ڈپٹی کمشنر لورالائی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو پروگرام کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران واٹر سپلائی اسکیم، واٹر فلٹریشن پلانٹ اور فٹ پاتھ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے منصوبوں کو مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کرنے، کام کی رفتار تیز کرنے اور عوامی فلاح سے متعلق اسکیموں کی مؤثر نگرانی کی ہدایت کی۔
کوئٹہ میں چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے گورنر کی منظوری کے بعد سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں اہم ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت ہڑتال، دھرنا، نجی اداروں میں شمولیت اور سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت اسٹریٹجک ترقیاتی منصوبوں پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی، توانائی، شہری ترقی، سکیورٹی اور انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں میں تیزی، شفافیت اور معیار پر زور دیا گیا۔
ژوب ریجن میں قومی شاہراہ N-50 پر درمیانی سے شدید برف باری کے بعد سڑک کو محفوظ رکھنے کے لیے برف ہٹانے اور آئسنگ سے بچاؤ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ تمام مشینری اور عملہ موقع پر موجود ہے۔
پاکستان نے تاجکستان کو حلال گوشت کی برآمدات کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافے کے اثرات کے باعث پاکستان میں ہفتے کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ چاندی کی قیمت نئی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے بلوچستان پولیس کے شہداء پیکج میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت شہداء کے لواحقین، دورانِ ڈیوٹی زخمی اہلکاروں، پولیس ملازمین کی شادی اور فوت ہونے والے اہلکاروں کی بیواؤں کے لیے مالی معاونت میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آئی جی پولیس کے مطابق شہداء اور ان کے اہل خانہ پولیس فورس پر حق رکھتے ہیں۔
ایف آئی اے بلوچستان زون نے کوئٹہ میں حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران غیر ملکی و مقامی کرنسی، موبائل فونز اور دیگر شواہد برآمد کیے گئے، جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمن قمبرانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جامع روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے۔ کیو ایم سی کی تنظیم نو، صفائی کے نظام میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن، شجرکاری مہم اور شہری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں آئندہ دنوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا، جبکہ شمالی اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید سردی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔ کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل سمز کے استعمال سے متعلق قوانین مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہر صارف صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم ہی استعمال کر سکتا ہے۔ کسی دوسرے کے نام کی سم کا استعمال غیر قانونی ہوگا اور سم کے ذریعے ہونے والی تمام سرگرمیوں کی قانونی ذمہ داری سم مالک پر عائد ہوگی۔
کوئٹہ میں نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی ٹیکنیکل ٹیم اور بلوچستان کمیشن برائے خواتین کے نمائندگان کے درمیان نیشنل جینڈر پیریٹی فریم ورک کی تیاری سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں صنفی مساوات، ڈیٹا کے مؤثر استعمال اور جینڈر انٹیگریشن پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں ان کی عوامی خدمت، جمہوری سوچ اور قومی یکجہتی کے لیے جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا اور نوجوانوں کو ان کی جدوجہد سے رہنمائی لینے کی تلقین کی۔
اردو ادب کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر کی 31ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور بچپن سے ہی ادب اور شاعری میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ ان کا پہلا شاعری مجموعہ خوشبو 1976 میں شائع ہوا، جو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوا۔
پروین شاکر کی شاعری میں محبت، جذبات اور خواتین کے تجربات کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا گیا، جس نے انہیں اردو ادب میں نمایاں مقام دلایا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سول سروس میں خدمات انجام دیں، لیکن شاعری اور ادبی سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ سرگرم رہیں۔ ان کے اشعار میں عورت کے جذبات، رومانویت اور جدید موضوعات کا حسین امتزاج واضح طور پر نظر آتا ہے۔
بدقسمتی سے پروین شاکر 24 دسمبر 1994 کو اسلام آباد میں ایک حادثے کے نتیجے میں وفات پا گئیں، جب ان کی عمر صرف 42 سال تھی۔ تاہم ان کے اشعار آج بھی اردو ادب کے قارئین کے دلوں میں زندہ ہیں اور مختلف ادبی محافل میں پڑھے اور سراہے جاتے ہیں۔
صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے حنہ روڈ ترقیاتی منصوبے کا دورہ کرکے جاری کاموں کا معائنہ کیا، رفتار تیز کرنے اور بروقت تکمیل کی ہدایات جاری کیں۔
سکیورٹی خدشات اور انتظامی وجوہات کے باعث بلوچستان سے اندرونِ صوبہ اور ملک کے مختلف حصوں کے لیے معطل کی گئی ٹرین سروس ایک روز کے تعطل کے بعد بحال کر دی گئی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق صورتحال معمول پر آ چکی ہے اور ٹرینیں اپنے شیڈول کے مطابق روانہ ہو رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اٹھارویں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں کبھی اندھا دھند طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا، جبکہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے منظم منفی بیانیوں سے گمراہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تعلیم، صحت اور حکمرانی میں اصلاحات، بند اسکولوں کی بحالی اور بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام سمیت مختلف ترقیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
پاکستان کو پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل پر شواہد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے بلوچستان اور سندھ کے ماحولیاتی صحافیوں کے لیے WRAP پروگرام کے تحت میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا انعقاد کیا گیا۔ دورے کے دوران صحافیوں کو جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز، زیرِ زمین پانی کے استعمال، اور توانائی کے بغیر چلنے والے ہائیڈرولک ریم پمپ جیسے حلوں کا مشاہدہ کرایا گیا، جو پانی کے مؤثر استعمال، کسانوں کی آمدن میں اضافے اور پالیسی سازی کے لیے مستند ڈیٹا کی فراہمی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری اور دیگر اقلیتوں کی صوبے کی ترقی میں خدمات قابلِ قدر ہیں اور بلوچستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق اور تحفظ حاصل ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 149ویں یومِ پیدائش کے موقع پر اپنے پیغام میں ایمان، اتحاد اور تنظیم کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے نئی نسل کو قائداعظمؒ کے افکار اپنانے کی تلقین کی۔