حکومت بلوچستان نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں محکمہ ترقیِ نسواں کے لیے 74 ملین روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ہنہ اُورک، کوئٹہ میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے حوالے موسمیاتی مزاحم گھر کیے گئے ہیں۔
یہ منصوبہ جرمن حکومت، یو این ڈی پی اور حکومت بلوچستان کے تعاون سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بجٹ مشاورتی اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں تعلیم، صحت، روزگار اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل عوامی فلاح اور متوازن ترقی کے لیے استعمال کیے جائیں گے تاکہ تمام علاقوں کو یکساں ترقی کے مواقع میسر آ سکیں۔
بلوچستان حکومت کے ڈیجیٹل اور شفاف حکمرانی کے وژن کے تحت ڈی جی پی آر نے ڈیجیٹل میڈیا رجسٹریشن پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔
اس اقدام سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل پبلشرز کو حکومتی نظام سے منسلک ہو کر نئے مواقع حاصل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی حیثیت میں بہتری آئی ہے اور ملک نے عالمی سطح پر اپنا مثبت تشخص مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے عسکری قیادت کی کارکردگی اور قومی یکجہتی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے پر کہا کہ خون کا ایک عطیہ کسی انسان کے لیے زندگی اور امید کا پیغام بن سکتا ہے۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ خون عطیہ کرنے کی روایت کو فروغ دے کر انسانیت کی خدمت اور قیمتی جانوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی بجٹ کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا۔
اجلاس میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا اور تمام جماعتوں کی تجاویز کو شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات، مقامی حکومتوں کے نظام، صحت، قانون و انصاف اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے نئے پولیس اسٹیشنز، نرسنگ گریجویٹس کے وظیفے، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ترامیم اور متعدد انتظامی
بلوچستان حکومت نے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے 400 سے زائد مزدور بچوں کو اسکالرشپس پر تعلیمی اداروں میں داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بچوں کو تعلیم اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو کراچی میں جدید آئی ٹی اور پروفیشنل کورسز کی مفت تربیت دی جائے گی۔ تربیت کے دوران رہائش و ٹرانسپورٹ مفت ہوگی جبکہ کامیاب شرکاء کو ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے مظفرآباد کے قریب آرمی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے افسران و جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے بلند درجات اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ضلع دکی میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے شمسی سولرائزیشن اپ گریڈ اسٹیشن کی منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے سے طویل لوڈشیڈنگ میں کمی اور علاقے میں معاشی و سماجی سرگرمیوں میں بہتری متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے سول اسپتال کوئٹہ میں لیڈی پی جی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
حکومت نے متاثرہ ڈاکٹر کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ملزم کی جلد گرفتاری کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو کی مجموعی کارکردگی اور ویکسینیشن سے متعلق ڈویژنل ٹاسک فورس کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ای او سی انعام الحق، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈی ایچ اوز، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، ای پی آئی نیشنل پروگرام اور دیگر متعلقہ اداروں و پارٹنرز کے افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنرز پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن سمیت دیگر ضلعی افسران آن لائن شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو گزشتہ انسدادِ پولیو مہمات، ٹیموں کی کارکردگی، ویکسینیشن کی صورتحال، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ بلاک پولیو وائرس کی نقل و حرکت کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے۔ جنوری 2025 سے اب تک حاصل کیے گئے تقریباً 64 سیمپلز میں سے 31 مثبت پائے گئے ہیں، جبکہ وائرس کی منتقلی کی بڑی وجوہات میں آبادی کی نقل و حرکت شامل ہے۔ حکام کے مطابق کوئٹہ بلاک میں پولیو وائرس سندھ اور افغانستان سے منتقل ہو رہا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ پولیو مہمات کے دوران زیرو ڈوز بچوں کی کوریج میں بہتری آئی ہے، تاہم بعض یونین کونسلوں میں مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ٹیم کوریج اور مانیٹرنگ نظام میں بہتری کے باعث اہداف کے حصول میں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ آئندہ مہمات میں بھی سخت نگرانی جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے غیر حاضر اور ڈیفالٹر ویکسینیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر فعال مراکز صحت کو فوری طور پر فعال بنایا جائے اور پولیو مہم کے دوران مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے پارٹنر اداروں کو بھی ہدایت کی کہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پلان اور مانیٹرنگ پلان پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ زیرو ڈوز بچوں اور ڈیفالٹر کیسز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ انہوں نے محکمہ صحت اور دیگر شراکت دار اداروں کو مراکز صحت کے مسلسل دورے کرنے اور غیر فعال مراکز و غیر حاضر عملے کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت دی۔
اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے تناظر میں بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ واپس بھجوائے جانے والے افغان مہاجرین کو روانگی سے قبل لازمی طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں تاکہ وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر ٹیموں کی رسائی، مانیٹرنگ اور ویکسینیشن کوریج کو مؤثر بنائیں۔ انہوں نے حساس یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ دینے اور والدین کو بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے آمادہ کرنے کی مہم مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ بلوچستان کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔
کوئٹہ: ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کی روشنی میں ائیرپورٹ روڈ پر نالے کے اوپر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا، جس کے دوران نالے پر قبضہ کرنے والے 22 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق تجاوزات کے باعث نالے کا پانی بند ہو کر سڑک پر بہہ رہا تھا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات اور آمد و رفت میں رکاوٹ کا سامنا تھا۔
کارروائی کے دوران اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے قانونی اقدامات کرتے ہوئے نالے پر قبضہ کرنے والوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ائیرپورٹ روڈ یا شہر کے کسی بھی حصے میں تجاوزات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نالوں پر قبضہ کر کے پانی کے قدرتی راستے بند کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سہولت، نکاسیٔ آب کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایسے آپریشنز آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے ایک اہم انتظامی اور سیکیورٹی فیصلہ کرتے ہوئے سبی اور لورالائی ڈویژن کے تمام ریونیو ایریاز کو باضابطہ طور پر اے- ایریا قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری مکمل طور پر بلوچستان پولیس کے سپرد کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 اور بلوچستان لیویز فورس ایکٹ 2025 کے تحت کیا گیا ہے، جس کی منظوری صوبائی کابینہ نے دی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سبی اور لورالائی ڈویژن میں خدمات انجام دینے والی صوبائی اور سابق وفاقی لیویز فورس، بشمول سی پیک (CPEC) ونگ کے اہلکاروں کو ان کے موجودہ عہدوں، تنخواہوں، سروس اسٹرکچر اور مراعات کے ساتھ بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی لیویز فورس سے متعلق تمام وسائل، جن میں بجٹ، اسلحہ، گولہ بارود، ناکے، چیک پوسٹس، سرکاری گاڑیاں، ریکارڈ، تفتیشی امور، تربیتی ادارے اور دیگر انفراسٹرکچر شامل ہیں، فوری طور پر بلوچستان پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کو مقامی اور خصوصی قوانین کے نفاذ کے لیے پولیس نفری فراہم کر سکیں۔
حکومتِ بلوچستان نے کمشنر سبی اور کمشنر لورالائی کو ہدایت کی ہے کہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے 30 دن کے اندر اندر لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی اور انضمام کا عمل مکمل کیا جائے۔
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا، جس میں سوئی ٹاؤن کی مجموعی ترقی، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری اور مستقبل کی پائیدار منصوبہ بندی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) سکندر میمن، رکن قومی اسمبلی میاں خان بگٹی، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی زوہیب الحق، چیئرمین میونسپل کمیٹی عزت امان بگٹی سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت سوئی ٹاؤن میں انٹرنل ڈویلپمنٹ اور شہری خوبصورتی کے جامع منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا، جن کے ذریعے علاقے کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ منصوبے میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، نکاسیٔ آب کے مؤثر نظام، صاف پانی کی فراہمی، اسپورٹس گراؤنڈ اور جدید سہولیات سے آراستہ بس ٹرمینل کی تعمیر شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو معیاری شہری سہولیات فراہم کرنا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سوئی کو ایک منظم، خوبصورت اور پائیدار شہر میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سوئی ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ معاہدے کے مطابق منصوبے کے لیے اپنے حصے کے وسائل بروقت فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، اعلیٰ معیار اور بروقت تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور منصوبہ بندی کو عوامی ضروریات اور مقامی حقائق سے مکمل طور پر ہم آہنگ رکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوئی کی ترقی نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ علاقے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور خطے کی مجموعی سماجی و معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جو 31 جنوری تک نافذ العمل رہیں گے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں اسلحہ کی نمائش، گاڑیوں میں کالے شیشوں کا استعمال، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، نقاب پوشی، چار سے زائد افراد کے اجتماع اور ہر قسم کی ریلیوں، جلوسوں اور جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدام عوام کی جان و مال کے تحفظ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں سے تعاون کریں اور دفعہ 144 کے نفاذ پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے اکتیس دسمبر دو ہزار پچیس تک 1122 بلوچستان نے قومی اور بین الصوبائی شاہراہوں پر پچیس ہزار سے زائد حادثات اور طبی ایمرجنسیز پر فوری رسپانس فراہم کیا، جبکہ تیس ہزار سے زائد زخمیوں کو بروقت طبی امداد دے کر قیمتی جانیں بچائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں قائم 1122 مراکز نے مجموعی طور پر 25 ہزار 484 حادثات پر ریسپانس دیا، جن میں 33 ہزار 972 زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان حادثات کے نتیجے میں 430 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 3 ہزار 259 مریضوں کو او پی ڈی سہولیات فراہم کی گئیں۔
ریسکیو ٹیموں نے جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ صوبے کے دور دراز علاقوں تک اپنی خدمات جاری رکھیں۔ خضدار اور ژوب کے ٹراما سینٹرز سمیت مختلف مراکز میں ہزاروں زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی گئی، جس سے اموات کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
قومی شاہراہ این 25، این 50، این 65، این 85 اور این 10 پر قائم ریسکیو مراکز نے دن رات خدمات انجام دیں، جبکہ مکران ڈویژن کے علاقوں میں بھی ریسکیو ٹیموں نے کم وسائل کے باوجود مؤثر کارکردگی دکھائی۔حکام کے مطابق بروقت رسپانس، بہتر کوآرڈینیشن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث ہزاروں قیمتی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں قومی شاہراہوں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جن کی تکمیل کے بعد ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے، اور مستقبل میں ریسکیو نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
کوئٹہ: رواں سال 2025 میں بلوچستان پولیس نے صوبے بھر میں منشیات، غیرقانونی اسلحہ، جرائم اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق منشیات کےخلاف صوبے بھر میں مجموعی طور پر 1507 مقدمات درج کیے گئ،۔ منشیات کے ان مقدمات میں مجموعی طور پر 1589 افراد کو گرفتار کیا گیا. برآمد ہونے والی منشیات میں چرس، ہیروئن، پوست، شیشہ، کرسٹل اور شراب شامل ہیں۔ غیرقانونی اسلحہ اور بارودی مواد کے خلاف کارروائیوں کے دوران صوبے بھر میں 1438 مقدمات درج کیے گئے، اس سلسلے میں مجموعی طور پر 1447 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ برآمد اسلحے میں ایس ایم جی، ایل ایم جی، رائفلز، میگزین، گولیوں کے راؤنڈز اور دھماکہ خیز مواد شامل تھا۔دیگر کارروائیوں میں بلوچستان پولیس نے رواں سال 111 گاڑیاں اور 880 موٹر سائیکلیں ریکور کیں، جبکہ 286 موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے۔ غیرقانونی پیٹرول کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 121,477 لیٹر پیٹرول اور 234,766 لیٹر ڈیزل ضبط کیا گیا، جبکہ صوبے بھر میں 1110 غیرقانونی پیٹرول پمپس سیل کیے گئے۔ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے رواں سال صوبے بھر میں 249,206 ٹریفک چالان کیے گئے، جبکہ مختلف جرائم میں ملوث مجموعی طور پر 14,344 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار بلوچستان پولیس کی جرائم کے خاتمے، عوامی تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے جاری بھرپور کوششوں کا عکاس ہیں، اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔