کیچ، بلوچستان: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک بڑی منشیات کی سمگلنگ ناکام بنا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اے این ایف نے خفیہ اطلاعات پر ضلع کیچ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے قریب کارروائی کی، جس دوران ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران پلاسٹک کے کینز میں چھپائی گئی منشیات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔
برآمد شدہ منشیات میں 99 کلوگرام آئس، 50 کلوگرام افیون اور 73 کلوگرام چرس شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 3 کروڑ 26 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن اے این ایف منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اے این ایف منشیات سمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے مزید کارروائیاں کر رہی ہے۔ مسلسل نگرانی اور بروقت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اے این ایف کی کارروائیاں منشیات کی ترسیل کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
یہ کامیاب کارروائی اینٹی نارکوٹکس فورس کے منشیات کے خلاف فرنٹ لائن کردار کو ظاہر کرتی ہے۔
کوئٹہ: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت کرسمس کی خوشیوں کے موقع پر مسیحی برادری کو گورنمنٹ فنڈ کی فراہمی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی سنجے کمار ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، روشن خورشید بروچہ سمیت مسیحی برادری، لاچی برادری، سکھ اور ہندو برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ کرسمس سے قبل مسیحی برادری کے لیے گورنمنٹ فنڈ کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی ہے، جو کرسمس سے پہلے تمام مستحق افراد کو موصول ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اقلیتوں کے مسائل کے حل اور ان کی خوشیوں میں شراکت کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی سے ملاقات میں کہا کہ محدود وسائل اور بڑھتے مسائل کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے ثمرات معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات تک پہنچنا چاہیے اور تمام اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
گورنر نے بنیادی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں، اسکولوں اور صحت کی سہولیات کی بہتری سے اقتصادی پیداوار، معیار زندگی اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے۔
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے جمعہ کے روز پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں مکمل کیے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا باضابطہ افتتاح کیا۔
وزیر اعلیٰ نے پولیس ٹریننگ کالج آمد پر شہدائے پولیس کی یادگار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک و صوبے کے امن و استحکام کے لیے دعا کی۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ نے جدید طرز پر تعمیر شدہ فٹ بال گراؤنڈ اور نیو میس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج میں سہولیات کی بہتری کا مقصد پولیس جوانوں کو بہتر تربیتی ماحول، معیاری رہائش اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے فرائض پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بلوچستان پولیس نے مشکل حالات میں ریاستی رِٹ کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔ حکومت بلوچستان پولیس کی فلاح و بہبود، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے نہ صرف ادارے کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں گے بلکہ زیر تربیت اور حاضر سروس پولیس اہلکاروں کی جسمانی، ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی بہتری لائیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت وسائل کی دستیابی کے مطابق بلوچستان پولیس کو جدید سہولیات فراہم کرتی رہے گی تاکہ پولیس فورس کو ایک مضبوط، باصلاحیت اور مؤثر ادارہ بنایا جا سکے۔
اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ شہزاد اکبر اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔
کوئٹہ میں بلوچستان کی زمینوں کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان اور لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی اور لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 25 اضلاع میں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GIS) کی مدد سے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت زمینوں کا ریکارڈ جدید، محفوظ اور شفاف نظام سے منسلک ہوگا، جس سے زمینوں سے متعلق امور میں بہتری اور عوام کو سہولت میسر آئے گی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن صوبے میں شفافیت، بہتر گورننس اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بدعنوانی کے امکانات میں کمی آئے گی اور عوام کو زمینوں کے حصول، منتقلی اور تصدیق جیسے معاملات میں نمایاں آسانی فراہم ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے منصوبے پر مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
تقریب میں صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، ممبر بورڈ آف ریونیو بشیر احمد بنگلزئی، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
نادرا اور حکومتِ بلوچستان کے اشتراک سے کوئٹہ میں ڈیجیٹل سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپ کے پائلٹ مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
منصوبے کا افتتاح سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و رورل ڈویلپمنٹ بلوچستان عبدالرؤف بلوچ نے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر نادرا (آر ایچ او کوئٹہ) فیاض الرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ثناء اللہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا و انچارج سی آر ایم ایس ضیاء الرحمٰن بھی موجود تھے۔
حکام کے مطابق اس موبائل ایپ کے ذریعے شہری پیدائش، وفات، نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن آن لائن کر سکیں گے۔ نادرا سے منسلک ہونے کے باعث نظام کے تحت فارم ب کے اجرا کا عمل بھی خودکار ہو جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے شہریوں کو سہولت، شفافیت اور تیز رفتار خدمات فراہم کی جائیں گی، جبکہ پائلٹ مرحلہ کامیاب ہونے کی صورت میں اسے مرحلہ وار پورے بلوچستان میں نافذ کیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے پوست کی غیر قانونی کاشت روکنے کے لیے جامع اقدامات پر زور دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے اب تک 3700 ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست کی فصلیں تلف کی ہیں اور بیج کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو سخت اقدامات اور موثر کوآرڈینیشن کی ہدایات دی گئی ہیں
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز شروع کر دیے ہیں اور متعدد غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملک بدری کی کارروائیاں قانون کے مطابق تیزی سے جاری رہیں گی۔
نوکنڈی میں عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے گھٹ واٹر سپلائی اسکیم کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر کو روزانہ 30 ہزار گیلن پانی فراہم کیا جائے گا، جس سے علاقے میں پانی کی قلت کے مسئلے کے حل کی توقع ہے۔
خضدار پریس کلب کی تعمیر نو، توسیع اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ بی ایس ڈی آئی ٹیم اور محکمہ مواصلات و تعمیرات نے پریس کلب کا تفصیلی دورہ کر کے تجاویز پیش کیں۔ منصوبے سے صحافیوں کو جدید اور بہتر سہولیات دستیاب ہوں۔
کوئٹہ میں عالمی یومِ خصوصی افراد کے موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیراہتمام خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر عصمت اللہ قریش اور پارلیمانی سیکرٹری ولی محمد نورزئی نے شرکت کی۔ حکومت بلوچستان نے خصوصی افراد کے لیے ’’کومک پروگرام‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس کے تحت تعلیمی اسکالرشپس، بلاسود قرضے، مالی معاونت، ماہانہ وظیفے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد معذور نہیں بلکہ معاشرے کا قابل فخر اور باصلاحیت سرمایہ ہیں۔
بی ایس ڈی آئی کے تحت کوہلو میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ انجنیئر عالم بلوچ نے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے جاری کاموں کا جائزہ لیا اور معیاری تعمیرات کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔ عوامی حلقوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے بہتری کے نئے امکانات کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پروانشل ہارڈن دی اسٹیٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، نیشنل و پروانشل ایکشن کمیٹیوں کے فیصلوں پر پیش رفت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، 3561 غیر قانونی پیٹرول پمپس سیل کیے گئے اور کسٹمز حکام نے تین ماہ کے دوران 416 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضبط کیں۔ وزیراعلیٰ نے کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اوچ گروپ آف کمپنیز کے وفد کی ملاقات کے دوران بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور اوچ گروپ کے درمیان اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت ایک جرمن کمپنی حب میں 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید انرجی اور آئل ریفائنری قائم کرے گی، جس سے روزگار اور معاشی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر پبلک ٹوائلٹس نہ ہونے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئ ۔
کوئٹہ میں خواتین سماجی کارکنوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے ۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر روز مسافروں کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے ۔ درخواست کے مطابق بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر پبلک ٹوائلٹس نہ ہونے سے خواتین اور بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود مسلے کو حل نہیں کیا گیا ۔ درخواست میں اے سی ایس ، این ایچ اے ، سیکرٹری مواصلات اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے
کوئٹہ میں جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی سنگِ بنیاد رکھنے کی اہم تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی وزراء، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے خطاب میں صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ صحافیوں کو صرف پلاٹس نہیں بلکہ تعمیر شدہ فلیٹس فراہم کیے جائیں گی، جبکہ شہید صحافیوں کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری 2027 کو فلیٹس حوالے کر دئیے جائیں گے۔
حکومت بلوچستان نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے نوجوان انجینئرز کے لیے ایک منظم تربیتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ پروگرام کے تحت فارغ التحصیل انجینئرز کو چھ ماہ کی تربیت اور ماہانہ پچاس ہزار روپے مشاہرہ فراہم کیا جائے گا، جبکہ پہلے بیچ میں تین سو انجینئرز یکم جنوری 2026 سے تربیت حاصل کریں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گرلز ہائی سکول کینٹ لورالائی کی طالبات کی درخواست پر فوری طور پر اسکول کے لیے بس فراہم کر دی۔ اس سہولت سے طالبات کا سفر محفوظ اور آسان ہو گیا ہے۔ ہیڈ مسٹریس شمشاد انجم ملغانی نے وزیراعلیٰ اور کمشنر لورالائی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اساتذہ اور والدین نے اسے تعلیم دوست اقدام قرار دیا۔
کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اپنی یونیورسٹی کی رینکنگ بہتر بنانے اوراسکورنگ کو 60 فیصد سے زائد کرنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ اگر جامعات اپنے معیارِ تعلیم اور انتظامی امور میں بہتری لائیں تو اس سے نہ صرف بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی علمی ساکھ بھی مستحکم ہوگی۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز بیوٹمز یونیورسٹی کے 13ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کے دوران گورنر ہاؤس کوئٹہ میں کہی۔ اجلاس میں صوبائی سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ ، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر کلیم اللہ بابر، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر میرویس کاسی، ایچ ای سی کے نمائندہ انجینئر محمد رضا چوہان فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری عارف اچکزئی سمیت سینیٹ کے دیگر اراکین شریک تھے۔
گورنر مندوخیل نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام بھی ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران سینیٹ اراکین کی تجاویز کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے جو آئندہ تعلیمی و انتظامی اصلاحات میں مددگار ثابت ہوں گے۔
کوئٹہ : ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ادارہ برائے عمر رسیدہ (اولڈ ایج ہوم) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سپروائزر اور عملے سے ملاقات کر کے ادارے کے انتظامی امور اور فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے معذور اور عمر رسیدہ خواتین سے بات چیت کی، ان کے مسائل سنے اور ان سے نہایت خلوص کے ساتھ گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین میں گرم شالیں بھی تقسیم کیں تاکہ سرد موسم میں انہیں سہولت میسر ہو۔
ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ادارے کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بزرگ افراد ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کا احترام و خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔