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں سوزش کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سردیوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ مولی میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم کو موسمی بیماریوں سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ہاضمے کے مسائل سردیوں میں زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ اس موسم میں چکنائی اور بھاری غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ مولی میں فائبر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے، آنتوں کی حرکت کو درست رکھتی ہے اور قبض سے نجات دلانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مولی جگر اور گردوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ سرد موسم میں جسم کا میٹابولزم سست ہو سکتا ہے، ایسے میں مولی قدرتی ڈی ٹاکسیفائر کے طور پر کام کرتی ہے اور جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔
دل کی صحت کے لیے بھی مولی کو مفید قرار دیا جاتا ہے۔ سردیوں میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں تبدیلی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ مولی خون میں کولیسٹرول کو متوازن رکھنے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
سردیوں میں کم جسمانی سرگرمی کے باعث وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مولی کم کیلوریز والی سبزی ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس دیتی ہے، اس لیے وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مولی فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق مولی گلوکوز کے جذب کو کم کرتی ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔
سرد موسم میں جلد کی خشکی اور بالوں کی کمزوری عام مسئلہ بن جاتی ہے۔ مولی میں وٹامن سی اور پانی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جلد کو نمی فراہم کرتی ہے اور بالوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مولی کے بے شمار فوائد کے باوجود اگر کسی شخص کو معدے، گیس یا تیزابیت کی شکایت ہو تو اسے مولی کا استعمال اعتدال میں کرنا چاہیے۔
ایلو ویرا، جسے اردو میں عام طور پر صبر کی بوٹی کہا جاتا ہے، صدیوں سے جلد اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ جدید دور میں بھی اس کے فوائد کو تسلیم کیا جا چکا ہے اور دنیا کے کئی معتبر طبی و تحقیقی ادارے اس کے اثرات کی تصدیق کر چکے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور نیشنل سنٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن (NCBI) کی رپورٹس کے مطابق ایلو ویرا میں وٹامنز، معدنیات، امینو ایسڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو انسانی جسم اور جلد کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ایلو ویرا جلد کی حفاظت اور نمی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا جیل جلد کو گہرائی تک نمی فراہم کرتا ہے، خشکی کو کم کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم بناتا ہے۔ دھوپ، آلودگی یا سرد و خشک ہوا سے متاثرہ جلد کو سکون پہنچانے کے لیے بھی ایلو ویرا مؤثر مانا جاتا ہے۔
جلد پر خراش، معمولی زخم، جلن یا سن برن کی صورت میں ایلو ویرا جیل لگانے سے آرام ملتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایلو ویرا جلد کے خلیات کی مرمت کے عمل کو تیز کرتا ہے اور سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ایلو ویرا مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود پولی سکارائیڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں، جس سے انفیکشن اور مختلف بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھتی ہے۔
ہاضمے کے مسائل میں بھی ایلو ویرا فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایلو ویرا جوس یا سپلیمنٹ کا مناسب استعمال قبض، بدہضمی اور معدے کی جلن میں کمی لا سکتا ہے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
غذائیت کے اعتبار سے ایلو ویرا ایک خزانہ ہے۔ اس میں وٹامن A، C، E، B کمپلیکس کے علاوہ کیلشیم، میگنیشیم اور زنک جیسے اہم معدنیات شامل ہوتے ہیں، جو جسمانی توانائی، جلد کی تازگی اور بالوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔
ایلو ویرا میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات جسم میں فری ریڈیکلز کے منفی اثرات کو کم کرتی ہیں، جس سے بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے اور مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
استعمال کے طریقے:
جلد کی دیکھ بھال کے لیے ایلو ویرا جیل روزانہ چہرے یا جسم پر لگایا جا سکتا ہے، جبکہ صحت کے لیے ایلو ویرا جوس یا کیپسول کی صورت میں دن میں ایک یا دو بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ ایلو ویرا کو اعتدال میں اور ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جائے۔
سیب سے تیار کیے جانے والے دو مشہور مشروبات، یعنی ایپل جوس اور ایپل کا سرکہ، اکثر ایک جیسے سمجھے جاتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق ان دونوں کی غذائیت، بنانے کے طریقے اور صحت پر اثرات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں۔
بنانے کا طریقہ
ایپل کا سرکہ عام طور پر تازہ سیبوں کو پیس کر ان کا رس نکالنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ نہ زیادہ فلٹر کیا جاتا ہے اور نہ ہی زیادہ گرم، جس کی وجہ سے اس کا رنگ ہلکا سا دھندلا اور ذائقہ تیز ہوتا ہے۔ بعض اوقات ذائقہ بڑھانے کے لیے اس میں دارچینی یا دیگر مصالحے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب، ایپل جوس کو مکمل طور پر فلٹر اور پیسچرائز کیا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکے۔ اسی عمل کی وجہ سے اس کا رنگ صاف، شفاف اور ذائقہ نسبتاً میٹھا ہوتا ہے۔
کیلوریز اور شکر کی مقدار
ماہرین کے مطابق 8 اونس ایپل جوس میں تقریباً 110 کیلوریز اور 28 گرام قدرتی شکر پائی جاتی ہے، جبکہ اتنی ہی مقدار میں ایپل کے سرکے میں تقریباً 113 کیلوریز اور 24 گرام شکر ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ فرق زیادہ نہیں، تاہم بازار میں دستیاب کئی جوسز میں اضافی چینی شامل کی جاتی ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
صحت پر اثرات
چونکہ ایپل جوس اور ایپل کے سرکے دونوں میں فائبر اور پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے، اس لیے یہ جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ان مشروبات کو پروٹین یا فائبر والی غذا کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ شوگر لیول متوازن رہے۔
وٹامنز اور غذائیت
قدرتی طور پر ایپل جوس اور ایپل کے سرکے میں وٹامنز کی مقدار کم ہوتی ہے، تاہم کئی کمپنیاں اپنے جوس میں اضافی وٹامن سی شامل کرتی ہیں۔ دوسری طرف، ایپل کے سرکے میں کم پروسیسنگ کی وجہ سے پولی فینولز جیسے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو دل کی صحت بہتر بنانے اور بعض بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتے ہیں۔
وزن اور بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے ماہرین کے مشورے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہمیشہ 100 فیصد خالص ایپل جوس یا ایپل کے سرکے کا انتخاب کریں۔ مقدار کو محدود رکھیں اور روزانہ 4 سے 8 اونس سے زیادہ استعمال نہ کریں۔ جوس کو زیادہ صحت مند بنانے کے لیے اس میں تھوڑا پانی ملا کر پینا بہتر ہے۔
تاہم، سب سے بہترین اور صحت مند انتخاب پورا سیب کھانا ہے، کیونکہ اس طرح جسم کو فائبر، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزا مکمل طور پر حاصل ہوتے ہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ Epstein-Barr وائرس (EBV)، جو دنیا بھر میں تقریباً ہر انسان کے جسم میں پایا جاتا ہے، ایک خطرناک خود مدافعتی بیماری سیسٹیمک لوپس ایری تھی میٹوسس (لوپس) کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔
یہ تحقیق امریکا کی معروف اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے، جس کے نتائج طبی تحقیق سے متعلق ایک ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ہیں۔
عام سا وائرس، مگر اثرات خطرناک
ماہرین کے مطابق Epstein-Barr وائرس عموماً بچپن یا جوانی میں جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور زیادہ تر افراد میں یہ خاموشی سے موجود رہتا ہے، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بعض افراد میں یہی وائرس مدافعتی نظام کو گمراہ کر کے آٹو امیون بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
سائنسدانوں نے جدید سنگل سیل سیکوینسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے مدافعتی خلیات، جنہیں B-cells کہا جاتا ہے، کا تفصیلی مطالعہ کیا۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ:
لوپس کے مریضوں میں EBV سے متاثرہ B-cells کی تعداد
صحت مند افراد کے مقابلے میں تقریباً 25 گنا زیادہ تھی
یہ فرق وائرس اور لوپس کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
وائرس جسم کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق Epstein-Barr وائرس خلیات کو ایک خاص پروٹین EBNA2 بنانے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ پروٹین ایسے جینز کو متحرک کر دیتا ہے جو:
سوزش بڑھاتے ہیں
مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ فعال کر دیتے ہیں
نتیجتاً جسم کا دفاعی نظام اپنے ہی ٹشوز اور اعضاء پر حملہ شروع کر دیتا ہے، جس سے لوپس جیسی بیماری پیدا ہوتی ہے۔
لوپس کی بیماری دیکھنے میں کیسی لگتی ہے؟
لوپس کی علامات ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر عام طور پر یہ بیماری ظاہری طور پر بھی نظر آ سکتی ہے، جیسے:
چہرے پر تتلی کی شکل کا سرخ نشان (خاص طور پر ناک اور گالوں پر)
جلد پر سرخ دھبے یا دانے
بالوں کا غیر معمولی جھڑنا
آنکھوں کے نیچے سوجن
ہاتھوں اور پاؤں میں سوجن
جسمانی کمزوری اور تھکن
جوڑوں میں درد اور اکڑاؤ
کچھ مریضوں میں یہ بیماری اندرونی اعضاء جیسے گردے، دل اور پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
لوپس کیا ہے؟
لوپس ایک دائمی (Chronic) بیماری ہے، یعنی یہ مرض کئی مہینوں یا برسوں تک انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
اس بیماری میں مدافعتی نظام، جو عام طور پر وائرس اور جراثیم سے لڑتا ہے، خود جسم پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
ابھی تک:
لوپس کی حتمی وجہ پوری طرح معلوم نہیں
اور نہ ہی اس کا مکمل علاج دریافت ہو سکا ہے
البتہ ادویات کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
جوار کی روٹی ایک غذائیت سے بھرپور اور صحت مند خوراک ہے جو ہر عمر کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ یہ گلوٹن فری ہونے کے ساتھ ساتھ فائبر، پروٹین اور اہم معدنیات سے بھی بھرپور ہے، جس کی وجہ سے اسے اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل کرنا ایک بہترین انتخاب ہے۔ جوار کی روٹی ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے کیونکہ اس میں موجود فائبر آنتوں کی حرکت کو متوازن رکھتا ہے اور قبض یا دیگر ہاضمے کے مسائل سے نجات دلاتا ہے۔
یہ روٹی جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتی ہے کیونکہ جوار کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ دن بھر کام کرنے یا سرگرم رہنے کے لیے جسم کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور جوار کی روٹی اس ضرورت کو پورا کرنے میں بہترین کردار ادا کرتی ہے۔ مزید برآں، جوار دل کی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور دل کی کارکردگی بہتر بناتا ہے، جس سے قلبی امراض کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
جوار کی روٹی بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں بھی مددگار ہے۔ اس کا گلیسیمک انڈیکس نسبتاً کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے خون میں شوگر کی سطح آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور توانائی طویل وقت تک برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ جوار میں موجود زنک، آئرن اور اینٹی آکسیڈنٹس جسمانی قوتِ مدافعت کو بڑھاتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف جسم کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ روٹی دیر تک پیٹ بھر رکھتی ہے، جس سے غیر ضروری کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے اور وزن کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
جوار کی روٹی کو اپنی غذا میں شامل کرنا بھی آسان ہے۔ آپ اسے روایتی طریقے سے توے یا چولہے پر بنا کر دال، سبزی یا سالن کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ اگر چاہتے ہیں تو آٹے میں تھوڑا سا گندم یا جو ملا کر بھی روٹی تیار کی جا سکتی ہے تاکہ یہ نرم اور مزیدار ہو جائے۔ روزانہ کی خوراک میں جوار کی روٹی شامل کرنے سے نہ صرف غذائیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ صحت مند اور توانائی بخش زندگی گزارنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
بارش کا موسم آتے ہی دل چاہتا ہے کہ کچھ گرم اور لذیذ کھایا جائے۔ لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صرف ذائقہ دیکھ کر نہیں، بلکہ صحت کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس موسم میں لوگ اکثر گھر کے بنے ہوئے ہلکے اسنیکس کو ترجیح دیتے ہیں، اور واقعی یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔
گرم پکوڑے، کرارے سموسے، اُبلی ہوئی مکئی، مونگ پھلی، سبزیوں کے ہلکے کباب اور گھر کی بنی ہوئی چنا چاٹ بارش کے دنوں میں بہترین انتخاب ہیں۔ یہ چیزیں نہ صرف مزے دار ہیں بلکہ زیادہ تر محفوظ بھی رہتی ہیں۔ ساتھ میں ادرک والی گرم چائے، دودھ پتی یا ہربل قہوہ پی کر آپ جسم کو ٹھنڈ سے بچا سکتے ہیں اور مزاج بھی خوشگوار رہتا ہے۔
لیکن یاد رکھیں، اس موسم میں کھلے بازار کے غیر معیاری اسنیکس یا بہت زیادہ تلی ہوئی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ پیٹ کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ گھر کے بنے اور تازہ اسنیکس ہی آپ کو بارش کے اس حسین موسم کا لطف صحت مند طریقے سے اٹھانے دیں گے۔
پالتو جانوروں سے محبت کرنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ایک فطری بات ہے، لیکن ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ انہیں بوسہ دینا یا اپنا منہ ان کے قریب لے جانا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کتے اور بلیاں اپنے منہ میں ایسے جراثیم رکھتے ہیں جو انسانوں میں بیماری پھیلا سکتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پالتو جانوروں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ انہیں چومنا معمول بن جاتا ہے، مگر یہ عادت مختلف انفیکشنز کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے منہ میں زخم ہو یا اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو پالتو جانوروں کو چومنے سے بیماری لگنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ جانوروں کے منہ میں موجود بیکٹیریا بعض اوقات انسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، جو سنگین انفیکشن کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں پیار کریں، گود میں اٹھائیں، لیکن منہ سے چومنے یا بہت زیادہ قربت سے پرہیز کریں۔
صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ احتیاط کو بھی اپنایا جائے۔
اکثر لوگ کان صاف کرنے کے لیے ایئر بڈز یا روئی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
ای این ٹی (کان، ناک، گلا) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر بڈز یا روئی کان میں ڈالنے سے میل صاف نہیں ہوتا بلکہ الٹا وہ مزید اندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس سے کان میں درد، انفیکشن اور بعض اوقات کان کے پردے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کان میں موجود ایئر ویکس (کان کا میل) دراصل قدرتی حفاظتی نظام کا حصہ ہوتا ہے، جو کان کو دھول، مٹی اور جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ میل عام طور پر خود بخود باہر آ جاتا ہے اور اسے زبردستی نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ کان کے مسائل کی وجہ غلط طریقے سے کان صاف کرنا ہے، خاص طور پر ایئر بڈز یا روئی کا استعمال۔
اگر کسی شخص کو یہ محسوس ہو کہ کان میں میل زیادہ جمع ہو گیا ہے، یا سننے میں دقت، درد یا جلن ہو رہی ہے تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خود سے کان صاف کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کانوں کی صفائی میں لاپرواہی سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط نہایت ضروری ہے۔
ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین میں کلینیکل ڈپریشن کا جینیٹک امکان مردوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا زیادہ ہے۔
آسٹریلوی سائنسدانوں کی اس تحقیق کو سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع کیا گیا ہے، جس میں دو لاکھ سے زائد افراد کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ خواتین میں وہ جینیٹک نشانیاں تقریباً دوگنی پائی گئی ہیں جو ڈپریشن سے منسلک ہوتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق خواتین میں تقریباً 13,000 جینیٹک مارکرز جبکہ مردوں میں صرف 7,000 مارکرز ڈپریشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ جودی تھامس کے مطابق یہ فرق سمجھنا مستقبل میں ذاتی نوعیت کے علاج کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ جینیٹک فرق خواتین میں ہارمونز اور میٹابولزم پر اثر انداز ہوتا ہے، جو ذہنی صحت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہر نفسیات برٹنی مچل کے مطابق یہ نتائج علاج کے نئے اور بہتر طریقے وضع کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، کیونکہ ماضی میں زیادہ تر مطالعات مردوں پر مرکوز رہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ افراد کلینیکل ڈپریشن کا شکار ہیں، جن میں خواتین کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔