کوئٹہ میں عالمی یومِ خصوصی افراد کے موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیراہتمام خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر عصمت اللہ قریش اور پارلیمانی سیکرٹری ولی محمد نورزئی نے شرکت کی۔ حکومت بلوچستان نے خصوصی افراد کے لیے ’’کومک پروگرام‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس کے تحت تعلیمی اسکالرشپس، بلاسود قرضے، مالی معاونت، ماہانہ وظیفے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد معذور نہیں بلکہ معاشرے کا قابل فخر اور باصلاحیت سرمایہ ہیں۔
بی ایس ڈی آئی کے تحت کوہلو میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ انجنیئر عالم بلوچ نے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے جاری کاموں کا جائزہ لیا اور معیاری تعمیرات کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔ عوامی حلقوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے بہتری کے نئے امکانات کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پروانشل ہارڈن دی اسٹیٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، نیشنل و پروانشل ایکشن کمیٹیوں کے فیصلوں پر پیش رفت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، 3561 غیر قانونی پیٹرول پمپس سیل کیے گئے اور کسٹمز حکام نے تین ماہ کے دوران 416 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضبط کیں۔ وزیراعلیٰ نے کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اوچ گروپ آف کمپنیز کے وفد کی ملاقات کے دوران بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور اوچ گروپ کے درمیان اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت ایک جرمن کمپنی حب میں 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید انرجی اور آئل ریفائنری قائم کرے گی، جس سے روزگار اور معاشی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر پبلک ٹوائلٹس نہ ہونے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئ ۔
کوئٹہ میں خواتین سماجی کارکنوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے ۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر روز مسافروں کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے ۔ درخواست کے مطابق بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر پبلک ٹوائلٹس نہ ہونے سے خواتین اور بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود مسلے کو حل نہیں کیا گیا ۔ درخواست میں اے سی ایس ، این ایچ اے ، سیکرٹری مواصلات اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے
کوئٹہ میں جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی سنگِ بنیاد رکھنے کی اہم تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی وزراء، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے خطاب میں صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ صحافیوں کو صرف پلاٹس نہیں بلکہ تعمیر شدہ فلیٹس فراہم کیے جائیں گی، جبکہ شہید صحافیوں کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری 2027 کو فلیٹس حوالے کر دئیے جائیں گے۔
حکومت بلوچستان نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے نوجوان انجینئرز کے لیے ایک منظم تربیتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ پروگرام کے تحت فارغ التحصیل انجینئرز کو چھ ماہ کی تربیت اور ماہانہ پچاس ہزار روپے مشاہرہ فراہم کیا جائے گا، جبکہ پہلے بیچ میں تین سو انجینئرز یکم جنوری 2026 سے تربیت حاصل کریں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گرلز ہائی سکول کینٹ لورالائی کی طالبات کی درخواست پر فوری طور پر اسکول کے لیے بس فراہم کر دی۔ اس سہولت سے طالبات کا سفر محفوظ اور آسان ہو گیا ہے۔ ہیڈ مسٹریس شمشاد انجم ملغانی نے وزیراعلیٰ اور کمشنر لورالائی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اساتذہ اور والدین نے اسے تعلیم دوست اقدام قرار دیا۔
کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اپنی یونیورسٹی کی رینکنگ بہتر بنانے اوراسکورنگ کو 60 فیصد سے زائد کرنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ اگر جامعات اپنے معیارِ تعلیم اور انتظامی امور میں بہتری لائیں تو اس سے نہ صرف بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی علمی ساکھ بھی مستحکم ہوگی۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز بیوٹمز یونیورسٹی کے 13ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کے دوران گورنر ہاؤس کوئٹہ میں کہی۔ اجلاس میں صوبائی سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ ، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر کلیم اللہ بابر، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میرویس کاسی، ایچ ای سی کے نمائندہ انجینئر محمد رضا چوہان فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری عارف اچکزئی سمیت سینیٹ کے دیگر اراکین شریک تھے۔
گورنر مندوخیل نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام بھی ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران سینیٹ اراکین کی تجاویز کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے جو آئندہ تعلیمی و انتظامی اصلاحات میں مددگار ثابت ہوں گے۔
کوئٹہ : ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ادارہ برائے عمر رسیدہ (اولڈ ایج ہوم) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سپروائزر اور عملے سے ملاقات کر کے ادارے کے انتظامی امور اور فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے معذور اور عمر رسیدہ خواتین سے بات چیت کی، ان کے مسائل سنے اور ان سے نہایت خلوص کے ساتھ گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین میں گرم شالیں بھی تقسیم کیں تاکہ سرد موسم میں انہیں سہولت میسر ہو۔
ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ادارے کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بزرگ افراد ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا احترام و خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
کوئٹہ کے قریب مچھ میں سوئی سدرن گیس کی 18 انچ پائپ لائن کی ہنگامی مرمت مکمل کرلی گئی ہے۔ تکنیکی ٹیم نے 24 گھنٹے کام کرکے شگاف بند کیا۔ سیکیورٹی وجوہات کے باعث گیس کی ترسیل بدھ کی صبح بحال ہوگی۔
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ اطلاعات کے آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ کے غیر قانونی ٹھیکوں، قواعد کی خلاف ورزی اور 9 ارب روپے کے اخراجات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نے بتایا کہ 800 میں سے 600 کیمرے غیر فعال ہیں، جس سے منصوبہ ناکام ہوا۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں انکوائری کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں کیس نیب کو بھیجا جائے گا۔
محکمہ جیل خانہ جات کے 11.3 ملین روپے کے ٹیکس نقصان پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کی، جبکہ جیلوں میں سہولیات اور عملے کی تنخواہوں میں بہتری کی سفارش کی گئی۔
محکمہ اطلاعات کی جانب سے 424.7 ملین روپے اشتہارات پر خرچ کیے گئے، مگر 56.5 ملین روپے کا ٹیکس نہیں کاٹا گیا، جس پر کمیٹی نے سخت نوٹس لیا اور 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ پی اے سی شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کوئٹہ اسپنی روڈ اور گرد و نواح میں بی ایف اے حکام نے گوشت کی دکانوں سمیت مختلف خوراک کے مراکز کا معائنہ کیا۔
معائنہ کے دوران دو بیف شاپس کے خلاف بارہا تنبیہ نوٹسز کے باوجود دکانوں کے باہر گوشت لٹکانے، دکانوں میں مکھیوں کی بھرمار، آلودہ کٹنگ اوزار اور میٹ کی نامناسب پراسیسنگ پر کارروائی کی گئی۔
ایک ملک شاپ کے خلاف مکھن میں فنگل گروتھ، گندے ریفریجریٹرز، کیڑے مکوڑوں کی روک تھام کے ناقص انتظامات اور ورکرز کا بغیر ماسک و ہیڈ کورز کام کرنے پر ایکشن لیا گیا۔
اسی طرح، ایک بیکری کے خلاف ایکسپائرڈ مصنوعات کی موجودگی اور ورکرز کی ذاتی صفائی کے خراب حالات سمیت مختلف وجوہات پر کارروائی کی گئی۔
بی ایف اے حکام نے کہا کہ یہ اقدامات عوامی صحت کے تحفظ اور خوراک کی صفائی و معیار کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔